پی ٹی ایم کے علی وزیر کو کون، کیوں اور کیسے ختم کرنا چاہتا ہے

پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر پر پولیس حراست میں تشدد کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ٹی ایم رہنما کو وکیل تک رسائی دی جائے اور انکی زندگی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اس سے پہلے علی وزیر کے اہل خانہ اور پی ٹی ایم کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر علی وزیر کی جان کو خطرے سے متعلق خبریں جاری کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ علی وزیر پر حراست میں تشدد کیا جا رہا ہے اور ان کو کرونا وائرس کی آڑ میں جان سے مارے جانے کا بھی خدشہ ہے۔ یاد ریے کہ علی وزیر کو چند روز قبل کراچی میں پابندی کے باوجود جلسہ کرنے کے جرم میں پشاور میں گرفتار کیا گیا تھا۔ علی وزیر 16 دسمبر کو آرمی پبلک اسکول سکول حملے میں شہید ہونے والے طلباء کے ورثا سے اظہار ہمدردی کے لیے پشاور پہنچے تھے۔ گرفتاری کے بعد پشاور کی مقامی عدالت نے انہیں ٹرانزٹ وارنٹ پر سندھ پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا جہاں علی وزیر اور ساتھیوں کے خلاف کراچی میں بغیر اجازت جلسہ منعقد کرنے اور حساس اداروں کے خلاف نفرت آمیز تقاریر کرنے کے الزامات میں ایف آئی آر درج ہے۔ ایک ویڈیو پیغام میں علی وزیر کے بھائی ملک رحمت اللہ نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے علی وزیر کی زندگی کی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا۔ علی وزیر کے بھتیجے عالمگیر وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے چچا علی وزیر کو جیل میں شوگر کا ضروری علاج نہیں مہیا کیا جا رہا اور انہیں یہ بھی خدشہ ہے کہ انہیں کسی بیماری کا شکار کر کے حراست میں ہی قتل کر دیا جائے گا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن ڈاکٹر سید عالم مسعود نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ذرائع نے بتایا ہے کہ ”کورونا یا کسی اور بیماری کے بہانے علی وزیر کے قتل کی سازش رچی جا رہی ہے“۔ پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی نے بھی ایک بیان میں متنبہ کیا کہ اگر علی وزیر کو کچھ ہوا تو اس کے نتائج پاکستانی حکومت کے تصور سے ماورا ہونگے۔ تاہم ممبر قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سندھ حکومت کے عہدیداروں نے یقین دلایا ہے کہ علی وزیر کراچی میں محفوظ ہیں۔ واضح رہے کہ علی وزیر کے پخلاف پانچ ماہ قبل 7 جولائی کو کراچی کے سہراب گوٹھ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس روز پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر اہتمام وہاں جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ مذکورہ ایف آئی آرمیں علی وزیر کے علاوہ منظور پشتین، محسن داوڑ، ثنا اعجاز، ڈاکٹر سید عالم مسعود، عبداللہ ننگیال اور دیگر رہنماؤں کے نام بھی شامل ہیں لیکن ابھی تک صرف علی وزیر کو ہی گرفتار کیا گیا ہے۔

اس دوران پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے بھی علی وزیر کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو ریاست مخالف ہونے کے الزامات پر مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کمشن کا کہنا ہے کہ بطور شہری، اظہار رائے علی وزیر کا آئینی حق ہے۔ انہیں جس طرح سے گرفتار کیا گیا، وہ ایچ آر سی پی کے لیے باعث تشویش ہے۔ ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ علی وزیر کہ زندگی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور انہیں جلد از جلد رہا کیا جائے۔ ایچ آر سی پی کے جنرل سیکرٹری حارث خلیق کا کہنا ہے کہ ریاستی ستونوں پر جب بھی حملہ کیا جائے تو دنیا کی کوئی بھی ریاست اس پر ردعمل ضرور دیتی ہے۔ لیکن علی وزیر کے معاملے میں ایک مخصوص صورت حال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے خیالات سابقہ قبائلی علاقوں میں طویل جنگ کے بعد متاثرین کا غم و غصہ اور ان کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی وزیر محض سیاسی کارکن ہی نہیں، بلکہ ایک منتخب پارلیمنٹیرین بھی ہیں، اور اس معاملے میں اسپیکر کا ایک کردار ہوتا ہے۔ اس میں پارلیمان کا کردار ہونا چائیے۔ کیونکہ یہ لوگوں کے منتخب نمائندے ہیں۔
کمشن کے جنرل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ علی وزیر کے خیالات سے اتفاق یا اختلاف ضرور کیا جا سکتا ہے۔ مگرحکومت کو بھی یہ دیکھنا چاہیئے کہ سیاسی مخالفین کو کسی نہ کسی طرح مختلف مقدمات میں الجھا کر ان کی آوزاوں کو دبانا حکومت کے لئے اچھا ہے اور نہ ہی یہ ریاست کی بقاء اور معاشرے کے لئے سود مند۔

دوسری جانب پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں علی وزیر کے گھر کے 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ان کے والد، بھائی اور بھتیجے بھی شامل ہیں۔ جب کہ ریاستی اداروں نے ان 18 افراد میں سے کسی ایک کے بھی قاتل کو گرفتار نہیں کیا۔ لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ پشتین کے مطابق جب تک ریاست انصاف فراہم نہیں کرے گی، اس وقت تک عام کے لوگوں کے لہجوں کو کنٹرول نہیں کر پائی گی۔ وہ علی وزیر کی محض تقریر کی بناء پر گرفتاری کو ناانصافی کی طویل داستانوں کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس گرفتاری پر صرف انسانی حقوق کمیشن ہی کو نہیں بلکہ ہر کسی کو اس عمل کی مزاحمت کرنی چائیے۔ انہوں نے لہا کہ علی وزیر نے کسی پُر تشدد کارروائی میں حصہ لیا ہو تو ان کے خلاف ضرور کارروائی کی جائے۔ لیکن منظور پشتین کے خیال میں ایسا کچھ نہیں۔ منظور پشتین نے علی وزیر کی گرفتاری کو مکمل طور پر ناانصافی قرار دیتے ہوئے اس کی پُر زور مذمت کی اور انہیں جلد رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب سندھ پولیس کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات پر رکن قومی اسمبلی کی گرفتاری پر سندھ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سندھ میں برسر اقتدار پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس گرفتاری کی مذمت کی تھی۔ بلاول کا کہنا تھا کہ علی وزیر کی اس طرح گرفتاری جمہوی روایات کے خلاف ہے۔ منتخب نمائندوں کو عوامی اجتماعات سے خطاب کرنے سے روکنا غلط ہے جب کہ ان کے خلاف درج مقدمات بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب اراکین اسمبلی کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا فاشسٹ حکومتوں کا وطیرہ رہا ہے تاکہ عوامی آوزاوں کو دبایا جا سکے۔ لیکن اس مقصد کے لئے پیپلز پارٹی کی سندھ پولیس کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس سوال پر کہ سندھ پولیس کی کارروائی پر سندھ حکومت کی مکمل خاموشی اور پھر وہاں برسر اقتدار جماعت کے چیئرمین بلاول بھٹو کی تنقید کیا معنی رکھتی ہے، انسانی حقوق کمشن کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق کا کہنا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور لوگ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بہت سے سرکاری محکموں میں وفاقی اداروں کا عمل دخل بے حد زیادہ ہے جو صوبوں کے معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے اور ایسا نہیں ہونا چائیے۔ حارث خلیق کا یہ بھی کہنا ہے کہ سندھ حکومت کا موقف وفاق کے مقابلے میں پی ٹی ایم کے بارے میں مختلف رہا ہے۔ اور یہ ہم نے اپوزیشن کی موجودہ تحریک میں بھی دیکھا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں بے شک پی ٹی ایم کے بیانیے سے اتفاق نہ کرتی ہوں لیکن ان میں پی ٹی ایم کے رہنماوں کی تلخ باتوں کو سننے کا حوصلہ ضرور ہے۔ ان کے خیال میں یہ ہی زیادہ مناسب رد عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ علی وزیر کو پولیس حراست میں کرونا کی آڑ میں ختم کرنے کے حوالے سے خبریں تشویشناک ہیں اور سندھ حکومت کو ان کی زندگی کی ضمانت دینی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button