کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے یومیہ 30 ہزار ٹیسٹ کافی ہیں

ملک میں کورونا وائرس کیسز 41 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں وہیں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں اس مہلک وائرس کا پھیلاؤ روکنے کےلیے 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ کرنے کی صلاحیت اطمینان بخش ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے پاس 25 ہزار ٹیسٹ روزانہ کرنے کی صلاحیت ہے جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اُمید ہے کہ رواں ماہ کے اواخر یا آئندہ ماہ کے اوائل سے ہم 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ کرنے کے قابل ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر 14 ہزار ٹیسٹ کیے جارہے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ملک میں 14 ہزار سے زائد ٹیسٹ نہیں کیے جاسکتے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کی سربراہی کرنے والے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہم زیادہ تر نمونے تربیتی اسپتالوں یا پاکستان میں داخل ہونے والے مسافروں سے حاصل کررہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ تربیتی اسپتالوں کے علاوہ دیگر اسپتال سے بھی جلد نمونے اکٹھے کر کے بھیجنے کا آغاز کردیں گے جس سے ٹیسٹس کی تعداد بڑھ جائے گی‘۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کا اندازہ لگانے اور اس کے مطابق مستقبل کی حکمت عملی تشکیل دینے کےلیے 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ کی تعداد کافی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اعلان کیا تھا کہ (لاک ڈاؤن کے اعلان کے) 2 ماہ کے اندر یومیہ ٹیسٹ کی تعداد 30 گنا بڑھ چکی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں مارچ کے وسط تک 500 سے کم ٹیسٹ کیے جارہے تھے لیکن گزشتہ چند روز سے روزانہ 14 ہزار ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔
ملک میں اتوار کے روز ایک ہزار 570 نئے کیسز جبکہ 30 اموات سامنے آئیں جس کے ساتھ ملک میں متاثرین کی تعداد 41 ہزار سے تجاوز کر گئی جب کہ 11 ہزار 341 افراد اس سے مکمل صحتیاب ہوچکے ہیں۔ این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 319 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور کووِڈ 19 کے علاج کی سہولت فراہم کرنے والے 735 اسپتالوں میں 8 ہزار 680 مریض داخل ہیں۔ دوسری جانب اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ اس وائرس سے متاثر ہونے والے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے ایک ویڈیو پیغام میں دعاؤں کےلیے عوام کا شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں قوم کا شکرگزار ہوں کہ کیوں کہ ان کی دعاؤں کی وجہ سے میرے اہل خانہ مکمل صحت یاب ہوگئے ہیں، میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ہر شخص کو حکومت کے اعلان کردہ احتیاطی اقدامات پر عمل کرنا چاہیے اور سماجی فاصلہ اس بیماری سے لڑنے کا بہترین ہتھیار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button