کیا صدارتی نظام کا شوشہ کپتان کی کاؤنٹر موو ہے؟

شنید ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام رائج کرنے کا شوشہ وزیراعظم عمران خان کے ایماء پر بطور ایک کاؤنٹر موو کے چھوڑا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد اپنی حکومت کے خاتمے کی افواہوں کو دبانا اور بحث کا رخ دوسری جانب موڑنا ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت 1973 کے متفقہ آئین کی بنیاد ہے جسے پارلیمنٹ بھی تبدیل نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت کو صرف ایک آئین ساز اسمبلی ہی تبدیل کر سکتی ہے۔ لہذا ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کا شوشہ کچھ عرصے میں اپنی موت آپ مر جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں فوجی ترجمان کی جانب سے ن لیگ سے ڈیل کی افواہوں کی تردید کے باوجود سیاسی منظرنامے پر بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں اور حکومت کے خاتمے کی افواہوں میں تیزی آتی جارہی ہے۔ ایسے میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان قیاس آرائیوں کو کاؤنٹر کرنے کے لئے پارلیمانی نظام کی جگہ پہلے مرحلے میں ایمرجنسی نافذ کر کے سودرے مرحلے میں ایک فراڈ ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام لانے کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے بعد مین سٹریم میڈیا پر بھی چھا جانے والی صدارتی نظام کی بحث کے پیچھے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ہوسکتے ہیں۔ موجودہ پارلیمانی نظام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کی کمزوریوں نے ملک کو آگے نہیں بڑھنے دیا لہذا امریکہ کی طرح ترقی یافتہ ملک بننے کے لئے صدارتی نظام حکومت رائج کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ تاہم ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں کوئی سویلین صدر صدارتی نظام کے زریعے اقتدار میں نہیں آیا بلکہ چاروں مرتبہ فوجی آمروں نے ہی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء کے نفاذ کے بعد بطور صدر اقتدار سنبھالا اور پھر بلا شرکت غیرے کی برسوں تک حکمرانی کی۔
سازشی نظریات پر یقین رکھنے والے کہتے ہیں کہ ہائبرڈ نظام حکومت کے تحت برسراقتدار لائے جانے والے عمران خان بطور وزیراعظم اندرا گاندھی کی طرح ملک میں ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں جس کے بعد جنرل ضیاء کی طرح ایک فراڈ ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام کے حق میں فیصلہ کروا کر نظام بدلا جا سکتا یے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے خان صاحب کو خیال کرنا ہوں گا کہ کہیں آخر میں پھر کوئی طالع آزما جرنیل صدر کا عہدہ سنبھالنے میدان میں نہ آجائے۔
یاد رہے کہ صدارتی نظام کی وکالت کرنے والے زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین کی ہمدردیاں تحریک انصاف حکومت کے ساتھ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پچھلے ساڑھے تین برس میں عمران خان حکومت ناکام رہی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پارلیمانی نظام جمہوریت میں وزیراعظم کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے عوامی فلاح کے ایجنڈے کی راہ میں پارلیمنٹ ایک رکاوٹ ہے لہذا اگر انہیں صدر بنا کر تمام تر اختیارات دے دیے جائیں تو وہ عوام کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ جو شخص پچھلے ساڑھے تین برس میں فوج کی بھرپور حمایت کے باوجود ہر محاذ پر ناکام ہوا ہے وہ صدر بن کر بھئبناکام ہی رہے گا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ ‏گدھے کو وزیر اعظم بنا دو یا صدر بنا دو، وہ گدھا ہی رہے گا، بالکل ویسے ہی جیسے جسم پر کالی اور سفید دھاریاں ڈال دینے کے باوجود گدھا زیبرا نہیں بن سکتا۔ سوشل میڈیا پر حکومت کے حامی ایکٹیویٹس کی جانب سے صدارتی نظام کے حق میں مہم کے دوران ایک غیر معروف تنظیم وژن فار پاکستان نے مین سٹریم ٹی وی چینلز پر صدارتی نظام کے حق میں مہم شروع کر دی ہے جس میں تمام ملکی مسائل کا حل پارلیمانی جمہوریت کی بجائے صدارتی نظام حکومت کو قرار دیا گیا ہے۔ تاہم مبصرین سمجھتے ہیں کہ عمران خان کو گھر بھجوانے کی افواہوں میں تیزی آنے کے بعد ان قیاس آرائیوں کو کاؤنٹر کرنے کے لئے پارلیمانی نظام کی جگہ پہلے مرحلے میں ایمرجنسی نافذ کر کے صدارتی نظام لانے کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام کے بحث کے پیچھے حکومت ہے جبکہ بعض حلقے اس نئی بحث کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ دیکھتے ہیں۔ ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ ماضی میں کوئی سویلین صدر صدارتی نظام کے ذریعے اقتدار میں نہیں آیا بلکہ چاروں مرتبہ فوجی آمروں نے ہی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء کے نفاذ کے بعد بطور صدر اقتدار سنبھالا۔
تاہم تجزیہ کاروں کے بقول تحریک انصاف کے اندر سے حکومتی کارکردگی پر تنقید کے بعد شاید یہ سیاسی بحث دوسری جانب رخ موڑنے کی کوشش ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ملک کے آئینی و قانونی ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے یہ ماننا مشکل ہے کہ پارلیمانی نظام ختم کرکے صدارتی نظام نافذ کرنے کا کوئی امکان موجود ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت 1973 کے متفقہ آئین کی بنیاد ہے جسے پارلیمنٹ بھی تبدیل نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت کو صرف ایک آئین ساز اسمبلی ہی تبدیل کر سکتی ہے۔ لہذا ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کا شوشہ کچھ عرصے میں اپنی موت آپ مر جائے گا۔

Back to top button