کیا جسٹس وقار، جج ارشد اور خادم رضوی کو قتل کیا گیا؟

جسٹس وقار احمد سیٹھ کے بعد علامہ خادم حسین رضوی اور پھر جج ارشد ملک کی کرونا وائرس سے پراسرار حالات میں اچانک اموات کے بعد سوشل میڈیا پر مبینہ سازشوں کے حوالے سے ایک طوفان برپا ہے اور ہر کوئی یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ حالیہ تاریخ کے تین اہم گواہوں کی جانیں واقعی کرونا وائرس نے لی ہیں یا اس وائرس نے جو اس ملک کو سات دھائیوں سے چمٹا ہوا ہے۔
یہ افواہیں صرف ان طبقات تک محدود نہیں ہیں جو کہ تبدیلی سرکار کے آنے اور روزگار جانے کے بعد گھروں میں بیٹھ کر موبائل فونز سے کھیلتے ہوئے وقت گزارتے ہیں۔ اچھے بھلے ذی شعور اور پڑھے لکھے لوگ بھی سازشی زاویوں سے ان تین پراسرار اور اچانک موت کے اسباب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس وقار سیٹھ اور جج ارشد ملک دونوں کی اسلام آباد کے ایک ہی ہسپتال میں اموات ہوئیں۔ تاہم دونوں جج حضرات کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کرونا سے صحت یاب ہو چکے تھے اور ان کی وفات دل کے اچانک دوروں سے ہوئیں۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر جسٹس وقار احمد سیٹھ، علامہ خادم حسین رضوی اور جج ارشد ملک کی اموات کرونا وائرس کی وجہ سے ہی ہوئی ہیں تو بھی دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں، سوچتے ذہنوں اور چلتی زبانوں کو خاموش نہیں کروایا جا سکتا جو سازشی نظریے پر یقین کر رہے ہیں اور جن کا اصرار ہے کہ یہ اموات قدرتی نہیں تھیں گلہ کمانڈ تھیں۔ اس ردعمل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ تینوں شخصیات جو کرونا کے باعث دنیا سے رخصت ہوئیں میڈیا میں خبروں کی زینت بنی ہوئی تھیں۔ تینوں کا تعلق موجودہ صورت حال کے اہم ترین عدالتی، سیاسی اور اندر خانے بُنے جانے والے تانوں بانوں سے تھا۔ اور پھت تینوں کے ساتھ کسی نہ کسی وجہ سے طاقتور حلقوں کا تعلق بنتا تھا۔ یاد رہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے جنرل مشرف کو آئین شکنی کے جرم میں چوک میں پھانسی پر لٹکانے کا حکم دیا تھا۔ جج ارشد ملک نے ایک لیک ہونے والی ویڈیو میں بتایا تھا کہ انہوں نے نواز شریف کو سزا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر سنائی تھی اور یہ کہ وہ اس پر شرمندہ ہیں۔ اسی طرح خادم حسین رضوی نے اپنی وفات سے پہلے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ بتا دیں گے کہ انہیں نواز شریف حکومت کے خلاف فیض آباد چوک میں دھرنا دینے کے لیے کس نے بھجوایا تھا۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سید طلعت حسین اسی سازشی نظریہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ اچانک فوت ہو جانے والے جج ارشد ملک سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا دینے کے متنازع احتسابی عمل کا کلیدی کردار تھے۔ اس کے بعد ان کی مبینہ ویڈیوز، ن لیگ اراکین بشمول نواز شریف سے ملاقاتیں اور راز و نیاز کی باتیں فلم بند ہونے کے بعد موجودہ سیاسی نظام کی غیر رسمی کتاب کا وہ باب ہے جس کا مطالعہ کرنے سے ہی سمجھ آتی ہے کہ پاکستان میں بڑے بڑے فیصلے پس ردہ کیسے ہوتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں احساس جرم کا شکار جج ارشد ملک ندامت و بیچارگی کا اظہار بھی کرتے ہیں اور اپنے مخصوص انداز میں وہ راز بھی طشت ازبام کرتے ہیں جو سب کو معلوم تو ہے مگر پھر بھی پردے میں ہے۔ ارشد ملک کا اسوقت اچانک دنیا سے چلے جانا جب نواز شریف کی خود کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل عدالت میں زیر سماعت ہے، ایک اہم شہادت کے خاتمے کے مترادف ہے۔
طلعت حسین کا کہنا ہے کہ خادم حسین رضوی کے پہلے سے آخری دھرنے تک بہت سے اقدامات موجودہ نظام کو بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بغل بچہ سمجھی جانے والی جماعت نے2018 کے الیکشن میں پنجاب کے اہم حلقوں سے مخصوص مذہبی ووٹ کو ن لیگ سے جدا کر کے آزاد اور نیم آزاد امیدواروں کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے ختم نبوت جیسے سنجیدہ اور حساس معاملے کو ایک ایسی قومی بحث میں تبدیل کیا گیا جس کے زیر اثر بڑے بڑے جی داروں کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور چند ایک نے تو یہ سرزمین ہی چھوڑ دی۔ بعض لوگ تو سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کر گئے۔ بعض کے سر پر اب بھی فتووں کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ خادم رضوی کی اٹھان، ان کا ہیجان اور اچانک اختتام موجودہ سیاسی نقشے میں سے ایک اہم ٹکڑا غائب کرنے کے مترادف ہے خصوصا ایک ایسے موقع پر جب کہ انہوں نے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ دنیا کو بتا دیں گے کہ ان کو نواز شریف کے خلاف دھرنا دینے کے لئے راولپنڈی کس نے بلوایا تھا۔
اسی طرح پشاور ہائی کورٹ کے جج جنرل پرویز مشرف کو پھانسی دینے کے فیصلے کے بعد بھائی لوگوں کے نشانے پر آ گئے تھے۔ اسلام آباد میں بیٹھے جج صاحبان سے عدالتی اور ذاتی معاملات پر سینگ پھنسانے کے بعد وہ اور بھی اہمیت اختیار کر گئے تھے۔ ان کے ذاتی نظریات، درویشانہ انداز زندگی اور خاموش انقلابیت سے بھرا ہوا فلسفہ حیات ان کو اپنے ہم عصروں سے جدا کرتا تھا۔ جسٹس وقار سیٹھ نے خود کو سپریم کورٹ کا جج نہ بنائے جانے کے خلاف ایک درخواست پاکستان کے چیف جسٹس کی عدالت میں دائر کر رکھی تھی جس کی شنوائی ان کی موت تک نہ ہوسکی۔ ان تینوں لوگوں کی ایک ہی مہینے میں اموات اس لیے بھی حیران کن ہیں کہ یہ لوگ چند اہم ترین سیاسی تنازعات سے جڑے ہوئے تھے۔ اس لیے سیانے لوگ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ یہ سب اموات اتفاقی حادثات ہیں۔ وہ بار بار سوال اٹھا کر اس تجزیے کو زندہ کرتے ہیں کہ بادی النظر میں اسباب اموات جو بھی ہوں پس پردہ محرکات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال اگر ان اموات کو سیاسی پیرائے سے ہٹا کر دیکھیں تو ان میں وائرس کی بے رحمانہ قوت کے سامنے بے بسی کے علاوہ کوئی اور خاص پہلو نظر نہیں آتا۔
سید طلعت حسین کے خیال میں اگر اس ملک میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پُتلی تماشے نہ چلائے جاتے اور عدالتی و دینی معاونت کو دباؤ اور گھیراؤ کے ذریعے حاصل کر کے نت نئے تجربات نہ ہوتے تو ان تین اموات پر طبی بحث کے علاوہ کسی اور پہلو کی تلاش نہ ہو رہی ہوتی۔ ہمارے ملک میں سازش کی تھیوری صرف اس وجہ سے مقبول نہیں ہے کہ قوم کا ذہن ایسی وضاحتوں پر یقین رکھنے کی طرف زیادہ مائل ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ملکی اور ریاستی نظام کو سازشوں کے ذریعے چلانے کے کئی اندوہناک تجربات کیے ہیں جن کا دور ابھی بھی ختم نہیں ہوا۔ ہم نے قوم کو ایسے حالات سے گزارا ہے کہ جس میں انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے پس پردہ ہاتھوں کی جنبش کے ذریعے بھونچال بنتے ہوئے دیکھے ہیں۔ عوام کے سامنے بڑے بڑے دعوے حقائق کے ہاتھوں پٹتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ ان حالات میں یہ سمجھنا کہ ان اہم لوگوں کی اچانک اموات پر چہ میگویاں نہیں ہون گی، حقیقت پسندانہ رویہ نہیں ہے۔ اگر ریاست چاہتی ہے کہ ایسیے سازشی نظریات عوام کے ذہنوں میں نہ آئیں تو پھر اسے اصولی طور پر سازشوں سے دوری اختیار کرنا ہو گی۔
