کیا فوج عمراندار ججز کو عمرانی فیصلے دینے سے روک پائے گی؟

 

 

فوج کا سیاسی کردار چھین کر حکومتیں بنانے اور گرانے والی پاکستانی عدلیہ کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جاری جنگ آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ آئینی ترامیم کے ذریعے ججز کا سیاسی کردار محدود کیا جا سکے جو کہ ماضی میں فوج کے پاس ہوتا تھا۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس لڑائی میں چیف جسٹس اور آرمی چیف حکومت کے ساتھ ہیں جبکہ عدلیہ کے اندر سے ہی ایک عمرانی دھڑا تحریک انصاف کا سیاسی ایجنڈا لے کر آگے بڑھ رہا ہے اور ٹف ٹائم دے رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اس جنگ میں عمران خان سے مولانا ڈیزل کا خطاب پانے والے فضل الرحمن بھی تحریک انصاف کے ہم نوا ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے مفاد کے لیے لڑ رہا ہے اور کل کے دشمن آج کے دوست بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت آئینی ترامیم کا پیکج پاس کروا سکے گی اور کیا چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اپنے عہدے پر برقرار رہ پائیں گے یا عمرانڈو دھڑے کے سرخیل جسٹس منصور علی شاہ نئے چیف جسٹس بن جائیں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا حکومت سپریم کورٹ کے ججز کا سیاسی کردار محدود کرنے کے لیے آئینی عدالت بنانے میں کامیاب ہوگی یا نہیں۔

ایک جانب اپوزیشن جماعتیں آئینی ترمیمی پیکج کو عدلیہ کی آزادی پر قدغنیں عائد کرنے کا ہتھکنڈا قرار دے رہی ہیں تو دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ ججز کے ایک ٹولے نے اپنے مخصوص عمرانی ایجنڈے کے تحت سارا نظام مفلوج کر کے رکھ دیا ہے لہذا اس عدم توازن کو ختم کرنا ضروری ہے۔ حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ ماضی میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ سے ججز کی تقرری کا اختیار لے کر پارلیمنٹ کو دے دیا گیا تھا لیکن پھر چیف جسٹس افتخار چوہدری کے زمانے میں پارلیمنٹ کی کنپٹی پر بندوق رکھ کر 19ویں ترمیم کروائی گئی اور ججز کی تقرری کا اختیار پارلیمنٹ لسے لے کر ججز کے حوالے کر دیا گیا جو کہ سراسر نا انصافی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عدلیہ کے جارحانہ طرزِ عمل کی تازہ ترین مثال اس وقت سامنے آئی جب رواں سال سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے متنازع بیانات کے لیے مشہور جج جسٹس شوکت صدیقی کو بحال کر دیا۔
جسٹس صدیقی کو 2018 میں تب برطرف کر دیا گیا تھا جب انہوں نے وکلا کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تب کہ آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر دباؤ ڈالنے کے الزامات عائد کیے تھے اور بتایا تھا کہ وہ انہیں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف فیصلے سنانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ فیض حمید ہی اسلام اباد ہائی کورٹ کو چلاتے ہیں اور ججوں کو بتاتے ہیں کہ کس کیس میں کیا فیصلہ سنانا ہے۔

تب فیض حمید اپنے باس عمران خان کا ایجنڈا لے کر چل رہے تھے اور تب کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار انکے جان نثار ساتھی تھے۔ چنانچہ ثاقب نثار کی زیر قیادت سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس شوکت صدیقی کو مس کنڈکٹ کے الزام پر برطرف کر دیا۔ اب چیف جسٹس فائز عیسی کی زیر سربراہی سپریم کورٹ کے ہاتھوں شوکت صدیقی کی بحالی سے مزید چھ ججوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی جنہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں انٹیلی جنس ایجنسیوں پر الزام لگایا کہ وہ اپنے من پسند فیصلوں کے لیے انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس خط نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا اور جب فائز عیسی نے اس کا نوٹس لیا تو مزید ججوں نے بھی ایسے الزامات لگانے شروع کر دیے۔ یوں رہی سہی عدلیہ بھی ہاتھ سے نکل گئی اور ججز نے کھل کر حکومت اور فوج مخالف فیصلے دینے شروع کر دیے۔ اس کی مثال عمران خان کے خلاف قائم مختلف مقدمات میں کیے گئے فیصلے ہیں، جس سے حکومت کو مزید گھبراہٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اہم نکتہ تب سامنے آیا جب رواں سال جولائی میں سپریم کورٹ کے ایک اکثریتی فیصلے کے ذریعے اسمبلیوں میں خواتین اور غیر مسلموں کے لیے 77 مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو دینے کا اعلان کیا گیا، حالانکہ یہ سیٹیں حاصل کرنے کے لیے کیس سنی اتحاد کونسل نے دائر کیا تھا۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے سے انکار کر دیا تھا چونکہ اس کے منتخب اراکین نے آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیا تھا اور بعد میں سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ تاہم قابل ذکر بات یہ رہی کہ چیف جسٹس اس کیس میں ججوں کی اکثریت کی حمایت کھو بیٹھے۔ یوں مخصوص نشستوں کے کیس میں حتمی فیصلہ پانچ کے مقابلے میں آٹھ ووٹوں سے آیا اور منصور علی شاہ نے قاضی فائز عیسی کے موقف کے برعکس تحریک انصاف کو نشستیں دینے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کے جواب میں پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کر دیا جس سے سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر موثر ہو گیا۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی رکن اسمبلی اگر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کے بعد کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو وہ بعد میں اسے چھوڑ کر کسی اور جماعت میں جانے پر نااہل قرار پائے گا۔ اس کے بعد حکومت نے عمرانڈو ججز کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محدود کرنے کے لیے ایک ائینی پیکج عدلیہ لانے کی کوشش کی۔ اس پیکج سے طاقت کے توازن کو عدلیہ کی بجائے انتظامیہ کے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسکے علاوہ سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ ایک زیادہ طاقتور وفاقی آئینی عدالت بنانے کی تجویز دی گئی۔ سینیئر ترین جج کی بطور چیف جسٹس تقرری کا طریقہ کار تبدیل کرنے کی تجویز بھی دی گئی، جس کے تحت حکومت پانچ سینیئر ترین ججوں میں سے کسی ایک کو چیف جسٹس کے طور پر منتخب کرے گی۔

لئکن حکومت اس معاملے پر پھنس چکی ہے چونکہ مولانا فضل الرحمن تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں اور ائینی پیکج کو پاس کروانے کے لیے حکومتی اتحاد کا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔ حکومت کا خیال تھا کہ مخصوص نشستوں بارے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بے اثر کرنے کے لیے لایا گیا قانون اور مجوزہ آئینی ترمیم، اگر منظور ہو جاتی ہیں تو عدلیہ انکو ریورس نہیں کر سکے گی، لیکن حکومت کی یہ کوشش بظاہر کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب اتحادی حکومت مولانا فضل الرحمن کو رام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اس کا دعوی ہے کہ وہ جلد ہی اپنے مطالبات تسلیم کروا کر حکومت کا ساتھ دینے پر راضی ہو جائیں گے۔

شاطر مولانا نے حکومت اور اپوزیشن سے کیا مطالبات کیے ہیں؟

Back to top button