افغانستان پر پاکستانی حملے بھی دہشتگردی روکنے میں ناکام

گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران پاکستان میں جب بھی کوئی بڑا دہشت گرد حملہ ہوا، اس کے جواب میں پاک فضائیہ کی جانب سے افغان سرحدی علاقوں میں فضائی حملے کیے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز اور اسلحہ کے ذخائر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم یہ حکمت عملی اب تک ملک میں دہشت گردی روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، کیونکہ ہر کارروائی کے کچھ ہی عرصے بعد شدت پسند دوبارہ کسی نہ کسی مقام پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا دیتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے ہر بڑے دہشت گرد حملے کے بعد افغانستان میں محدود پیمانے پر فضائی کارروائیاں کی جاتی ہیں جن کے وقتی اثرات ضرور سامنے آتے ہیں، مگر یہ حکمت عملی شدت پسند تنظیموں کے ڈھانچے کو مستقل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر دہشت گرد نیٹ ورکس کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانا مقصود ہے تو صرف علامتی کارروائیوں کے بجائے زیادہ جامع اور مسلسل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ جماعت الاحرار نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے دوبارہ منظم ہو کر پاکستان میں حملوں کی صلاحیت برقرار رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک ان نیٹ ورکس کے بنیادی ڈھانچے کو مستقل بنیادوں پر ختم نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کے واقعات مکمل طور پر رکنے کا امکان کم رہے گا۔

پاکستانی فضائیہ نے اتوار کی شب ایک مرتبہ پھر افغانستان کے سرحدی علاقوں میں حملے کیے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گے جب کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں رینجرز کے ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملے اور فائرنگ میں تین سکیورٹی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ کارروائی کے دوران تین حملہ آور بھی مارے گئے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق کراچی حملے کے دوران زخمی حالت میں گرفتار ہونے والے ایک شدت پسند نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے اور اس نے وہیں تربیت حاصل کی۔ اسی اعتراف اور انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر پاکستان نے افغانستان میں کارروائی کا فیصلہ کیا۔

پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پکتیکا، پکتیا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تین اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا جہاں 25 شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان بھی تباہ کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق انہی کارروائیوں کے دوران ضلع باجوڑ میں بھی انٹیلی جنس بنیادوں پر زمینی آپریشن کیا گیا جس میں جماعت الاحرار کے کمانڈر خان فروش عرف زبل سمیت چار شدت پسند مارے گئے جبکہ کئی زخمی ہوئے۔

پاکستانی حکام تحریک طالبان پاکستان کے لیے سرکاری سطح پر "فتنہ الخوارج” کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے فضائی حملوں کو "بزدلانہ” اور "سفاکانہ” قرار دیا ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ ان حملوں میں شدت پسندوں کے بجائے عام شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 36 افراد ہلاک جبکہ 163 زخمی ہوئے۔ طالبان ترجمان نے زخمی بچوں کی تصاویر بھی جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے پکتیکا کے جانی، پکتیا کے سمکانی اور کنڑ کے منورہ علاقوں میں شہری آبادیوں پر کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ایک سنگین جرم تصور کرتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان نے سرحد پار کارروائی کی ہو۔ رواں ماہ 10 جون کو بھی پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ درستگی کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ 26 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس وقت بھی وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ کارروائی دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈز اور منصوبہ سازوں کے خلاف کی گئی۔
اس سے قبل رواں سال فروری میں پاکستان نے کابل، قندھار اور پکتیا کے قریب بھی فضائی حملوں کا دعویٰ کیا تھا جبکہ مارچ میں افغان طالبان نے الزام لگایا کہ کابل میں نشے کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کارروائی میں صرف دہشت گردوں کے مراکز اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان اس تنازع نے گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی مرتبہ سرحدی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔

پاکستان مسلسل افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے نہیں روک رہی، جبکہ کابل ان الزامات کو یکسر مسترد کرتا ہے اور الٹا پاکستان پر شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتا ہے۔ ادھر اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ مسلسل سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارت، آمدورفت اور سفارتی تعلقات بھی شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ متعدد سرحدی راستے طویل عرصے سے بند پڑے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستانی فضائی کارروائیوں سے شدت پسندوں کو وقتی نقصان پہنچنے کا امکان ضرور ہے، تاہم ماضی کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ صرف محدود فضائی حملوں سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق سرحدی سلامتی، مؤثر انٹیلی جنس، سفارتی دباؤ اور ایک طویل المدتی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کے بغیر پاکستان کو درپیش یہ سکیورٹی چیلنج برقرار رہنے کا خدشہ موجود ہے۔

Back to top button