کیا پاکستان میں ‘رائٹ ٹو انفارمیشن’ قانون کا مؤثر استعمال ہو رہا ہے؟

پاکستان کا شمار دنیا کے ان 130 ممالک میں ہوتا ہے جہاں معلومات تک رسائی کا قانون موجود ہے تاہم گورننس کی راہ میں رکاوٹ نااہل بیوروکریسی کی وجہ سے معلومات کے حصول کیلئے جہاں عوام کو دفاتر کے کئی کئی چکر لگوائے جاتے ہیں اور کئی مہینوں کے انتظار کے بعد یا تو نامکمل معلومات فراہم کر کے ٹرخا دیا جاتا ہے یا معلومات کی فراہمی سے یکسر انکار کر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں معلومات تک رسائی کا قانون نافذ العمل ہے جس کے تحت کوئی بھی پاکستانی شہری سرکاری اداروں سے متعلق معلومات حاصل کر سکتا ہے۔قانون کے تحت پاکستانی شہری سرکاری اداروں کی کارکردگی، ملازمین کی تنخواہوں اور انہیں حاصل مراعات سمیت اپنے علاقے میں ترقیاتی کاموں پر کیے گئے اخراجات سے متعلق معلومات بھی حاصل کر سکتا ہے۔شہریوں کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ یہ معلومات بھی حاصل کر سکتے ہیں کہ اُن کی جانب سے ادا کیے گئے ٹیکس سے کون سے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے۔
پاکستان میں 2017 میں ‘رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ’ باضابطہ طور پر نافذ کیا گیا جس کے بعد سرکاری معلومات کا حصول ممکن ہو گیا ہے تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک میں شفاف اور بہتر گورننس کے لیے اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا بھی ضروری ہے جو سرکاری معلومات کو عام کرنے کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔پاکستان کے آئین میں 2010 میں کی جانے واالی 18 ویں ترمیم کے ذریعے معلومات تک رسائی کو بنیادی حقوق میں شامل کیا گیا جس کے بعد 2017 میں معلومات تک رسائی کا قانون پارلیمان نے منظور کر لیا۔اس قانون کے تحت پاکستان انفارمیشن کمیشن کا قیام کا عمل میں آیا جو اطلاعات تک رسائی کے قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن کے سربراہ محمد اعظم کے مطابق سرکاری محکمے کسی بھی شہری کی جانب سے معلومات کے حصول کی درخواست کے 10 روز کے اندر مطلوبہ معلومات دینے کے پابند ہیں۔ تاہم شرط یہ ہے کہ متعلقہ معلومات سے متعلق کوئی قانونی پابندی یا استثنٰی نہ ہو۔لیکن اُن کے بقول اگر یہ معلومات 10 روز کے اندر فراہم نہیں کی جاتیں یا شہری اس سے مطمئن نہیں تو وہ اس ضمن میں پاکستان انفارمیشن کمیشن سے رجوع کر سکتا ہے۔محمد اعظم کے بقول یہ اپیل تحریری طور پر براہ راست یا آن لائن بھی کمیشن کو ویب سائٹ کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کو اپیل دائر کرنے کے لیے کسی وکیل کی ضرورت نہیں ہے کوئی بھی شہری یہ اپیل ذاتی حیثیت میں کمیشن میں دائر کر سکتا ہے۔
اُن کے بقول شہری کو یہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں کہ وہ معلومات کسی مقصد کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے۔محمد اعظم کا کہنا ہے کہ اب تک کمیشن کو تقریباً 750 اپیلیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے 276 کا فیصلہ ہو چکا ہے جس کے تحت متعقلہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ شہریوں کو ان کی مطلوبہ معلومات فراہم کریں۔ان کے بقول اب تک کمیشن کو موصول ہونے والی اپیلوں میں سے 35 فی صد صحافیوں کی طرف سے ہیں جب کہ باقی ماندہ عام شہریوں کی طرف سے ہیں۔محمد اعظم کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کو مختلف محکموں سے ذاتی نوعیت کی شکایات بھی ہیں اور ایسی شکایات بھی ہیں جن کا تعلق اجتماعی نوعیت کی معاملات سے ہے۔
محمد اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں معلومات تک رسائی کا قانون بنے ابھی چند سال ہی ہوئے ہیں اس لیے کچھ مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ان کے بقول سرکاری حکام کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ عوام اپنے ٹیکس کے پیسوں کے مصرف سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے حق دار ہیں۔محمد اعطم کا مزید کہنا ہے کہ کمیشن کو اپنے انتظامی اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید وسائل کی ضرورت ہے۔
معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت سرکاری اداروں کے پاس بعض معلومات کو عام نہ کرنے کے لیے استثنٰی بھی حاصل ہے جس کی تفصیل اس قانون میں بھی موجود ہے۔قانون کے مطابق قومی سلامتی کے امور سے متعلق معلومات، مثلاً دفاعی تنصیبات، پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔البتہ، فوجی اداروں کی فلاح و بہبود سے متعلق اور ان پر آنے والے اخراجات سے متعلق معلومات کے حصول پر کوئی پابندی نہیں۔لیکن اگر کسی بھی محکمے کا وزیر اس بات کا تعین کرے کہ یہ معلومات فراہم کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے تو اس صورت میں وہ یہ معلومات فراہم کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔ لیکن اپیل دائر ہونے کی صورت میں انفارمیشن کمیشن ہی حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔
دوسری طرف تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا بھر میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ‘رائٹ ٹو انفارمیشن قانون’ سے گورننس بہتر کرنے میں مدد ملتی ہے اور اس سے اداروں میں شفافیت آتی ہے۔اُن کے بقول پاکستان میں پہلی مرتبہ 2003 میں ‘رائٹ ٹو انفارمیشن’ کا قانون آیا۔ لیکن یہ اتنا مؤثر نہیں تھا۔لیکن اُن کے بقول 2017 میں منظور ہونے والا قانون بہتر ہے اور اس سے مجموعی طور پر معلومات تک رسائی کے حصول میں مدد ملی ہے۔ لیکن احمد بلال سمجھتے ہیں کہ اب بھی اس قانون کے مزید مؤثر ہونے کی راہ میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔
تضزیہ کاروں کے بقول اگرچہ وفاق اور پاکستان کے چار میں سے تین صوبوں سوائے بلوچستان میں اطلاعات تک رسائی کے قوانین موجود ہیں لیکن ان کے نفاذ اور اس قانون سے متعلق عوام میں آگاہی بہت کم ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوام میں اس قانون سے متعلق آگاہی کم ہونے کے باعث یہ قانون زیادہ مؤثر نہیں ہے جب کہ کئی سرکاری اداروں میں بھی اس قانون سے متعلق افسران کو معلومات نہیں ہیں۔اُن کا مزید کہنا ہے کہ کئی سرکاری ادارے ایسے ہیں جنہوں نے تاحال فوکل پرسن تک تعینات نہیں کیے۔ان کے بقول اطلاعات تک رسائی کے قانون میں یہ بھی لازم ہے کہ تمام سرکاری ادارے اپنے محکمے کے بارے میں ابتدائی معلومات اپنی ویب سائٹ پر رکھنے کے پابند ہیں۔ تاہم کئی اداروں نے تاحال اس پر عمل نہیں کیا۔
تجزیہ کار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جو اب بھی معلومات عوام کو فراہم کرنے کی راہ میں حائل ہے۔اُن کے بقول اب بھی سرکاری محکموں میں ایسے افسران موجود ہیں جو اپنے طور پر یہ طے کر لیتے ہیں کہ یہ معلومات عوام کو دینی چاہئیں یا نہیں۔ حالاںکہ قانون نے یہ طے کر دیا ہے کہ سوائے ایسی معلومات جن کے حوالے سے قانون میں استثنٰی ہے اس کے علاوہ ساری معلومات عوام کو فراہم کی جا سکتی ہیں۔تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ انفارمیشن کمیشن کو مزید با اختیار بنان کر اور اسے وسائل فراہم کر کے ہی معلومات تک رسائی کے قانون پر مؤثر عمل درآمد کرایا جا سکتا ہے۔تجزیہ کارکہتے ہیں کہ پاکستان میں اس قانون کے خلاف اب بھی کچھ طبقات متحرک ہیں۔اُن کے بقول سینیٹ میں حکومتی جماعت نے اس قانون میں ترمیم کے لیے نوٹس دے رکھا ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایک خود مختار ادارہ ہونے کے ناطے پارلیمان پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اطلاعات تک رسائی کا قانون نہ صرف ملک میں شفافیت اور جمہوری اقدار کو بہتر کرتا ہے بلکہ اس سے کرپشن کے خاتمے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔اُن کے بقول گو کہ بہت کم لوگ اس قانون سے استفادہ کر رہے ہیں۔ تاہم جو لوگ بھی اس کا استعمال کر رہے ہیں اُنہیں اس کا فائدہ بھی ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں اس قانون کے مثبت استعمال سے لامحالہ گورننس بھی بہتر ہو رہی ہے اور لوگوں کے مسائل بھی حل ہو رہے ہیں بلاشبہ جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے یہ قانون بہت سود مند ہو سکتا ہے اور اس کے مؤثر استعمال سے عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بڑھے گا۔
