آن لائن فراڈ اوردھوکہ دہی،پنجاب سبقت لے گیا

پاکستان میں آن لائن فراڈ خطرناک حد تک بڑھ گیا، پنجاب سب سے زیادہ متاثر، لاکھوں شکایات نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ پاکستان میں واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہیکنگ، آن لائن مالیاتی فراڈ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے دھوکا دہی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک سال کے دوران لاکھوں شکایات موصول ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم کی بڑھتی ہوئی لہر کے مقابلے کے لیے متعلقہ اداروں کو جدید ٹیکنالوجی، بین الاقوامی تعاون اور مؤثر قانونی نظام کی ضرورت ہے، بصورت دیگر عوام کو مالی اور سماجی نقصان کا سامنا بدستور رہے گا۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2024 میں واٹس ایپ، فیس بک، مالیاتی فراڈ اور دیگر آن لائن دھوکا دہی سے متعلق 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن میں 63 فیصد شکایات پنجاب سے جبکہ باقی 37 فیصد دیگر صوبوں سے تھیں۔2025 کے دوران 2 لاکھ 54 ہزار 930 نئی شکایات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ شہریوں کی جانب سے معلومات اور مدد کے لیے پانچ لاکھ سے زائد فون کالز اور ای میلز بھی موصول ہوئیں۔اعداد و شمار کے مطابق صرف مالیاتی فراڈ سے متعلق 85 ہزار سے زیادہ اور براہِ راست ہیکنگ کے 25 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں متعدد متاثرین کی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ سائبر مجرم مختلف طریقوں سے لوگوں کو مالی نقصان پہنچا رہے ہیں۔گریڈ 20 کے سرکاری افسر محمد افضل احمد کے واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنے کے بعد ہیکرز نے ان کے دوستوں اور رشتہ داروں سے فوری مالی مدد کے نام پر رقم طلب کی، جس پر کئی افراد نے موبائل بینکنگ کے ذریعے رقم بھی منتقل کر دی۔اسی طرح رضوان انور کے نام سے جعلی فیس بک اکاؤنٹ بنا کر ان کے جاننے والوں سے پیسے مانگے گئے، جبکہ مکینک شاہد علی کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ذریعے مبینہ طور پر تقریباً پانچ لاکھ روپے وصول کر لیے گئے۔متاثرین کا کہنا ہے کہ شکایات درج کرانے کے باوجود انہیں فوری اور مؤثر کارروائی دیکھنے کو نہیں ملی۔

2025 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کی جگہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) قائم کی گئی تاکہ بڑھتے ہوئے سائبر جرائم سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔تاہم گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پروفیسر عامر نسیم کے مطابق ادارے کے پاس اب بھی جدید ڈیجیٹل فرانزک ٹولز، جدید سافٹ ویئر اور اپ ڈیٹڈ تفتیشی نظام کی کمی ہے، جس کی وجہ سے ہیکرز کا سراغ لگانا آسان نہیں۔ان کے مطابق ایک اور اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ متعلقہ پاکستانی اداروں کے واٹس ایپ، فیس بک اور دیگر عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ براہ راست اور مؤثر ادارہ جاتی روابط یا باضابطہ معاہدے موجود نہیں، جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر ڈیٹا حاصل کرنے اور تحقیقات مکمل کرنے میں وقت لگتا ہے۔

فروری 2026 تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ہر ماہ 500 سے 700 نئی شکایات سوشل میڈیا ہیکنگ اور آن لائن فراڈ سے متعلق موصول ہو رہی ہیں۔حکام کے مطابق صرف پنجاب میں روزانہ دو ہزار سے زائد فون کالز اور ای میلز ہیکنگ، جعلی اکاؤنٹس، مالیاتی فراڈ اور سائبر جرائم کے حوالے سے مدد کے لیے موصول ہوتی ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سائبر فراڈ سے بچاؤ کے لیے شہریوں کو چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (Two-Factor Authentication) فعال رکھیں، کسی بھی او ٹی پی (OTP) یا تصدیقی کوڈ کو کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، مشکوک لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں، اور اگر کسی دوست یا عزیز کی جانب سے اچانک رقم مانگی جائے تو پہلے فون کال یا کسی دوسرے ذریعے سے اس کی تصدیق ضرور کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ، آن لائن کاروبار اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ سائبر جرائم بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانا ہی کافی نہیں، بلکہ عوامی آگاہی، جدید تفتیشی نظام اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مؤثر تعاون بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آن لائن فراڈ نہ صرف شہریوں کے مالی نقصان کا باعث بنتا رہے گا بلکہ ڈیجیٹل معیشت پر عوام کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

Back to top button