کورونا وائرس پھیلا تو مجبوراً مساجد بند کرنی پڑیں گی

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ خدانخواستہ اگر مساجد سے کورونا وائرس پھیلا تو ہمیں ایکشن لینا ہوگا۔ اگر لوگ مساجد جانا چاہتے ہیں تو 20 نکات پرعمل کرنا ہوگا۔
اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں شامل دیگر وزراء و معاونین خصوصی کے ہمراہ کورونا اور قومی امور پراظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف آرڈیننس لے کر آئے ہیں، لوگوں کی تکلیفوں سے فائدہ اٹھانے والے قومی مجرم ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام دنیا اِس وقت کورونا سے لڑرہی ہے اور امریکا میں 40 ہزار جب کہ اٹلی اوراسپین میں 20، 20 ہزار افراد کورونا کے باعث انتقال کرگئے ہیں، پاکستان میں 192 افراد کا کورونا سے انتقال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی غیر معینہ مدت تک لاک ڈاؤن نہیں چل سکتا، پہلے سیمنٹ انڈسٹری اور پھرتعمیراتی شعبے کو کھولا اور تمام صوبوں سے بات چیت کے بعد معاملات کوآگے بڑھارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوشش کررہے ہیں کہ احساس پروگرام کے ذریعے زیادہ لوگوں تک پہنچیں جب کہ احساس راشن پورٹل لانچ کردیا ہے اور مستحق لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کررہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹائیگر فورس رضاکار فورس ہے جس میں کسی کو پیسے نہیں ملیں گے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ مشکل میں ہیں، آنے والے دنوں میں کوشش ہے کہ نچلے طبقے کی حفاظت کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کہا جارہا ہے کہ باقی دنیا میں مساجد بند ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں؟ 20 نکات پر تمام علماء نے دستخط کیے ہیں، لوگ کوشش کریں کہ گھرمیں بیٹھ کرعبادت کریں، اگر لوگ مساجد جانا چاہتے ہیں تو 20 نکات پرعمل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ علماء کی مشاورت سے 20 نکات بنائے گئے، اگر وائرس پھیلے گا تو مساجد بند کرنی پڑیں گی، جن فیکٹریوں کو کھولنے کی اجازت ہے، ان کو بھی طے کردہ ضابطہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پاکستانی ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستانی لیبر بے روزگار ہوگئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف آرڈیننس لے کر آئے ہیں، لوگوں کی تکلیفوں سے فائدہ اٹھانے والے قومی مجرم ہیں۔خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب تک 197 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ متاثرہ مریضوں کی تعداد بھی ساڑھے 9 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔
حکومت کی جانب سے مہلک وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن جاری ہے جس میں 30 اپریل تک توسیع کی گئی ہے جبکہ اس دوران اشیائے خور و نوش کی قلت کو روکنے کےلیے ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف آرڈیننس لایا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button