بھارتی آبی جارحیت میں شدت، پاکستانی دریاؤں کو خشک کرنے کا منصوبہ بے نقاب

بھارت نے پاکستان کے خلاف جاری آبی جارحیت میں مزید شدت لاتے ہوئے پاکستانی دریاؤں پر مجموعی طور پر 3,120 میگاواٹ صلاحیت کے متعدد آبی منصوبے مکمل کر لیے ہیں۔ ان منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد بھارت کی پاکستان کی جانب آنے والے دریائی پانی کے بہاؤ کو نمایاں حد تک روکنے اور اس کے انتظام پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے بھارت کو دریاؤں کے بہاؤ کو منظم کرنے کی زیادہ گنجائش حاصل ہوگی، جس کے باعث پاکستان کے لیے پانی کی دستیابی، زرعی سرگرمیوں اور آبی وسائل کے انتظام سے متعلق خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے لیے مختص مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے منصوبوں میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے تقریباً 3,120 میگاواٹ صلاحیت کا ہائیڈرو پاور نیٹ ورک مکمل کر لیا ہے، جبکہ صرف دریائے چناب کے بیسن میں مزید 7,250 میگاواٹ کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ پاکستانی آبی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں بھارت کو دریاؤں کے بہاؤ کے وقت اور مقدار پر زیادہ اثر انداز ہونے کی صلاحیت دے سکتی ہے، جس سے پاکستان کے آبی، زرعی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت نے 23 اپریل 2025 کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا اعلان کیا تھا، جبکہ پاکستان اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے منافی قرار دیتے ہوئے سفارتی اور قانونی سطح پر اپنا مقدمہ پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
سرکاری منصوبہ بندی سے متعلق معلومات کے مطابق بھارت مغربی دریاؤں پر پہلے ہی 3,120 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔اس میں دریائے چناب پر سلال، دلہستی اور بگلیہار منصوبے تقریباً 1,980 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں، جبکہ جہلم بیسن میں اڑی-I، اڑی-II اور کشن گنگا منصوبوں سے تقریباً 1,050 میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ لداخ میں دریائے سندھ پر نیمو بازگو اور چٹک منصوبوں سے مزید 89 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے مغربی دریاؤں پر مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار میگاواٹ پن بجلی کی صلاحیت رکھنے والے مقامات کی نشاندہی کر رکھی ہے، جن پر مستقبل میں مزید منصوبے تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستانی آبی ماہرین کے مطابق اصل تشویش صرف بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں بلکہ ان ڈیموں کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو محدود مدت کے لیے روکنے یا چھوڑنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت ہے۔اگرچہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو مغربی دریاؤں کا پانی مستقل طور پر روکنے کی اجازت نہیں، تاہم متعدد رن آف دی ریور (Run-of-the-River) منصوبوں کے ذریعے پانی کے بہاؤ کے وقت میں ردوبدل ممکن ہو سکتا ہے، جس کے اثرات خاص طور پر زرعی موسم میں پاکستان کی آبپاشی، فصلوں اور آبی ذخائر پر پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں مزید منصوبے مکمل ہوتے ہیں تو پاکستان کے لیے پانی کے انتظام، زرعی منصوبہ بندی اور غذائی تحفظ کے چیلنجز مزید بڑھ سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ "پاکستان کے پانی پر ہاتھ ڈالنے والے کا ہاتھ کاٹ دیں گے۔”انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت، روزگار اور غذائی تحفظ کا بنیادی انحصار پانی اور زراعت پر ہے، اس لیے ملک اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ان کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر بھی اپنا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کرے گا اور آئندہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں سندھ طاس معاہدے، بین الاقوامی آبی قوانین اور زیریں علاقوں میں واقع ممالک کے حقوق کا مؤثر دفاع کیا جائے گا۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ کسی ایک فریق کی جانب سے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور عسکری قیادت متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ پانی پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے۔
ادھر بھارت نے دریائے چناب پر واقع سلال ڈیم سے تقریباً 70 ہزار کیوسک پانی چھوڑا، جس کے بعد مرالہ ہیڈ ورکس پر پانی کے بہاؤ میں تقریباً 30 ہزار کیوسک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ آبپاشی کے مطابق صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور دریا معمول کے بہاؤ کے اندر ہے۔ کسی مقام پر درمیانے یا اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ موجود نہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال پاکستان کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک چیلنج ہے۔ اگر بھارت مغربی دریاؤں پر مزید پن بجلی منصوبے مکمل کرتا ہے تو پانی کے بہاؤ کے انتظام میں اس کی صلاحیت مزید بڑھے گی، جس کے باعث پاکستان کو جدید آبی ذخائر، بہتر واٹر مینجمنٹ، ڈیموں کی تعمیر اور سفارتی محاذ پر زیادہ فعال حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔دوسری جانب پاکستان کا مؤقف ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی بین الاقوامی قانونی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے تحت پاکستان کے پانی کے حقوق محفوظ ہیں۔ تاہم بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ سفارت کاری، قانونی اقدامات اور اندرونی آبی منصوبہ بندی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ آبی بحران سے نمٹا جا سکے۔
