چاہتا ہوں موقع ملتے ہی آئینی طریقے سے حکومت کو گرا دوں

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہرپاکستانی کوپتاہےیہ لوگ نالائق اورنااہل ہیں۔ملک کوسلیکٹڈنہیں عوامی نمائندوں کی ضرورت ہے۔حکومت اپنے کام کی بجائے اپوزیشن کوگالی دیتی ہے. چاہتاہوں آئینی طریقے سے موقع ملتےہی حکومت گرادوں لیکن پیپلز پارٹی کسی غیرجمہوری سازش میں شریک نہیں ہوگی،
لاہورمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ یا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ جو جو وعدہ کیا اسے آگے بڑھ کر نبھایا. امید ہےشہبازشریف واپس آکراپوزیشن لیڈرکاکرداراداکریں گے۔ن لیگ کےبغیرہم کچھ نہیں کرسکتے، ہماراتیسرانمبرہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات کرکے عوام کے مفاد میں معاہدہ کرے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے، حکومت کی اپنی رپورٹ کے مطابق مہنگائی بڑھی ہے لیکن حکومت جواب دینے کے بجائے گالم گلوچ اور کردار کشی کرتی ہے، تاہم عوام کے مسائل اور معاشی قتل پر اسمبلی میں آواز اٹھاتے رہیں گے۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘اسٹیٹ بینک کہہ رہا ہے کہ کسی اور حکومت نے 15 ماہ میں اتنا قرض نہیں لیا جتنا اس حکومت نہیں لیا ہے جبکہ وفاقی ریونیو بورڈ ایف بی آر ٹیکس ٹارگٹ پورا نہیں کر سکا۔’ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘کہنے کو تو قومی اسمبلی کا پچھلا سیشن مہنگائی پر بات کرنے کے لیے تھا لیکن حکومت کی طرف سے کسی ایک وزیر نے مہنگائی اور معاشی قتل پر جواب نہیں دیا۔’
انہوں نے کہا کہ ‘پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی آواز بلند کی ہے، موجودہ حکومت نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے، پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ ان کی تنخواہ میں اضافہ پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا اور پیپلز پارٹی نے عوام کے حقوق اور مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت بھی آئی ایم ایف تھا لیکن پیپلز پارٹی نے اپنے ملک اور عوام کے حقوق پر سودے بازی نہیں کی، ان کو تو کچھ معلوم ہی نہیں ہے اور نالائق اور نااہل حکومت پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل لے کر آئی جو عوام دشمن معاہدہ ہے۔’ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ‘عوام کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے معیشت چلانا مشکل کام نہیں ہوتا لیکن اس کے لیے سلیکٹ نہیں الیکٹ ہونا پڑتا ہے۔’ انہوں نے ایک بار پھر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پی ٹی آئی ایم ایف معاہدہ پھاڑ کر پھینک دے اور آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کریں اور عوام کے مفاد میں معاہدہ کریں۔
شہباز شریف سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘امید ہے کہ وہ جلد واپس آکر اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کریں گے۔’
چیئرمن پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا کا کہنا تھا کہ معاشی حالات، انسانی جمہوری حقوق پر قدغن اور میڈیا پر پابندیوں کے بعد میں میں تو چاہوں گا کہ موقع ملتے ہی حکومت گرا دوں، مجھے بتائیں کہ حکومت گرانے کے کتنے طریقے ہیں ؟ آئینی، جمہوری اور قانونی طریقے سے حکومت ہٹانا چاہتا ہوں، غیر جمہوری سازش نہیں کریں گے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا آئی ایم ایف کے پاس ہم بھی گئے مگر ان کی ہر شرط نہیں مانی، ہم نے دہشتگردی کا مقابلہ کیا ، جنگ لڑی، دو سیلابوں کا مقابلہ کیا پھر بھی ہمارے دور میں تنخواہوں میں سوا سو فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا، اس حکومت کا کوئی اسٹیک ہی نہیں ہے اس لئے آئی ایم ایف کی ہر شرط مان رہے ہیں۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ فاشسزم ہے، آج تحریک انصاف وہ کردار ادا کر رہی ہے جو 90ء میں (ن) لیگ کا تھا، اگر ترقی میٹرو سے ہے تو پھر میں اس کے سامنے ہار چکا ہوں، سمجھ نہیں آتی پنجاب کو عثمان بزدار کے ہاتھ میں دے کر عمران خان کیسے سوجاتے ہیں، خیبرپختونخواہ میں پتا ہی نہیں کہ وزیر اعلی کون ہے، میں اس حکومت کے خلاف تحریک کیلئے تمام طبقات سے رابطے کرنے نکلا ہوں، حکومت کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود ان کے خلاف اپنی جدوجہد کرتے رہیں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کو بتانا ہے کہ ان کا اسٹیک انتخاب، سیاست، معیشت میں ہونا چاہئے، عوام کا اسٹیک نہیں ہوگا تو پھر ریاست کیسے چلے گی، سنا ہے کہ ملک کے نامور ادارے اب مہنگائی کی تحقیقات کریں گے، اداروں کو ان معاملات سے دور رہ کر اپنی شان برقرار رکھنی چاہئے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا پارلیمنٹ میں بطور اپوزیشن انتہائی اہم کردار ہے، ہم ان کے بغیر کچھ کر نہیں سکتے ہم تیسرے نمبر پر ہیں، ہم نے اپوزیشن میں ساتھ مل کر چلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، (ن) لیگ یا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ جو جو وعدہ کیا اسے آگے بڑھ کر نبھایا، مولانا کے دھرنے سے قبل سب ساتھ تھے، مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اچھے تعلقات تھے لیکن اب سب کے سامنے ہے، تالی تو دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ویسے تو پاکستان میں کئی سیاسی جماعتیں ہیں اور سب کا اپنا اپنا کردار ہے لیکن اس ملک کے عوام فیصلہ کریں گے کہ وہ کس جماعت سے خوش ہیں، تاہم میں تمام اپوزیشن جماعتوں سے کہنا چاہوں گا کہ اگر پاکستان کے عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم اپنے لیے اور ان کے لیے کام نہیں کرتے، اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ضرورت کے وقت ہم موجود نہیں تھے تو اگلے الیکشن میں پوچھیں گے کہ آپ کہاں تھے۔’
بلاول بھٹو نے صحافی عزیز میمن کے قتل کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے پر صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں، ساتھ ہی پیشکش کی کہ مقتول کے اہل خانہ جس طرح کی تفتیش چاہتے ہیں وہ تعاون کے لیے تیار ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ مہنگائی بڑھے گی تو عمران خان کو برا بھلا کہا جائے گا اور مقتدر حلقوں پر بھی آنچ آئے گی۔ بلاول کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو بنانا اور اسے کھڑا کرنا 2008ء میں ہی شروع ہو گیا تھا۔
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ یہ ملک کا واحد وزیراعظم ہے جو کشمیر پر قومی اتفاق رائے نہیں بنا سکا۔
