نمبر کی بجائے”یوزرنیم”سے چیٹ، واٹس ایپ نے رابطوں کا طریقہ بدل دیا

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے ایک ایسی بڑی تبدیلی متعارف کرانے جا رہی ہے جو برسوں سے چلے آ رہے رابطے کے طریقہ کار کو بدل سکتی ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ جلد صارفین فون نمبر شیئر کیے بغیر صرف یوزرنیم کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ اور چیٹ کر سکیں گے۔اس نئے فیچر کو واٹس ایپ کی تاریخ کی اہم ترین پرائیویسی اپ ڈیٹس میں شمار کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے بعد نئے افراد سے گفتگو یا کسی گروپ میں شامل ہونے کے لیے ذاتی فون نمبر ظاہر کرنا ضروری نہیں رہے گا۔
واٹس ایپ کے نئے نظام کے تحت ہر صارف ایک منفرد یوزرنیم منتخب کر سکے گا، جو اس کی شناخت کا بنیادی ذریعہ ہوگا۔ صارفین یہی یوزرنیم دوسروں کے ساتھ شیئر کرکے گفتگو شروع کر سکیں گے، جبکہ ان کا اصل موبائل نمبر نجی رہے گا۔یہ تبدیلی خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے جو کاروباری، تعلیمی یا پیشہ ورانہ مقاصد کے لیے روزانہ نئے لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں، لیکن اپنا ذاتی نمبر شیئر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق اس فیچر کا بنیادی مقصد صارفین کی ذاتی معلومات کا تحفظ ہے۔ چونکہ موبائل نمبر کسی بھی فرد کی اہم ذاتی معلومات میں شمار ہوتا ہے، اس لیے واٹس ایپ نے اسے زیادہ محفوظ بنانے کے لیے رابطے کا نیا طریقہ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس تبدیلی کے بعد صارفین کو ہر نئے رابطے کے ساتھ اپنا فون نمبر شیئر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، جس سے غیر ضروری کالز، اسپام پیغامات اور ناپسندیدہ رابطوں کے امکانات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ یوزرنیم کا تصور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے، تاہم واٹس ایپ نے واضح کیا ہے کہ اس کا نظام ان پلیٹ فارمز سے مختلف ہوگا۔کمپنی کے مطابق واٹس ایپ پر نہ تو کوئی عوامی سرچ ڈائریکٹری ہوگی اور نہ ہی صارفین کے لیے خودکار تجاویز (Suggestions) فراہم کی جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو صرف اس صورت میں رابطہ کیا جا سکے گا جب اس کا یوزرنیم دستیاب ہو یا وہ خود اسے شیئر کرے۔اس طریقہ کار سے غیر ضروری رابطوں اور پرائیویسی سے متعلق خدشات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کے مطابق اس نئی سہولت سے کانٹینٹ کریئیٹرز، فری لانسرز، چھوٹے کاروبار، آن لائن فروش اور مختلف ادارے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔وہ اپنے برانڈ یا کاروبار کا ایک ہی یوزرنیم مختلف پلیٹ فارمز، جیسے انسٹاگرام، فیس بک اور واٹس ایپ پر استعمال کر سکیں گے، جس سے صارفین کے لیے انہیں تلاش کرنا اور رابطہ کرنا مزید آسان ہو جائے گا، جبکہ ان کا ذاتی موبائل نمبر بھی محفوظ رہے گا۔
واٹس ایپ کے مطابق یوزرنیم پر مبنی رابطے کا یہ نیا نظام رواں سال کے اختتام تک مرحلہ وار صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیچر کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو واٹس ایپ کے استعمال کا انداز بدل سکتا ہے اور صارفین کو پرائیویسی، سکیورٹی اور پیشہ ورانہ رابطوں کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ سہولت حاصل ہوگی۔
واٹس ایپ کا یوزرنیم سسٹم صرف ایک نیا فیچر نہیں بلکہ رابطوں کے طریقہ کار میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ اس کے ذریعے صارفین اپنی شناخت پر زیادہ کنٹرول حاصل کریں گے، ذاتی معلومات محفوظ رکھ سکیں گے اور صرف اپنی مرضی کے مطابق لوگوں سے رابطہ قائم کر سکیں گے۔ڈیجیٹل پرائیویسی کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کے تناظر میں یہ اقدام مستقبل کی محفوظ اور زیادہ نجی آن لائن کمیونیکیشن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
