ڈہرکی ٹرین حادثہ : ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار

ڈہرکی ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حادثہ اپ ٹریک کی دائیں پٹری کا ویلڈنگ جوائنٹ ٹوٹنے کے سبب ہوا، اپ ٹریک کی دائیں پٹری کا جوڑ ویلڈنگ سے جڑا ہوا تھا جو ٹوٹا ہوا پایا گیا، پٹری کا جوڑ ٹوٹنے سے ملت ایکسپریس کی 12 مسافر کوچز ڈاؤن ٹریک پر گرگئیں۔
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ڈاؤن ٹریک پر کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ملت ایکسپریس کی کوچز سے ٹکرا گئی اور حادثے کے نتیجے میں سرسید ایکسپریس کا انجن اور چار کوچز پٹری سے گریں جب کہ ملت ایکسپریس کا انجن اور 6 مسافر کوچز ٹریک پر ہی رہیں، سرسید ایکسپریس کی 12 مسافر کوچز ٹریک پر ہی رہیں۔ رپورٹ کے مطابق حادثے کی شکار ٹرینوں کے انجنوں کے بلیک باکس کا ڈیٹا نکالا جارہا ہے، بلیک باکس سے حاصل معلومات کو وفاقی انسپکٹرز آف ریلویز کی تحقیقات میں شامل کیا جائے گا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ سرسید ایکسپریس راولپنڈی سے کراچی کےلیے جارہی تھی اور ملت ایکسپریس کراچی سے سرگودھا جارہی تھی۔ واضح رہےکہ ڈہرکی ٹرین حادثے کے نتیجے میں اب تک 62 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 35 افراد کی میتوں کو ایدھی ایمبولینسز کے ذریعے پنجاب کے مختلف شہروں، راول پنڈی، فیصل آباد، ملتان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، لودھراں روانہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب گزشتہ روز پیش آنے والے اندوہناک ٹرین حادثے کے بعد 30 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہنے والا ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ٹرین آپریشن اپ ٹریک سے بھی بحال کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ترجمان ریلوے کا کہنا ہے کہ ٹریک کو فٹ کیا جارہا ہے، جیسے ہی ٹریک کا کام مکمل ہو جائے گا ٹرینوں کی روانگی شروع ہو جائے گی۔ پاکستان ریلوے مسافروں سے معذرت خواہ ہے کہ انہیں حادثے کے باعث پریشانی اٹھانا پڑی۔ دوسری جانب ٹرین ڈرائیورز کی ایسوسی ایشن نے پاکستان ریلوے کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرین حادثے کی ذمہ داری ملت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس کے ڈرائیورز پر ڈال کر انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا تو وہ ملک گیر احتجاج کریں گے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شمس پرویز نے بتایا کہ اکثر حادثات میں ہمیں ان غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جو ہم نے نہیں کی ہوتیں، پیر کے حادثے میں بھی یہ واضح ہے کہ سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس کی کچھ بوگیاں پٹڑی سے اتر کر دوسری طرف ڈاؤن ٹریک پر جاگریں جہاں ان کا کراچی جانے والی سر سید ایکسپریس سے تصادم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ ہم کسی کو بھی غریب ڈرائیورز کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ کسی ٹرین کے عملے کی کوئی غلطی نہیں تھی۔
