کورونا کی نئی قسم: برطانیہ سے مسافروں کی پاکستان آمد پر پابندی

برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد پاکستان نے برطانیہ سے مسافروں کی آمد پر آج رات 12 بجے سے لے کر 29 دسمبر کو نصف شب تک کےلیے پابندی عائد کر دی ہے۔
اس پابندی کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوگا جو برطانیہ سے اپنا سفر شروع کریں گے یا گزشتہ 10 دنوں میں برطانیہ میں رہ چکے ہیں۔ تاہم وہ ٹرانزٹ مسافر جو برطانیہ کے بجائے کسی اور ملک جاتے ہوئے برطانیہ میں فلائٹ تبدیل کریں گے اور ایئرپورٹ سے باہر نہیں نکلیں گے، ان پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا، بلکہ صرف برطانیہ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ آنے والے مسافروں پر ہی یہ پابندی نافذ ہوگی۔ پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے وہ لوگ جو عارضی ویزوں پر برطانیہ گئے تھے، انھیں فلائٹ سے پہلے 72 گھنٹے کے اندر اندر کورونا کا ٹیسٹ کروا کر منفی نتیجہ حاصل کرنا ہوگا جب کہ پاکستان آمد پر ان کا پی سی آر ٹیسٹ لیا جائے گا اور اس کا نتیجہ آنے تک انھیں سرکاری تحویل میں ہی رہنا ہوگا۔ ماہِ دسمبر دنیا بھر میں چھٹیوں کا مہینہ ہوتا ہے اور اکثر لوگ کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات اپنے پیاروں کے ساتھ منانے یا اس دوران کہیں سیر پر جانے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ جہاں اس سال عالمی سیاحت میں کورونا وائرس کے باعث کمی رہی، وہیں کئی ممالک میں وبا کی شدت میں کمی کے باعث بین الاقوامی پروازوں کا سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے کچھ ممالک نے سیاحت کی صنعت کو ایک محدود پیمانے پر دوبارہ کھول دیا۔ تاہم اس ماہ کے آغاز سے برطانیہ میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم سامنے آنے کے بعد دنیا کے بیشتر ممالک نے برطانیہ سے سفری رابطے منقطع کر دیے ہیں اور خدشہ ہے کہ دیگر ممالک بھی جلد ہی ایسا کر دیں گے۔ اب تک یورپ میں فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، ڈنمارک، بیلجیئم، آسٹریا، بلغاریہ اور جمہوریہ ائر لینڈ نے برطانیہ آنے جانے والی پروازوں پر پابندی عائد کی ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا، ترکی، ہانگ کانگ، ایران، اسرائیل، کویت اور مراکش سمیت چند جنوبی امریکی ممالک نے بھی برطانیہ آنے جانے والی پروازوں پر پابندیاں لگا دی ہیں۔
وائرس کی نئی شکل کے بارے میں اس وقت حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ بات طے ہے کہ انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں اس سے خطرے کے باعث انتہائی سخت پابندیاں عائد ہیں۔ لندن اور جنوبی انگلینڈ میں ’ٹیئر فور‘ کی سخت پابندیاں لاگو ہو چکی ہیں جن کے تحت لوگوں کے اپنے اپنے علاقوں سے باہر نکلنے پر پابندی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیئر فور سے نیچے کے ٹیئر کے کسی بھی علاقے سے ٹیئر فور علاقوں میں داخلے پر پابندی ہے۔ دوسری جانب ویلز اس وقت مکمل طور پر لاک ڈاؤن کی زد میں ہے جب کہ اسکاٹ لینڈ میں 26 دسمبر کی شب لاک ڈاؤن لاگو کر دیا جائے گا۔ اگرچہ دنیا کے دیگر ممالک نے کورونا کی نئی قسم سے خطرے کے پیش نظر برطانیہ آنے جانے والی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے، پاکستان کی جانب سے اب تک برطانیہ جانے والی پروازوں کے بارے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ یورپی ممالک کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کے بعد ترکی نے بھی اتوار کو برطانیہ آنے جانے والی پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی، جس کا اعلان ترکی کے وزیر صحت نے ٹوئٹر پر کیا۔
کراچی کے صابر چندریگر تقریباً دو دہائیوں سے اپنی ٹریول ایجنسی چلا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تازہ صورت حال یہ ہے کہ ترکی کے ذریعے برطانیہ جانے والی پروازیں بھی معطل کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا تاحال قطری اور اماراتی ایئر لائنز کی جانب سے ایسے کوئی احکامات سامنے نہیں آئے، تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ برطانیہ پر لگنے والی حالیہ پابندیوں کا اثر وہاں جانے والی تمام ایئر لانز پر پڑ سکتا ہے۔ آج کل تو بین الاقوامی سفر کے محرکات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ صبح کچھ ہوتا ہے اور شام کو کچھ۔ ہم کسٹمر کو صبح جو ہدایات دیتے ہیں وہ شام تک بدل جاتی ہیں اور پھر کسٹمر ہم سے گلہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی اس وقت برطانیہ جانے کا سوچ بھی رہا ہے تو اسے اپنے ارادوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ٹکٹ کے پیسے تو واپس مل جائیں گے، لیکن فرض کریں آپ وہاں پہنچ کر پھنس جائیں اور واپس نہ آ سکیں۔ اس صورت میں کئی لوگوں کے پاس پیسے بھی ختم ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ کورونا ہو جائے تو قرنطینہ کا خرچہ علیحدہ۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے پیر کو جاری ہونے والے ایک سرکلر میں اعلان کیا ہے کہ کووڈ 19 کے خطرے کے پیش نظر پیر اور منگل کی نصف شب سے ایک ہفتے کےلیے (خصوصی پروازوں کے علاوہ) تمام بین الاقوامی پروازوں پر پابندی ہوگی۔ سمندر پار پاکستانیوں کے وزیر ذوالفقار بخاری سے پوچھا کہ سعودی عرب کی جانب سے لگائی جانے والی سفری پابندیوں کے باعث کتنے پاکستانی متاثر ہوئے ہیں اور کیا ان کی کوئی مدد کی جا رہی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک اس بارے میں بات چیت کر رہے ہیں اور چونکہ معاملات تیزی سے بدل رہے ہیں اس لیے صورت حال واضح ہونے پر ہی وہ مزید تفصیلات فراہم کر سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button