سپیکر نے مریم حکومت کا لایا گیا نیا قانون بل واپس کیوں کیا؟

پنجاب اسمبلی میں پیش کیے گئے "پنجاب کنٹرول آف ہیبچوئل آفینڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیویئر بل 2026” نے سیاسی، قانونی اور آئینی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بظاہر اس قانون کا مقصد عادی مجرموں، منظم جرائم، سائبر کرائم، نفرت انگیز سرگرمیوں اور امن و امان کو متاثر کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ہے، تاہم اس کی متعدد شقوں نے بنیادی انسانی حقوق، عدالتی اختیار اور انتظامیہ کے اختیارات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دuیے ہیں۔

تاہم اس حوالے سے تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے خود ایوان میں انکشاف کیا کہ انہیں اس بل کی منظوری کے عمل اور اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی بھجوانے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ انہوں نے اسمبلی سیکرٹریٹ سے سخت بازپرس کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کی منظوری کے بغیر کسی بل کو آگے بڑھانا پارلیمانی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے، جس کے بعد بل کی کارروائی عارضی طور پر روک دی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ قانون کے مطابق صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر انٹیلی جنس کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جن میں سول انتظامیہ، پولیس، سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور وفاقی انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹیاں دہشت گردی، منظم جرائم، سماجی امن، مذہبی اجتماعات، اقلیتوں کے تحفظ، این جی اوز، کرایہ داروں، مہمانوں اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی جیسے معاملات کا جائزہ لیں گی۔ بل کے مطابق کمیٹیوں کو اختیار ہوگا کہ وہ کسی شخص کو "عادی مجرم” قرار دینے کے لیے کارروائی کی سفارش کریں اور متعلقہ اداروں کو مختلف اقدامات کی ہدایت دیں۔

بل میں "اینٹی سوشل بیہیویئر” کی تعریف انتہائی وسیع رکھی گئی ہے۔ اس میں جعلی دستاویزات، دھوکہ دہی، بلیک مارکیٹنگ، سائبر کرائم، آن لائن ہراسانی، جعلی خبریں، افواہیں، نفرت انگیز مواد، سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی، ہوائی فائرنگ، اسلحے کی نمائش، جانوروں سے بدسلوکی اور دیگر جرائم شامل کیے گئے ہیں۔تاہم سب سے زیادہ تنقید اس شق پر ہو رہی ہے جس کے مطابق ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی اپنی صوابدید پر کسی بھی سرگرمی کو "اینٹی سوشل” قرار دے سکتی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق یہی مبہم اختیار مستقبل میں اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

بل کی سب سے زیادہ متنازع شق یہ ہے کہ ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی صرف کسی شکایت یا ابتدائی انکوائری کی بنیاد پر متعلقہ شخص کے خلاف متعدد سخت اقدامات کی سفارش کر سکتی ہے۔ ان سفارشات میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک یا ضبط کرنا، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنا، اسلحہ لائسنس منسوخ کرنا، سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہٹوانا، موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر الیکٹرانک آلات ضبط کرنا، ان سے حاصل ہونے والے ڈیجیٹل ڈیٹا کو آئندہ مقدمات میں بطور ثبوت استعمال کرنا، الیکٹرانک نگرانی یا ٹریکنگ ڈیوائس لگانا، اور منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کی ضبطی یا اٹیچمنٹ کی سفارش کرنا شامل ہے۔ ناقدین کے مطابق ان اقدامات میں سے کئی ایسے ہیں جن کے لیے کسی عدالتی سزا یا مقدمے کے حتمی فیصلے کی شرط موجود نہیں، جس کے باعث شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات سامنے آ رہے ہیں۔

مجوزہ بل کے مطابق اگر کسی شخص کے خلاف مخصوص جرائم میں ایک سے زائد مقدمات درج ہوں، یا وہ بار بار منظم جرائم یا اینٹی سوشل سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے، تو پولیس مجسٹریٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔ مجسٹریٹ شواہد اور سماعت کے بعد ایسے شخص کو "ہیبچوئل آفینڈر” قرار دے کر کم از کم تین ماہ کے لیے اس کے جسم پر الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس نصب کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس ڈیوائس کی شرائط کی خلاف ورزی کرے یا اسے نقصان پہنچائے تو اس کے لیے قید اور بھاری جرمانے بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ ایسے افراد کی تصاویر، فنگر پرنٹس، بائیومیٹرک ریکارڈ اور بعض صورتوں میں ڈی این اے بھی سرکاری ڈیٹا بیس میں محفوظ رکھا جا سکے گا۔بل میں اپیل کا حق تو دیا گیا ہے، تاہم انٹیلی جنس کمیٹیوں کے بیشتر فیصلوں کے خلاف اپیل پہلے انتظامی کمیٹیوں کے پاس جائے گی، جبکہ بعد ازاں ایک خصوصی ٹریبونل سے رجوع کیا جا سکے گا۔صرف کسی شخص کو "عادی مجرم” قرار دینے کے فیصلے کے خلاف سیشن کورٹ میں اپیل کی جا سکے گی۔

اپوزیشن نے اس قانون کو بنیادی انسانی حقوق، شہری آزادیوں اور آئینی تحفظات کے خلاف قرار دیا ہے۔پیپلز پارٹی سمیت حکومتی اتحادی جماعتوں کے بعض ارکان نے بھی اس پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر قانون اسی شکل میں منظور کیا گیا تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے بھی واضح کیا کہ کسی شہری کے بنیادی حقوق محدود کرنے کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہونا چاہیے، جبکہ انہوں نے قانون سازی کے طریقہ کار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس بل کے دو پہلو نمایاں ہیں۔ ایک جانب حکومت مؤقف اختیار کرتی ہے کہ جدید دور میں منظم جرائم، سائبر کرائم، بلیک میلنگ، نفرت انگیز مہمات اور عادی مجرموں کے خلاف مؤثر قانونی فریم ورک ناگزیر ہے۔دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ بل میں "اینٹی سوشل سرگرمی” کی تعریف بہت وسیع اور مبہم ہے، جبکہ انتظامیہ کو ایسے اختیارات دیے جا رہے ہیں جو عدالتی نگرانی کے بغیر شہریوں کی نقل و حرکت، مالی معاملات، شناختی دستاویزات اور ڈیجیٹل زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتے ہیں۔اسی وجہ سے یہ بل محض ایک قانونی مسودہ نہیں بلکہ آئندہ دنوں میں بنیادی حقوق، شہری آزادیوں اور ریاستی اختیارات کے درمیان توازن سے متعلق ایک بڑی آئینی بحث کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

Back to top button