ڈونلڈ ٹرمپ اورنریندرامودی کا یارانہ کس وجہ سے ختم ہوا؟

بھارت میں مذہبی آزادیوں کے حوالے سے ایک امریکی کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے بعد ماضی قریب میں پیار کی پینگیں بڑھانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا ہنی مون ختم ہوتا نظر آتا ہے۔
امریکا سے بہترین تعلقات کی خواہشمند بھارتی قیادت کو بڑا دھچکا لگا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ، وائٹ ہاؤس اور امریکی صدر کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ‘ان فالو’ کردیا ہے۔ چند دن قبل ہی وائٹ ہاؤس نے بھارتی وزیر اعظم، امریکا میں بھارتی سفارتخانے، صدر رام کووند اور دیگر کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر فالو کرنا شروع کردیا تھا۔ اس پیشرفت کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے فالو کیے جا رہے اکاؤنٹس کی تعداد 19 ہو گئی تھی جس سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ معاشی سطح پر بڑھنے والی قربتیں اب سفارتی سطح پر بھی بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مودی دنیا کے واحد رہنما ہیں جنہیں وائٹ ہاؤس اور امریکی صدر کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے فالو کیا جا رہا ہے۔
تاہم اب وائٹ ہاؤس، ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی صدر کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ نے بھارتی وزیر اعظم سمیت ان تمام اکاؤنٹس کو دوبارہ ان فالو کردیا ہے جس سے یہ تعداد واپس 13ہو گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بات کی کوئی واضح وجہ بیان تو نہیں کی گئی لیکن غالب امکان ہے کہ یہ اقدام امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی مرتب کردہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں بھارتی حکومت کی کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
حال ہی میں جاری امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مذہبی آزادی کی ممکنہ طور پر سب سے گری ہوئی اور سب سے خطرناک حد تک بگڑی ہوئی صورتحال دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کہلوانے والے ملک بھارت میں ہے‘۔
کمیشن کے چیئرمین ٹیڈ پرکنز کا کہنا تھا کہ ’ہم غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اقلیتوں کے خلاف تشدد کے لیے چھوٹ دیکھ رہے ہیں‘ جبکہ نائب چیئرمین نادائن مائنزا کا کہنا تھا کہ بھارت نے ’مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کو برداشت کیا‘۔ مذکورہ رپورٹ کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ اس میں بھارت کو ’خاص تشویش والا ملک‘ قرار دینے کی سفارش کی گئی۔ خیال رہے کہ ’خاص تشویش والا ملک‘ ایک ایسا درجہ ہے جو امریکی بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ 1998 کے تحت امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کی جانب سے اس ملک کو دیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب ہو۔
یاد رہے کہ جن ممالک کو یہ درجہ دیا جاتا ہے اس کے خلاف مزید ایکشن لیے جاتے ہیں جس میں امریکا کی جانب سے معاشی پابندیاں شامل ہیں جب تک کہ حکومت اسے ’قومی مفاد‘ میں چھوٹ نہ دے دے جیسا کہ پاکستان کو دی گئی۔ رپورٹ میں بھارتی شہریت ترمیمی بل، گائے ذبح اور مذہب تبدیل کرنے پر پابندی کے قوانین، سپریم کورٹ کا بابری مسجد کا فیصلہ اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدامات پر تنقید کی گئی۔
تاہم دوسری طرف بھارتی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے سے وزیراعظم نریندرا مودی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو ان کی وجوہات سیاسی ہیں۔ بھارتی حکام نے یاد دلایا کہ حال ہی میں کرونا وبا کے پھوٹنے کے بعد انڈیا کی جانب سے تمام ادویہ کی ایکسپورٹ پر پابندی عائد کیے جانے کے ایک دن بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اس نے امریکہ کو ہائیڈروکسی کلوروکوئن نامی دوا ایکسپورٹ نہ کی تو انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑسکتے ہیں۔
ہائیڈروکسی کلورو کوئن دنیا بھر میں بھارت سب سے زیادہ مقدار میں بناتا ہے اور اسکو کورونا وائرس کے خلاف علاج کے لیے ایک موثر دوا تصور کیا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد بھارت نے انہیں دوا دینے کی حامی بھر لی تھی اور امریکی صدر اور وائٹ ہاؤس کو ان کی یہ ادا اس حد تک پسند آئی تھی کہ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم سمیت چند اہم شخصیات کو ٹوئٹر پر فالو کرنا شروع کردیا تھا۔ تاہم بعد ازاں امریکہ کو اس مقدار میں یہ دوا فراہم نہ کی جاسکی جس کی وہ امید کر رہا تھا۔ نتیجتا ٹوئٹر پر ابھی امریکہ بھارت قریبی تعلقات پروان بھی نہ چڑھے تھے کہ ٹرمپ، وائٹ ہاؤس اور امریکی صدر کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل نے بھارتی وزیر اعظم کو دوبارہ ‘ان فالو’ کردیا۔
