کیا لاہور کی سموگ کا حل مصنوعی بارش ہے؟

موسمیاتی ماہرین نے انکشاف کیا کہ لاہور کی سموگ اور فضائی آلودگی کو دور کرنے کیلئے مصنوعی بارش کی ضرورت نہیں، اگر لاہور کی فضا میں بادل ہوں تو بارش ہو جاتی ہے، دوسری طرف موسم سرما میں بادل آتے ہی کم ہیں اور اگر ہوں تو خود ہی برس جاتے ہیں، اس لیے سموگ کیخلاف مصنوعی بارش کا تجربہ کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔پنجاب حکومت لاہور میں مصنوعی بارش کروانے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں انڈپینڈنٹ اردو نے ان ماہرین سے گفتگو کی، جو ماضی میں پاکستان میں مصنوعی بارش کے تجربات سے منسلک رہے ہیں۔سموگ سے جان خلاصی کے تمام طریقے یا تو طویل المعیاد ہیں یا پھر ان پر لاگت زیادہ آتی ہے۔ پنجاب حکومت گذشتہ کچھ دنوں سے لاہور میں مصنوعی بارش کروانے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔انڈپینڈنٹ اردو نے اس حوالے سے ان ماہرین سے گفتگو کی ہے جو ماضی میں پاکستان میں مصنوعی بارش کے تجربات سے منسلک رہے ہیں 1999 سے 2003 تک بلوچستان سمیت پاکستان کے جنوبی حصوں میں قحط سالی کی فضا تھی۔ پانی کے تمام ذخائر خشک ہونے کی وجہ سے جانور بڑی تعداد میں مرنے لگے، قحط سالی کے خاتمے کی غرض سے مصنوعی بارش برسانے کے لیے محکمہ موسمیات کو ٹاسک سونپ دیا۔محکمہ موسمیات کے زیر اہتمام کراچی میں انسٹی ٹیوٹ آف میٹرولوجی اینڈ جیو فزکس کام کر رہا ہے، اس لیے جب حکومت نے یہ ٹاسک دیا تو محکمہ موسمیات نے اس کی حامی بھر لی۔اس وقت ڈاکٹر قمر الزمان محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے پوری جانفشانی سے اس ناممکن کام کو محدود وسائل میں کر دکھایا۔انڈپینڈنٹ اردو نے ماہر موسمیات ڈاکٹر محمد حنیف، جو اس وقت اس ٹیم کا حصہ تھے، سے رابطہ کیا جنہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 02-2001 کے موسم گرما کی بات ہے جب محکمہ موسمیات نے آرمی ایوی ایشن کی مدد سے خشک سالی سے متاثرہ پاکستان کے مختلف حصوں، جن میں شمالی بلوچستان، چولستان، تھر اور پوٹھوہار شامل تھے، کے محدود حصوں میں مصنوعی بارش کے تجربات کیے تھے، جن میں سے بعض کے اچھے اور بعض کے کمزور نتائج برآمد ہوئے۔محمد حنیف کے مطابق جب آپ بادلوں پر کیمیکلز چھڑک کر انہیں برسنے پر مجبور کرتے ہیں تو اس سے فصلوں اور جانوروں کی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں، چنانچہ محکمہ موسمیات نے ان تجربات کو روک دیا تھا، تجربات روکنے کی ایک وجہ علمائے اکرام بھی تھے، جنھوں نے اس کام کو خدا کے معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا، پاکستان میں مجموعی طور پر مصنوعی بارش برسانے کے 48 تجربات کیے گئے، جن میں سے 32 کامیاب رہے۔ڈاکٹر محمد حنیف کہتے ہیں کہ ’لاہور کی سموگ موسم سرما میں ہوتی ہے، جس میں مصنوعی بارش برسانے کے امکانات بہت محدود ہوتے ہیں کیونکہ مصنوعی بارش برسانے کے دو طریقے اب تک مؤثر مانے جاتے ہیں اور دونوں کے نتائج موسم بہار اور موسم گرما میں بہتر ملتے ہیں۔ان طریقوں میں پہلا طریقہ کلاؤڈ سیڈنگ کا ہے، جس میں بادلوں پر سوڈیم کلورائیڈ اور چند دوسرے کیمیکلز کا چھڑکاؤ کرکے انہیں برسایا جاتا ہے۔ اس کی جگہ ایک نئی ٹیکنالوجی نے لے لی ہے، جس کا مؤجد روس ہے، اسے کلاؤڈ آئیونائزیشن کہتے ہیں۔اس میں زمین سے ہائی پاور جنریٹر کے ذریعے منفی چارج پیدا کرکے ہلکے بادلوں کو بھاری بادلوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ہوا میں مناسب نمی کی موجودگی میں اس عمل کے ذریعے با آسانی بارش برسائی جا سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ موسم سرما میں اس کے حوصلہ افزا نتائج نکلنے کے امکانات محدود ہیں، اس لیے لاہور کی سموگ کے پس منظر میں مصنوعی بارش اس لیے سود مند نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ دراصل مصنوعی بارش نہیں ہے بلکہ اس کے لیے جدید ٹرم بارش کے امکانات میں اضافہ کی ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے اگر آسمان پر بادل ہوں گے تو بارش کروائی جا سکتی ہے۔ موسم سرما میں بادل آتے ہی کم ہیں اور جب آتے ہیں تو خود ہی برس بھی جاتے ہیں، اس لیے لاہور میں سموگ سے چھٹکارے کے لیے یہ آپشن کارگر نہیں ہو سکتا۔
