55برس بعد پاکستان دوبارہ خاموش سفارت کاری کا مرکزکیسے بنا؟

اسلام آباد ایک مرتبہ پھر عالمی سفارت کاری کے مرکز میں کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی، 38 روزہ جنگ کے خاتمے، جنگ بندی، مفاہمتی یادداشت اور جامع امن معاہدے کے لیے شروع ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے ممکنہ کردار نے بین الاقوامی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ متعدد سفارتی رپورٹس اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر ایسے فریقین کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا ہے جن کے درمیان براہِ راست بات چیت نہایت مشکل سمجھی جا رہی تھی۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ اسلام آباد عالمی طاقتوں کے درمیان خاموش سفارت کاری کا مرکز بنا ہو۔ آج سے تقریباً 55 برس قبل بھی پاکستان نے ایک ایسا ہی کردار ادا کیا تھا جس نے نہ صرف سرد جنگ کی سیاست بدل دی بلکہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز بھی کیا۔1971 کے موسم گرما میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کے قومی سلامتی کے مشیر ہنری کسنجر نے پاکستان کے سرکاری دورے کی آڑ میں ایک خفیہ سفارتی مشن مکمل کیا۔ بظاہر اعلان کیا گیا کہ وہ طبیعت ناساز ہونے کے باعث نتھیا گلی آرام کے لیے جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں انہیں خفیہ طور پر راولپنڈی ایئرپورٹ منتقل کیا گیا جہاں سے وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز کے ذریعے بیجنگ روانہ ہوئے۔اس پورے آپریشن کو اس قدر راز میں رکھا گیا کہ نہ عالمی میڈیا، نہ امریکہ کے اتحادی ممالک اور نہ ہی واشنگٹن کے کئی اعلیٰ حکام اس سے باخبر تھے۔

اس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان کو واشنگٹن اور بیجنگ دونوں کا اعتماد حاصل تھا۔ یہی اعتماد پاکستان کو دونوں طاقتوں کے درمیان ایک محفوظ رابطہ کار بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔ اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان ایسے وقت میں پل کا کردار ادا کیا جب امریکہ اور چین کے درمیان دو دہائیوں سے کوئی سفارتی تعلق موجود نہیں تھا۔

بیجنگ پہنچنے کے بعد ہنری کسنجر نے چینی وزیر اعظم چو این لائی کے ساتھ کئی گھنٹوں پر مشتمل مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات میں تائیوان، ویتنام کی جنگ، سوویت یونین کے ساتھ تعلقات، ایشیا میں طاقت کے توازن اور امریکی صدر رچرڈ نکسن کے ممکنہ دورۂ چین سمیت کئی اہم معاملات زیر بحث آئے۔اگرچہ اس دورے کے دوران کسنجر کی ماؤ زے تنگ سے ملاقات نہیں ہوئی، تاہم چو این لائی کو چینی قیادت کی مکمل حمایت حاصل تھی، جس کے باعث یہی مذاکرات بعد میں امریکہ اور چین کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد بنے۔کسنجر کے خفیہ دورے کے چند ماہ بعد امریکی صدر رچرڈ نکسن نے دنیا کو حیران کرتے ہوئے چین کے دورے کا اعلان کیا اور فروری 1972 میں بیجنگ پہنچ گئے۔ نکسن اور ماؤ زے تنگ کی ملاقات کو بیسویں صدی کی اہم ترین سفارتی ملاقاتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس ملاقات نے نہ صرف امریکہ اور چین کے درمیان دو دہائیوں پر محیط دشمنی کا خاتمہ کیا بلکہ سرد جنگ میں طاقت کا توازن بھی تبدیل کر دیا۔ بعد ازاں شنگھائی اعلامیہ، سوویت یونین کے ساتھ اسلحہ محدود کرنے کے مذاکرات اور عالمی سیاست میں چین کے بڑھتے کردار کی بنیاد بھی اسی سفارتی عمل نے رکھی۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ بحران کے دوران متعدد رپورٹس سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کی ترسیل، سفارتی رابطوں کی بحالی اور مذاکرات کے آغاز میں سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ملاقاتوں، اعلیٰ سطحی دوروں اور سفارتی سرگرمیوں نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ اسلام آباد ایک بار پھر بیک چینل ڈپلومیسی کا اہم مرکز بن رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق دونوں ادوار میں کئی حیران کن مماثلتیں دکھائی دیتی ہیں۔ دونوں مواقع پر ایسے بحران موجود تھے جنہیں براہِ راست مذاکرات کے ذریعے حل کرنا سیاسی طور پر انتہائی مشکل سمجھا جا رہا تھا۔ دونوں صورتوں میں پاکستان نے ایسے فریقین کے درمیان رابطے کا ذریعہ بننے کی کوشش کی جن کے درمیان اعتماد کا فقدان تھا۔ اسی طرح دونوں مواقع پر امریکی قیادت بھی ایک ریپبلکن صدر کے ہاتھ میں تھی، جو اپنی سخت خارجہ پالیسی کے باوجود سفارتی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ دکھائی دی۔اس کے باوجود دونوں ادوار میں نمایاں فرق بھی موجود ہیں۔ 1971 میں مقصد امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرنا تھا، جبکہ موجودہ صورتحال میں مسئلہ مشرق وسطیٰ کے ایک پیچیدہ تنازع، جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور ایران۔امریکہ کشیدگی کو کم کرنے سے متعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سفارتی عمل کہیں زیادہ پیچیدہ اور کثیرالجہتی تصور کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق جب براہِ راست مذاکرات سیاسی طور پر مشکل ہو جائیں تو ایسے ملک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جس پر دونوں فریق کسی حد تک اعتماد کرتے ہوں۔ پاکستان ماضی میں یہ کردار ادا کر چکا ہے اور اگر موجودہ سفارتی کوششیں کسی پائیدار معاہدے پر منتج ہوتی ہیں تو اسلام آباد ایک مرتبہ پھر عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں اہم مقام حاصل کر سکتا ہے۔تاہم اس مرحلے پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ ممکن ہے برسوں بعد منظر عام پر آنے والی سفارتی دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ یہ واضح کریں کہ حالیہ بحران کے دوران پس پردہ رابطوں میں پاکستان کا حقیقی کردار کیا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو شاید تاریخ یہ بھی ثابت کرے کہ اسلام آباد نے ایک مرتبہ پھر خاموش سفارت کاری کے ذریعے دنیا کے اہم ترین سکیورٹی بحرانوں میں سے ایک کا رخ موڑنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

Back to top button