چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے اپنے خلاف سازش ناکام بنا دی


سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے بطور ایڈہاک جج سپریم کورٹ جانے سے باقاعدہ انکار کر دیا ہے اور عارضی جج بنائے جانے کی آڑ میں سندھ ہائی کورٹ سے فارغ کرنے کی کوشش ناکام بنا کر جوڈیشل کمیشن کو شرمندہ کر دیا ہے۔
جسٹس شیخ کے انکار کے بعد وکلا برادری کا کہنا ہے کہ اب یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جانے سے انکار کے کوئی منفی نتائج نہیں ہوں گے اور جسٹس احمد علی شیخ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس برقرار رہیں گے۔ انکا۔کہنا ہے کہ اگر جسٹس شیخ یہ پیشکش قبول کر لیتے تو بھی وہ چیف جسٹس ہائی کورٹ رہتے کیونکہ ان کی جگہ سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض انجام دیتے۔ اس سے پہلے پاکستان بار کونسل کے نائب صدر خوشدل خان نے جے سی پی کی جانب سے جسٹس احمد علی شیخ کی رضامندی کے بغیر عدالت عظمیٰ میں بطور ایڈہاک جج تعیناتی کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آئین کی دفعہ 182 کی خلاف ورزی ہے کیوں کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج مقرر نہیں کیا جاسکتا اور صرف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا کوئی ریٹائرڈ جج ہی عدالت عظمیٰ میں بطور ایڈہاک جج تعینات کیا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب جسٹس احمد علی شیخ کا کہنا ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی پیشکش پر مشکور ہیں لیکن ان کا جواب وہی ہے جو پہلے تھا یعنی وی سپریم کورٹ نہیں جانا چاہتے۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے 5 اگست کو جے سی پی کو لکھے گئے خط میں یہ تاثر رد کردیا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں بطور ایڈہاک جج بننے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں سپریم کورٹ کا مستقل جج مقرر کیا جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ ایڈہاک جج بنائے جانے کی تجویز کی منظوری کو مسترد کرنے والے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جے سی پی کے تمام اراکین کو کہا ہےکہ انہیں کمیشن کے فیصلے کے بارے میں معلوم ہوا جس کے لیے وہ مشکور ہیں لیکن ان کا جواب وہی رہے گا جو پہلے تھا۔
یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن میں تحریری دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے جسٹس احمد علی شیخ سے سنجیدگی سے درخواست کی تھی کہ سندھ کے عوام اور سندھ ہائی کورٹ کے ادارے کے مفاد کے لیے اپنے مؤقف پر نظرِثانی کریں اور جوڈیشل کمیشن کی پیشکش قبول کرلیں۔ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں 5 کے مقابلے 4 کی اکثریت سے فیصلہ کیا گیا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کو ایک سال کی مدت کے لیے سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج بننے کے لیے مدعو کیا جائے گا بشرطیکہ وہ اپنی رضامندی ظاہر کریں۔ یاد رہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپنی مرضی کے ججز کی تعداد بڑھانے کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے 28 جولائی کے روز سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کی بجائے ایک جونئیر جسٹس علی مظہر کو سپریم کورٹ کا مستقل جج لگانے کی منظوری دی تھی جسے وکلا برادری نے یکسر مسترد کردیا تھا۔ بعد ازاں 10 اگست کو کمیشن نے احمد علی شیخ کو ایڈہاک جج لگانے کی منظوری دی تاکہ وکلا کا شکوہ دور ہو تاہم پاکستان بار کونسل اور وکلا برادری نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ احمد علی شیخ کو ان کے واضح انکار کے باوجود سپریم جوڈیشل کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ کا ایڈہاک جج مقرر کرنے کی کوشش کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ اعلی عدلیہ یہ غیر آئینی کام اس لیے کرنا چاہتی تھی تا کہ سندھ ہائی کورٹ میں اپنی مرضی کا چیف جسٹس لایا جا سکے۔ تاہم جسٹس شیخ نے انکار کرکے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

Back to top button