کیا امن معاہدے سے امریکہ نے طالبان کی متوازی حکومت تسلیم کرلی؟

افغان طالبان اور امریکہ کے امن معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی اس کی شرائط کے تناظر میں افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے جو سخت بیان بازی دیکھنے کو ملی ہے، اس سے معاہدے کی پائیداری اور اسکا مستقبل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگیا ہے اور یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا افغان امن معاہدے کی ’سادگی‘ پیچیدگیوں کا باعث بنے گی؟
افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر میں ہونے والے امن معاہدے کو دنیا بھر میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا تاہم معاہدے کے پہلے ہی ہفتے اس کی شرائط کے بارے میں افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے جس قسم کی بیان بازی دیکھنے کو مل رہی ہے اس سے معاہدے کی پائیداری اور مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے معاہدے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ تاریخ کا ایک بڑا معاہدہ 1988 میں جنیوا میں بھی ہوا تھا جس کے تحت روسی فوج کی واپسی ہوئی تھی۔ اُس معاہدے کی بھی ایک بڑی خامی یہ تھی کہ اس میں افغانستان سے روسی فوج کے انخلا کے بعد نظام حکومت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی تھی۔
29 فروری کو امریکہ اور افغان طالبان نے کئی ماہ تک جاری امن مذاکرات کے بعد ایک ایسے معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت افغانستان میں گذشتہ 18 برس سے جاری جنگ کا خاتمہ ممکن ہو پائے گا۔ماہرین کے مطابق معاہدے میں تو بظاہر بہت سادہ طریقہ کار طے کیا گیا ہے یعنی فوجوں کا انخلا، قیدیوں کی رہائی، پابندیوں کی فہرست سے ناموں کا اخراج، افغان سرزمین پر غیر ملکی مداخلت نہ ہونا اور نہ ہی اس کا کسی کے لیے استعمال ہونا وغیرہ وغیرہ لیکن اس سادہ طریقۂ کار پر عمل درآمد اتنا سادہ بھی نہیں۔
معاہدے کے اگلے ہی روز افغان صدر کی جانب سے طالبان کی قیدیوں کے رہائی کی شق پر عملدرآمد کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق رکھنے اور افغان طالبان کے افغان فوج پر حملے جاری رکھنے اور اپنے قیدیوں کی رہائی تک بین الافغان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کے اعلانات سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے افغان امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کی کامیابی کے امکانات تو ہیں لیکن چیلنجز بھی کم نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ایک مشروط معاہدہ ہے۔ بظاہر بہت سادہ ہے کیونکہ اس میں ایک فریق افغان حکومت موجود ہی نہیں لیکن پیچیدہ اس لیے ہے کہ اس میں لکھا گیا ہے کہ دس مارچ تک قیدیوں کا تبادلہ ہو گا اور دس مارچ کو ہی افغان فریق بات چیت کا آغاز بھی کریں گے۔
افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے سے یہ بیان سامنے آنے کے بعد کے طالبان قیدیوں کی رہائی کا اختیار امریکہ نہیں بلکہ افغان حکومت کا ہے، یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ اگر افغان حکومت قیدیوں کی رہائی میں رکاوٹ ڈالتی ہے تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے۔ ایسے میں افغان امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ ایسی کوئی بھی رکاوٹ دور کر دے گا اور قیدیوں کا بروقت تبادلہ ہو جائے گا۔ لیکن اگر قیدیوں کا تبادلہ نہیں ہوتا تو پھر دس مارچ کو بین الافغان مذاکرات نہیں ہو سکیں گے۔ اگر طالبان معاہدے کی خلاف ورزی کریں گے تو پھر ساڑھے چار مہینوں میں امریکی فوجی بھی واپس نہیں جائیں گے۔
ادھر افغانستان کی سابق رکن پارلیمان ایلا ارشاد کہتی ہیں کہ یہ معاہدہ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پایا ہے اس لیے عملدرآمد کی پہلی ذمہ داری امریکہ پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کا کردار بین الافغان مذاکرات کے آغاز پر شروع ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی اور ان کے نائب پریشان اور ناخوش ہیں کیونکہ یہ معاہدہ ان کی پوزیشن کو کمزور کرتا ہے۔ مثلاً اس میں طالبان کو پاسپورٹ جاری کرنے کا اختیار دیا جانا ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ انھیں بالواسطہ ایک متوازی حکومت بنانے کا اختیار دے رہا ہے۔ ایلا ارشاد کا خیال ہے کہ افغان طالبان کی سوچ کچھ زیادہ تبدیل نہیں ہوئی ہے۔ تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کے بعد ہونے والے افغان انتخابات میں منتخب اور جمہوری حکومت قائم ہو سکے گی۔
ماہرین کے خیال میں افغان حکومت طالبان سے اپنی شرائط منوانا چاہتی ہے۔ ایک تو یہ کہ مکمل جنگ بندی ہو جائے، دوسرے یہ کہ طالبان افغان حکومت کوایک نمائندہ حکومت تسلیم کر لیں اور اس سے براہ راست مذاکرات کریں۔ بہرحال اب بین الافغان مذاکرات کے ذریعے طے ہو گا کہ طالبان کا کردار کیا ہو گا اور موجودہ حکومت کا کیا مستقبل ہو گا۔
