سپیکر پنجاب اسمبلی اور مریم حکومت آمنے سامنے کیوں آ گئے؟

پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے میں جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے متعارف کرائے گئے نئے قانون نے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ سپیکر پنجاب اسمبلی کو بھی مریم نواز حکومت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ مجوزہ قانون پر سب سے اہم اعتراض خود پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان کی جانب سے سامنے آیا ہے، جس کے بعد یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سپیکر اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حکومت اس معاملے پر ایک دوسرے کے سامنے آ گئے ہیں۔
پنجاب حکومت نے جو نیا قانون اسمبلی میں پیش کیا ہے، اس کا مقصد عادی مجرموں، قبضہ مافیا، منشیات فروشوں، بھتہ خوروں، فراڈیوں اور دیگر سماج دشمن عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم بل کی متعدد شقیں منظر عام پر آنے کے بعد اس پر سیاسی، قانونی اور آئینی حلقوں میں شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بل کا سب سے زیادہ متنازع پہلو وہ اختیارات ہیں جو انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر ان اختیارات کی واضح قانونی حدود مقرر نہ کی گئیں تو مستقبل میں ان کا استعمال نہ صرف جرائم پیشہ عناصر بلکہ سیاسی مخالفین، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور حکومت پر تنقید کرنے والے افراد کے خلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔
بل کے مطابق ایسے افراد جو مسلسل جرائم میں ملوث ہوں یا جن کی سرگرمیوں سے معاشرے میں خوف، بدامنی یا عوامی پریشانی پیدا ہو، ان کے خلاف خصوصی نگرانی، الیکٹرانک ٹریکنگ ڈیوائسز، سیکیورٹی بانڈز، انتظامی نگرانی اور خلاف ورزی کی صورت میں قید و جرمانے سمیت مختلف اقدامات کیے جا سکیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس طرح منظم جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ تاہم سب سے زیادہ تنازع ان شقوں پر پیدا ہوا ہے جن کے تحت پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایسا مواد نشر یا شائع کرنا قابل گرفت جرم قرار دیا گیا ہے جس سے کسی شخص کی شہرت، ساکھ یا مالی حیثیت متاثر ہو۔ اسی طرح سرعام مغلظات بکنے پر تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جسے ناقدین آزادی اظہار سے متعلق آئینی حقوق کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
بل میں قبضہ مافیا، منشیات فروشی، جسم فروشی، شراب نوشی، غیر قانونی ذرائع سے آمدنی، سرکاری اداروں کے نام یا وردی کے ناجائز استعمال، دھوکہ دہی سے خیرات جمع کرنے اور جرائم پیشہ عناصر کی معاونت جیسے جرائم کو بھی قانون کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان تمام سرگرمیوں کے خلاف مربوط قانونی کارروائی کے لیے ایک جامع قانون کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ بل میں استعمال ہونے والی متعدد اصطلاحات انتہائی مبہم اور وسیع ہیں۔ ان کے مطابق "سماج دشمن رویہ” یا "عوامی پریشانی” جیسے الفاظ کی کوئی واضح قانونی تعریف موجود نہیں، جس کی وجہ سے متعلقہ حکام کو غیر معمولی صوابدیدی اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے سینئر رکن اور ممتاز قانون دان رانا آفتاب احمد خان نے اس قانون کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسے موجودہ شکل میں منظور کیا گیا تو اسکے ذریعے صحافیوں، سیاسی کارکنوں، سوشل میڈیا صارفین اور حکومت پر تنقید کرنے والے شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ بل کی متنازع شقوں کو ازسرنو تحریر کیا جائے۔
دوسری جانب اس معاملے میں سب سے غیر معمولی پیش رفت پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان کا ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران جب اپوزیشن نے اس بل پر اعتراضات اٹھائے تو سپیکر نے کہا کہ وہ خود بھی اس بل کی تمام تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں اور وہ اس کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سپیکر کا یہ بیان محض ایک رسمی ردعمل نہیں بلکہ اس نے یہ سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ آیا حکومت نے اتنے اہم قانون پر اسمبلی کی قیادت کو بھی مکمل اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ ان کے بقول اگر سپیکر واقعی اس قانون کی تفصیلات سے لاعلم تھے تو یہ حکومتی قانون سازی کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے اندر اس معاملے پر پیدا ہونے والی یہ صورت حال غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ عمومی طور پر حکمران جماعت کے سپیکر حکومت کے قانون سازی ایجنڈے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ تاہم اس معاملے میں سپیکر ملک احمد خان کا تنقیدی رویہ اس تاثر کو تقویت دے رہا ہے کہ بل کی بعض شقوں پر حکومتی صفوں کے اندر بھی مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔
ادھر پنجاب حکومت تاحال اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ مجوزہ قانون کا مقصد صرف جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قانون کا سیاسی مخالفین، میڈیا یا عام شہریوں کی آزادی اظہار کو محدود کرنے سے کوئی تعلق نہیں اور اگر قائمہ کمیٹی مناسب سمجھے تو بعض شقوں میں ترامیم بھی کی جا سکتی ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں عادی مجرموں کی نگرانی اور منظم جرائم کے خاتمے کے لیے خصوصی قوانین موجود ہیں، تاہم ان قوانین میں شہری آزادیوں، عدالتی نگرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق پنجاب کے مجوزہ قانون میں بھی ایسے حفاظتی اقدامات واضح طور پر شامل کیے جانے چاہییں تاکہ اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ کم ہو۔
مبصرین کے مطابق اگر حکومت قائمہ کمیٹی میں اپوزیشن، قانونی ماہرین، صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے نمائندوں کی تجاویز کو شامل کر لیتی ہے تو یہ قانون زیادہ متوازن اور قابل قبول شکل اختیار کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر اس کے خلاف نہ صرف سیاسی مزاحمت بڑھے گی بلکہ اس کی بعض شقیں عدالتوں میں بھی چیلنج کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
مجموعی طور پر پنجاب حکومت کا یہ مجوزہ "غنڈہ مار قانون” جرائم کے خاتمے کی حکومتی حکمت عملی سے زیادہ اپنی متنازع شقوں اور حکومتی صفوں کے اندر سامنے آنے والے اختلافات کی وجہ سے زیر بحث آ چکا ہے۔ بالخصوص سپیکر ملک احمد خان کے حالیہ مؤقف نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا حکومت اس قانون کو موجودہ شکل میں آگے بڑھا سکے گی یا پھر اسے وسیع ترامیم کے بعد ہی پنجاب اسمبلی سے منظوری مل سکے گی۔
