کپتان سے رنجش، جہانگیر ترین حکومت کے دفاع سے پیچھے ہٹ گئے

وزیر اعظم عمران خان سے اختلافات اور ناراضی کے بعد تحریک انصاف کے مرکزی رہنماجہانگیر ترین نے پنجاب حکومت کے دفاع سے صاف انکار کرتے ہوئے الٹا صوبائی حکومت کو ہی چارج شیٹ کر ڈالا اور کہا کہ ذخیرہ اندوزی کے نام پر کارروائیوں سے ڈیمانڈ اینڈ سپلائی متاثر ہو رہی ہے، کریک ڈاؤن پر پنجاب حکومت سے پوچھا جانا چاہیے.
رہنما تحریک انصاف جہانگیر ترین نے آٹے اور چینی کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ذخیرہ اندوزی کے نام پر کریک ڈاوٴن کررہے ہیں انہیں اس پر سوچنا چاہیے ۔ حکومتی کریک ڈاوٴن سے سپلائی اور ڈیمانڈمتاثر ہو رہی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے اگر دکان میں 50 بوری چینی فروخت کیلئے رکھی ہوئی ہے تو اس پر کریک ڈاوٴن نہیں ہونا چاہیے ۔ میں پنجاب حکومت کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ بہتر ہوگا ان لوگوں سے پوچھا جائے جو ایسی کارروائیاں کررہے ہیں۔
جہانگیر ترین کا پنجاب حکومت کا مزید دفاع کرنے سے صاف انکار۔
انہوں نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف پنجاب حکومت کے کریک ڈاون کے طریق کار پر بھی سوال اٹھا دیا ۔
کہتے ہیں حکومت کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے جن سے سپلائی چین متاثر ہو۔۔ pic.twitter.com/U9wUuukTOX— Syed Sammer Abbas (سید ثمر عباس) (@SammerAbbas) February 20, 2020
واضح رہے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہونے کے بعد جہانگیرترین نے 67 روپے فی کلو کے حساب سے 20 ہزار ٹن چینی دینے کا اعلان کیا تھا ۔ اس حوالے سے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو اپنے حصے کی 20 ہزار ٹن چینی 67 روپے فی کلو میں دینے کا اعلان کرتے ہیں۔ سینئر رہنماء نے بتایا کہ چینی کی قیمتیں کم کرنے کیلئے شوگر ملز ایسوسی ایشن نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو 70 روپے فی کلو کے حساب سے ایک لاکھ ٹن چینی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ ملک میں چینی کے بحران کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بارہا مواقع پر یہ کہا جا چکا ہے کہ چینی بحران میں وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین اور خسرو بختیار ملوث ہیں. دوسری طرف ملک میں چینی اور آٹے کا بحران پیدا ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے مابین دوریاں بھی دیکھنے میں آ رہی ہیں.
