کیا ن لیگ کی صدارت لینے کے بعد نوازشریف وزیراعظم بھی بنیں گے ؟

6 سال بعد نہ صرف پاکستان مسلم لیگ نون کی صدارت دوبارہ میاں محمد نواز شریف کو سونپ دی گئی ہے بلکہ نون لیگ کی مرکزی جنرل کونسل نے پارٹی آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے تمام اختیارات بھی نواز شریف کے حوالے کر دئیے ہیں۔
بظاہر اس فیصلے کا اعلان لاہور میں ہونے والے پارٹی کی جنرل کونسل کے ایک اجلاس میں اور ایک رسمی انتخابی کارروائی کے بعد کیا گیا ہے لیکن یہ بات پہلے ہی طے ہو چکی تھی کہ نواز شریف اب پارٹی کی کمان اپنے ہاتھ میں لینے والے ہیں۔
تاہم اصل سوال یہ ہے کہ نواز شریف نے مسلم لیگ کی صدارت کیوں حاصل کی؟تجزیہ کار سلمان غنی کے بقول مسلم لیگ نون میں نون سے مراد نواز شریف ہیں۔ ان کو پارٹی صدارت سے ہٹائے جانے کے بعد پارٹی کے اندر یہ تاثر موجود تھا کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، اس لیے ان کی عزت کی بحالی کے لیے اس منصب کو انہیں واپس لوٹایا گیا ہے۔
تاہم تجزیہ کار حبیب اکرم کے مطابق اپنی تمام تر سینارٹی اور عزت کے باوجود نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف کے ماتحت تھے، جو کہ پارٹی صدر کے طور پر بجٹ اجلاسوں، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخابات یا آئینی ترمیم میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو آئینی طور پر حکم دینے کا اختیار رکھتے تھے۔ اب مسلم لیگ نون کی صدارت میں تبدیلی سے یہ اختیار نواز شریف کو واپس مل گیا ہے۔
صحافی نوید چوہدری کے بقول نواز شریف کو پارٹی صدر کے طور پر اس لیے لایا گیا ہے کہ مسلم لیگ نون، جو اس وقت سیاسی اعتبار سے بہت نیچے جا چکی ہے، اسے کچھ سنبھالا دیا جا سکے۔ کیونکہ اگر پارٹی غیر مقبول ہو گئی تو پھر ان کا حکومت کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہو گا۔
تاہم کئی دیگر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نون کی صدارت محض پہلا قدم ہے، اس کے بعد میاں نواز شریف وزیر اعظم کا عہدہ بھی واپس حاصل کر سکتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی طرف سے رابطہ کرنے پر مسلم لیگ نون کے ایک وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہاں! ایسا ہونا بعید از قیاس نہیں ہے۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا نواز شریف بطور پارٹی صدر ڈیلیور کر پائیں گے؟سلمان غنی کہتے ہیں کہ نواز شریف کے لئے بہت بڑا چیلنج پارٹی کو متحرک کرنا اور اس کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا ہو گا۔ انہیں حکومت کی رہنمائی بھی کرنا ہو گی کیونکہ اگر مسلم لیگ کی اتحادی حکومت ڈیلیور نہ کر پائی تو پارٹی کے لئے اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت واپس حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکے گا، ” فیصلہ اصل میں یہ ہوا ہے کہ اب پارٹی کے سیاسی معاملات نواز شریف دیکھیں گے اور حکومتی کارکردگی سے عوام کو ریلیف دینے اور معاشی صورت حال کو بہتر بنانے کا محاذ شہباز شریف سنبھالیں گے۔‘‘
حبیب اکرم کہتے ہیں کہ نواز شریف کے لئے سب سے بڑا چیلنج عمران خان ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ ان کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں؟ ان کے خیال میں نواز شریف کے لئے ایک چیلنج پارٹی کا نیا بیانہ بنانا بھی ہو گا۔ اس سے پہلے نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تقریریں کر کے ”ووٹ کو عزت دو‘‘ کا، جو بیانہ بنایا تھا، اسے اپنے ہی ہاتھوں یو ٹرن لے کر دفن کر دیا، ” آج کے حالات میں مسلم لیگ نون قول و فعل کے تضاد کے ساتھ کوئی ایسا نیا بیانیہ نہیں بنا سکتی، جسے عوام آسانی سے قبول کر لیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون میں شہباز شریف کے کچھ ساتھی ایسے ہیں، جو اسٹیبلشمنٹ کی قربت کی وجہ سے نواز شریف کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ پالیسیوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ کیا وہ مسلم لیگ نون کے نواز شریف کی پالیسیوں کی طرف جھکاؤ کو آسانی سے قبول کر لیں گے؟تجزیہ کار سلمان غنی کی رائے میں شہباز شریف تمام تنقید کے باوجود اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے ساتھ رہے ہیں۔ وہ انہیں اپنے والد کی طرح کا احترام دیتے ہیں، اس لئے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ وہ اپنے بھائی کی راہ میں کوئی روڑہ اٹکائیں گے۔ تاہمم نوید چوہدری کے مطابق شہباز شریف گروپ اسٹیبلشمنٹ کی ضرورت ہے اور وہ نواز شریف کو ایک حد سے آگے جانے سے روکنے کے کام آتا رہے گا۔
