کرونا کے خوف سے خودکشی کرنے والے دو افراد کا ٹیسٹ منفی

کرونا وائرس سے خوفزدہ ہو کر خودکشی کرنے والے کراچی اور لاہور کے دو افراد کا کرونا ٹیسٹ منفی آگیا۔
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں قائم آئیسولیشن وارڈ سے چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے والے شخص کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔ ہسپتال کی ایگزیٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ 37 سالہ شخص کو وائرس کی ممکنہ علامات ظاہر ہونے پر26 اپریل کو کراچی کے علاقے لانڈھی سے جناح ہسپتال لایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ خودکشی کرنے والا شخص مبینہ طور پر منشیات کا عادی تھا۔ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق مریض کو غنودگی کے عالم میں ہسپتال لایا گیا تھا بعدازاں اسے ہوش آگیا جبکہ مذکورہ شخص کا رویہ بھی ابنارمل تھا۔ ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ مریض کا سینے کا ایکسرے یہ ظاہر کرتا تھا کہ مریض ممکنہ طور پر وائرس سے متاثر ہے چنانچہ اسے ہسپتال میں کووِڈ 19 کے مریضوں کے مختص وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا۔ تاہم مریض نے اپنے کپڑے اتار کر ہسپتال کی بلڈنگ میں گھومنا شروع کردیا اور عملے کو دھمکیاں بھی دیں۔ مریض کے قابلِ اعتراص رویے پر اسے تیسری منزل پر بند کردیا گیا تھا جہاں اس نے لوہے کی جالی اور دروازوں کو توڑا اور 27 اپریل کی صبح 6 بج کر 58 منٹ پر کھڑکی سے کود گیا جس کے نتیجے میں اس کے سر پر شدید چوٹ آئی جسے فوری طور پر شعبہ حادثات لے جایا گیا تاہم علاج کے دوران وہ دم توڑ گیا۔ بعدازاں ڈاکٹر سیمی جمالی نے اس بات کی تصدیق کی کہ خودکشی کرنے والے شخص کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا۔
دوسری طرف چند روز قبل لاہور کے علاقے غازی آباد میں علاقہ مکینوں کی جانب سے کرونا وائرس کا مریض کہلائے جانے پر ایک عمر رسیدہ شخص نے گھر سے بھاگ قبرستان جا کر خودسوزی کر لی تھی۔ پولیس کے مطابق 68 سالہ حنیف احمد دمے کے مریض تھے تاہم چند لوگ انہیں کرونا وائرس کا مریض کہہ رہے تھے۔ سانحے کے روز حنیف کی حالت تشویشناک ہوگئی تھی اور انھوں نے دمے کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی۔ تاہم چند پڑوسیوں نے ایک جیسی علامت کی وجہ سے انہیں کرونا وائرس کا کیس بتایا۔ اس دوران زور زبردستی سے اس شخص کا کرونا ٹیسٹ بھی کروا لیا گیالیکن اپنے ساتھ اچھوتوں جیسے سلوک پر نالاں ہو کر حنیف نے پٹرول کا بندوبست کیا اور ایک مقامی قبرستان میں جا کر خود کو آگ لگا دی، بزرگ شخص نے اپنی موت سے چند لمحے پہلے پولیس کو بیان دیا تھا کہ اسے کرونا وائرس کا تصدیق شدہ مریض کہا جا رہا تھا اور اس نے سسک سسک کر مرنے کی بجائے ایک ہی دفعہ مرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم اس کی موت کے ایک روز بعد اس کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا۔
خیال رہے کرونا وائرس کے باعث بیرونِ ملک بھی خودکشی کے متعدد واقعات سامنے آئے تھے جس میں گزشتہ ماہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کرونا کے ایک مشتبہ مریض نے ہسپتال کی ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی تھی۔ اسی طرح بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں 3 بچوں کے باپ نے محض اس خدشے پر خودکشی کرلی تھی، جب اس کو لگا کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے اس کا خاندان بھی متاثر ہوسکتا ہے۔
