کیاآئینی عدالت کے قیام کیلئے اپوزیشن حکومت کا ساتھ دے گی؟

حکومت کے مجوزہ آئینی ترامیم کے پیکج میں ایک وفاقی آئینی عدالت شامل کا قیام وہ پوائنٹ ہے جس پر تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام سمیت اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتیں بھی راضی ہیں۔ آئینی عدالت کے قیام کا بنیادی مقصد سپریم کورٹ کو ریلیف دینا ہے تاکہ وہ مفاد عامہ کے کیسز پر فوکس کر سکے جبکہ سیاسی اور آئینی کیسز صرف نئی آئینی عدالت سنا کرے گی۔ تاہم آئینی عدالت کے قیام کی خبریں سامنے آنے کے بعد قانونی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا یہ عدالت سپریم کورٹ کے ماتحت ہوگی یا خود مختار ہو گی؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا نئی عدالت اختیارات کے لحاظ سے سپریم کورٹ کے برابر ہوگی یا اس کے ماتحت کام کرے گی؟ یا پھر دونوں آزاد خودمختار ہو ں گی یا دونوں علیحدہ علیحدہ حیثیت میں کام کریں گی؟ یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا آئینی عدالت کے ججز اور ان کی سربراہی ریٹائرڈ ججز کو دی جائے گی یا موجودہ ججز میں سے ہی آئینی عدالت کے ججز اور چیف جسٹس کو چنا جائے گا۔
لیکن سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مقننہ کیلئے سب سے بڑا چیلنج نئی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ سے الگ کرنا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی عدالت کو سپریم کورٹ کے برابر سمجھا جا سکتا ہے لیکن اس حوالے سے ابھی کچھ بھی واضح نہیں ہے چونکہ مجوزہ ترمیمی بل سامنے نہیں آ پایا۔ آئینی عدالت کے حوالے سے زیر بحث ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس کا عملہ ہائی کورٹ کے 5 سینئیر ترین ججز ہر مبنی ہو گا یا سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل ہو گا؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ ججز ایک آپشن ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب مجوزہ آئینی ترمیمی بل کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اس میں مجموعی طور پر 43 تجاویز شامل کی گئی ہیں جن میں ججوں کے حوالے سے انتہائی اہم تجاویز اور آرمی ایکٹ کا آئینی تحفظ بھی شامل ہے۔ مسودے کے مطابق ترمیمی بل میں آئین کے آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کی تجویز ہے۔ نئی ترمیم کے مطابق 63 اے کے تحت پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ دینے والا اسمبلی رکنیت تو کھو دے گا مگر اس کا ووٹ شمار کیا جائے گا۔ بل میں آئین کے آرٹیکل 17 میں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی جگہ وفاقی آئینی عدالت شامل کرنے سے متعلق ترمیم کی تجویز شامل ہے۔
آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت ججوں کی تقرری کے طریقہ کار میں بھی ترمیم کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے نام قومی اسمبلی کی کمیٹی وزیراعظم کو سفارش کرے گی۔دستاویز کے مطابق قومی اسمبلی کی کمیٹی 3 سینیئر ترین ججوں میں سے چیف جسٹس کا انتخاب کرے گی تاہم وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کی تقرری صدر پاکستان وزیراعظم کی تجویز پر کریں گے جبکہ صدر مملکت وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری چیف جسٹس کی مشاورت سے کریں گے۔ججوں کی تقرری کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی 8 ممبران پر مشتمل ہوگی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اس کمیٹی کے ممبران کا تمام پارلیمانی پارٹی کے تناسب سے انتخاب کریں گے۔ یہ کمیٹی چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے 7 روز قبل اپنی سفارشات وزیراعظم کو بھیجے گی۔وفاقی آئینی عدالت کے جج کی ریٹائرمنٹ کی حد عمر 68 سال ہوگی۔ سپریم کورٹ کا جج وفاقی آئینی عدالت میں 3 سال کے لیے جج تعینات ہوگا۔
آئینی ترمیمی بل میں ہائیکورٹس سے سو موٹو لینے کا اختیار واپس لینے کی بھی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ ہائیکورٹس کے ججوں کی ایک ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ تبادلے کی تجویز بھی شامل ہے۔آئینی ترمیمی بل میں یہ بھی تجویز شامل ہے کہ کسی بھی جج کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں صدر پاکستان کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی ریٹائرڈ جج کو بھی آئینی عدالت کا جج تعینات کرسکتے ہیں۔
پاکستان آرمی ایکٹ میں کون سی اہم ترامیم تجویز کی جا رہی ہیں؟
آرٹیکل 179 بی کے اضافے کے ساتھ وفاقی آئینی عدالت کی خالی سیٹ پر صدر مجوزہ طریقہ کار کو اپناتے ہوئے کسی ریٹائرڈ جج کو عارضی جج کے طور پر تعینات کرسکتے ہیں اور وہ تب تک اپنی ذمہ داریوں کو انجام دے سکتے ہیں جب تک صدر تعیناتی کالعدم نہ کردیں۔
مسودے کے مطابق سروسز چیف کی تقرری اور ایکسٹینشن کے حوالے سے آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو آئینی تحفظ حاصل ہوگا اور اس متعلقہ قانون میں ترمیم اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک آئین میں ترمیم نہ کرلی جائے۔
مجوزہ آئینی ترمیم میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبر الیکشن کمیشن کی مدتِ ملازمت سے متعلق بھی ترمیم شامل ہے۔ آئین کے آرٹیکل 215 میں ترمیم کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر یا ممبر الیکشن کمیشنر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عہدے پر اس وقت تک کام جاری رکھ سکتے ہیں جب تک نیا چیف الیکشن کمشنر یا ممبر کی تعیناتی نہیں کردی جاتی۔اس کے علاوہ جو چیف الیکشن کمشنر یا ممبر الیکشن کے عہدے ہر پہلے سے تعینات رہے ہوں ان کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قرارداد کے ذریعے دوبارہ 3 سال کے لیے تعینات کیا جاسکتا ہے۔
مجوزہ آئینی ترمیمی بل میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی تقرری کا طریقہ کار بھی تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی تقرری کے لیے قائم کمیشن میں اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ساتھ اسلام آباد بار کا نمائندہ اور ایک وفاقی وزیر شامل ہوگا۔ موجودہ قانون کے مطابق چیف جسٹس اور سینیئر ترین جج کمیشن کا حصہ ہیں۔
