چارنوجوانوں کی ہلاکت کے بعد کشمالہ طارق کی آنسوؤں بھری پریس کانفرنس

محتسب برائے ہراسیت کشمالہ طارق نے گزشتہ رات کے واقعے سے متعلق پریس کانفرنس اپنے خاوند اور بیٹے پر لگنے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ قانون اپنا رستہ ضرور بنائے لیکن میڈیا ہم پر بے جا الزامات نہ لگائے۔ہمارا کوئی قافلہ نہیں تھا صرف دو گاڑیاں تھیں۔ہم نے گزشتہ رات ساڑھے دس بجے کے قریب ٹول پلازہ کراس کیا۔دو گاڑیوں میں ہم لاہور سے آرہے تھے ایک میں میں اور میرے خاوند اور دوسری میں میرا بیٹا اور پولیس گارڈ تھے۔
انہوں نے کہا کہ آئی جی ایس ایس پی وہاں اس جگہ کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج تمام میڈیا کو دیں۔ہماری دونوں گاڑیاں ہمارے ڈرائیور چلا رہے تھے۔ جہاں ہمارے ڈرائیورز کی غلطی ہے وہیں پر اس گاڑی کے ڈرائیور کی بھی غلطی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چار قیمتی جانیں چلی گئیں میں نے ان کے لیے بہت دعائیں کیں۔ ہم بہت عجیب صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں، ہماری جان بھی جاسکتی تھی۔ حادثہ کوئی منصوبہ بنا کر نہیں کرتا کوئی تیار ہوکر اس کے لیے نہیں جاتا۔ بڑی تکلیف دہ بات ہے وہ خاندان جس کا اتنا بڑا نقصان ہو گیا۔ میرے پاس ان ماؤں کے ساتھ تعزیت کے لیے الفاظ نہیں۔
کشمالہ طارق نے کہا کہ میڈیا ہمارا ٹرائل کر رہا ہے ہم دو گاڑیوں میں تھےکوئی قافلہ نہیں تھا۔ میری وزیر اعظم سے التجا ہے کہ وہ ایف ڈبلیو او سے فوٹیج لیں دیکھیں۔جو سچ ہے اس پر ضرور ایکشن لیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر یک طرفہ کہانی نہیں ہونی چاہیے۔ میرے بیٹے کی تصویریں چلا کر سنسنی پھیلائی جارہی ہے۔ ایمبولینس کو خود میرے خاوند اوربیٹے نے کال کی۔ میرا بیٹا اور خاوند خود چل کر تھانے گئے۔ میری درخواست ہے کہ جو سچ ہے وہ ضرور دکھائیں بغیر ثبوت الزامات نہ لگائے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دوگاڑیوں میں سوار تھے، میں اور میرا شوہر ایک گاڑی میں جبکہ بیٹا پچھلی گاڑی میں تھا، ڈرائیور سےگاڑی کنٹرول نہیں ہوئی، مجھے بھی چوٹیں آئیں، مس رپورٹنگ کرکے کسی کے بچے کو واقعے میں ناحق نہ لپیٹیں۔ وفاقی محتسب برائے ہراسانی کا حادثے پر وضاحتی بیان-
انہوں نے اسلام آباد میں گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے پر اپنی وضاحتی بیان میں کہا کہ کل لاہور سے شام 7 کے قریب نکلے، ہم ساڑھے 10بجے کے قریب ٹول پلازہ کراس کیا، ہم دوگاڑیوں میں سوار تھے، میں اور میرا شوہر ایک گاڑی میں تھے، کشمیر ہائی وے پر ایک دم جھٹکا لگا، مجھے چوٹ بھی آئی،ڈرائیور سے گاڑی کنٹرول نہیں ہوئی۔یہ خوفناک اور بہت بڑا حادثہ تھا، حادثے میں جو بچے جاں بحق ہوئے ان کیلئے دل بہت پریشان ہے ،ہم خود بچوں والے ہیں، میرے پاس کہنے کیلئے الفاظ نہیں ہیں، انسانی جانوں کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔
میرا بیٹا اور شوہر تھانے بھی گئے، میرا بیٹا پچھلی گاڑی میں تھا، جب اس کی ماں اگلی گاڑی میں مررہی تھی تو وہ پچھلی گاڑی سے نکل کر بھاگتا ہوا آیا، اسی نے مجھے گاڑی سے نکالا تھا، آئی جی سے درخواست ہے سی سی ٹی وی فوٹیج اور سیف سٹی فوٹیج دیکھی جائے، مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ یہ کس قسم کا میڈیا ٹرائل ہے،اس حادثے کی سی سی ٹی وی ویڈیو دیکھی جائے،حادثے کے واقعے میں اگر ہمارا کوئی قصور ہو، یا ہم گاڑی چلا رہے ہوں، تو ہم ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں، میرے بیٹے کی تصاویر دکھائی جارہی ہیں ، جبکہ وہ پچھلی گاڑی میں سوار تھا۔
انصاف ہوگا لیکن کسی کے بچے کو واقعے میں ناحق نہ لپیٹیں۔ زبردستی سارا مدعا میرے بیٹے پر ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مس رپورٹنگ نہ کی جائے مہربانی کرکے جو سچ ہے وہ دکھایا جائے۔ حادثے کے وقت ہم وہاں سے بالکل نہیں بھاگے تھے، ہم نے خود ایمبولینس بلائی تھی۔ واضح رہے انٹرنیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں خواتین کی مخصوص نشستوں پرسابق رکن قومی اسمبلی اور محتسب برائے جنسی ہراسانی کشمالہ طارق کے پروٹوکول میں شامل گاڑیوں نے سگنل توڑتے ہوئے مہران کار کو ٹکر ماری، جس سے مہران کار میں سوار 4 نوجوان جاں بحق جبکہ ایک موٹرسائیکل سوار سمیت 2 افراد زخمی ہوگئے۔
واقعے کا مقدمہ پولیس تھانہ رمنا میں اس حادثے میں زخمی ہونے والے شخص مجیب الرحمان کی مدعیت میں وفاقی محتسب برائے جنسی ہراسانی کشمالہ طارق کے بیٹے اذلان کے خلاف بھی درج کیا گیا ہے۔ مدعی کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں انیس شکیل، فاروق احمد، حیدر علی اور ملک عادل کے ہمراہ مانسہرہ سے انسداد منشیات فورس کے لیے انٹرویو دینے کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق سگنل پر سفید رنگ کی لیکسز گاڑی نے ٹریفک سنگل توڑتے ہوئے ان کی مہران کار کو ٹکر ماری جس سے کار پلٹی اور آگے موجود موٹرسائیکل سے ٹکرائی اور اس کے نتیجے میں کار میں سوار افراد کے علاوہ موٹر سائیکل سوار بھی شدید زخمی ہوا۔ مدعی نے بتایا کہ جب انہیں کار سے نکالا جارہا تھا تو جائے وقوع پر موجود لوگ گاڑی کے ڈرائیور کا نام اذلان بتارہے تھے بعدازاں لوگوں نے زخمیوں کو پمز ہسپتال منتقل کیا تاہم ہسپتال پہنچنے پر چاروں مذکورہ بالا نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے. مذکورہ واقعے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور عوام کی جانب سے سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا جس پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا گیا کہ ڈرائیور اور مذکورہ گاڑی پولیس کی تحویل میں ہے اسلام آباد پولیس نے یقین دہانی کروائی کہ پولیس قانون کے مطابق عمل کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی. ایک اطلاع کے مطابق پولیس نے کشمالہ طارق کے شوہر وقاص خان کو حراست میں لے کر تھانہ رمنا منتقل کر دیا جب کہ کشمالہ طارق کا بیٹا اور قافلے میں شامل دیگر افراد موقع سے فرار ہو گئے تاہم پولیس نے کشمالہ طارق کے شوہرکی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button