کیا موت عثمان بزدار کو چھو کر گزر گئی؟

پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی شادی کی ایک تقریب میں شرکت کے دوران قاتلانہ حملے اور ایک شخص کی ہلاکت کے بعد ان کی سکیورٹی پر نظرثانی کرنے اور اسے فول پروف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اگر اس روز قاتل بزدار کو بھی نشانہ بنانا چاہتا تو اس کے لئے مشکل نہیں تھا۔
لاہور میں بزدار کی موجودگی میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلی سطحی انکوائری کمیشن بھی تشکیل دے دیا گیا ہے جس کی سربراہی ممبر وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کوکب ندیم وڑائچ کر رہے ہیں، جب کہ بزدار کی سیکیورٹی دیکھنے والے لاہور پولیس کے اعلیٰ افسران کمیشن کے روبرو پیش ہو کر اپنے بیان ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق ’ابھی تک پانچ افسران کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔ ان میں ایس ایس پی آپریشنز لاہور ندیم عباس، ایس پی آپریشن کینٹ ساید عزیز، ایس پی سکیورٹی، متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او ڈیفنس شامل ہیں۔‘ پنجاب پولیس کے ترجمان سہیل سکھیرا نے تصدیق کی ہے کہ ’ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیشن اس معاملے کی چھان بین کر رہا ہے، ابھی ہم اس موضوع پر کوئی بات کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ انکوائری جاری ہے۔ مکمل رپورٹ کے بعد جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر من و عن عمل ہو گا۔‘
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب صوبے کے نئے بننے والے وزیر اسد کھوکھر کے بیٹے کی شادی کی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ ابھی وزیراعلیٰ واپس جانے کے لیے اپنی گاڑی میں سوار ہی ہوئے تھے کہ ایک کرائے کے قاتل نے نے صوبائی وزیر اور ان کے بھائی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ان کے بھائی مبشر کھوکھر ہلاک ہوگئے۔ بعد ازاں پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ ایک پرانی دشمنی کا نتیجہ تھا اور قاتل مہمان کے روپ میں اگلی قطار میں بیٹھا تھا جہاں سے اس کے لئے وزیر اعلی پر گولی چلانا بھی کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ اس واقعے کے بعد سب سے زیادہ سوال وزیراعلیٰ پنجاب کی سکیورٹی پر کھڑے ہوئے، کیونکہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آٗئی ہے کہ ملزم نے اس روز ہر صورت اپنے مخالفین کو قتل کرنا تھا اور یہ حملہ تب ہونا تھا جب وہ بزدار کو رخصت کرنے کے لئے باہر آتے۔ اس حملے کی تفتیش کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ عثمان بزدار کی خوش قسمتی تھی کہ قاتل نے ان کے گاڑی میں بیٹھنے کا انتظار کیا اور پھر اپنے مخالفین پر گولیاں برسا دیں۔
پولیس کے ایک بڑے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وزیراعلیٰ کی سکیوٹی بلیو بک کے مطابق دی جاتی ہے اور سب سے پہلے وزیراعلیٰ کی اپنی سکیورٹی ٹیم نے کلیرنس دینی ہوتی ہے، اس کے بعد سپیشل برانچ آخر میں پولیس اس جگہ کا انتظام سنبھالتی ہے۔ وزیراعلیٰ کی موجودہ سکیورٹی پروٹوکول میں ان کی سکیورٹی ٹیم کو کم از کم 45 منٹ پہلے کلیرنس دینا ہوتی ہے۔ اس واقعے میں کئی جگہ پر ایس او پیز کی خلاف ورزی ہوئی۔ جس میں وزیراعلیٰ سکیورٹی ٹیم، سپیشل برانچ اور پولیس تینوں ہی ذمہ دار ہیں۔‘
سابق آئی جی پولیس طارق پرویز نے بتایا کہ ’اس بات میں تو کوئی دو رائے ہی نہیں ہیں کہ یہ ایک بدترین سکیورٹی لیپس تھا۔ دو حملہ آور وزیراعلیٰ کی موجودگی میں بھی وہاں موجود تھے، یہ ایک بہت بڑی بات ہے۔ اور میرے خیال میں یہ کسی ایک ادارے کی نہیں سب کی غفلت ہے۔ اس بات تک پہنچنا ہو گا کہ اتنی سنجیدہ غلطی کیسے ہوئی۔ اور اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ بلیو بک کے مطابق وزیراعلیٰ کو سکیورٹی مہیا نہیں کی گئی۔‘ان سے جب سے یہ سوال کیا گیا کہ بلیو بک وزیراعلیٰ کی سکیورٹی سے متعلق کیا کہتی ہے تو ان کا کہنا تھا ’سب سے پہلے تو ان کی موومنٹ کو آخری لمحے تک خفیہ رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد ان کو سڑک پر باکس سکیورٹی دی جاتی ہے۔ جس میں ان کے گاڑی کے چاروں طرف سکیورٹی کی گاڑیاں ہوتی ہیں۔ پھر جہاں انہوں نے جانا ہوتا ہے وہاں کا کنٹرول سب سے پہلے سپیشل برانچ نے لینا ہوتا ہے جو کہ وزیراعلیٰ کی اپنی خصوصی سکیورٹی ٹیم کے ساتھ کام کرتی ہے۔ اور سویپ چیکنگ، ڈاگ سنفنگ سمیت پوری تسلی کر کے بیرونی سکیورٹی کا نظام پولیس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ سٹیج یا وہ جگہ جہاں وزیراعلیٰ نے بیٹھنا ہوتا ہے وہ مکمل طور پر سکیورٹی کے حصار میں ہوتی ہے۔‘
طارق پرویز سمجھتے ہیں کہ بہت سے سوال پیدا ہوتے ہیں کہ ’کیا وزیراعلیٰ کی سکیورٹی جان بوجھ کر کم رکھی گئی یا رابطوں میں فقدان کا نتیجہ ہے دونوں صورتوں میں یہ ایک خراب صورت حال کی نشاندہی ہے۔ حتمی رپورٹ تو اب انکوائری کمیشن ہی دے گا لیکن یہ ذمہ داری کسی نہ کسی پر تو ضرور فکس ہو گی۔‘ یاد رہے کہ چند ماہ قبل وزیراعلیٰ پنجاب کی سکیورٹی میں بینڈ باجے کے لیے بھرتی کیے گئے اہلکاروں کو تعینات کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا جس کے بعد ایک انکوائری میں سامنے آیا کہ نہ صرف بینڈ باجے بلکہ کچھ معذور اہلکاروں کو بھی وزیراعلیٰ کی سکیورٹی میں تعینات کیا گیا تھا۔
