کیا وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی نیب میں طلبی ٹوپی ڈرامہ ہے؟


جہاں ایک طرف سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا نیب اور میڈیا کے ہاتھوں خوب رگڑا نکالا جا رہا ہے وہیں اب تحریک انصاف حکومت کے امپورٹڈ وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کو ایک کروڑ 12 لاکھ ڈالر کا گھپلہ کرنے کے پرانے کیس میں نیب کی جانب سے طلبی کو اپوزیشن کے حلقے ایک ٹوپی ڈرامہ قرار دے رہے ہیں جس کا بنیادی مقصد خود کو ایک غیر جانبدار ادارہ ثابت کرنے کے لیے عوام کو ماموں بنانا ہے۔
ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ عثمان بزدار، فیصل ووڈا، ندیم بابر، غلام سرور خان اور جہانگیر ترین جیسے بڑوں پر کرپشن اور انتظامی نااہلی کے الزامات کے باوجود نیب نے انہیں تو ابھی تک طلب نہیں کیا تو کیا وزیرخزانہ کو طلبی کا مقصد صرف نیب کی غیر جانبداری اور یکساں احتساب کا تاثر قائم کرنا ہے۔ حالانکہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ نیب کا بنیادی کام سیاسی انجنیئرنگ ہے اور یہ صرف اپوزیشن رہنماوں کا احتساب ہی کرتی ہے۔ نیب کے بارے میں یہ تاثر بھی پختہ ہوچکا ہے کہ جب بھی یہ کسی تگڑے اپوزیشن رہنما پر ہاتھ ڈالتی ہے تو شفافیت کا ڈھونگ رچانے کے لئے کسی حکومتی رکن کو بھی نوٹس بھجوادیا جاتا ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا اصرار یے کہ عبدالحفیظ شیخ کی طلبی کسی بڑے سکینڈل کا پیش خیمہ بھی ہوسکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ ان کو فارغ کرنے کے لیے یہ کیس کھولا جا رہا ہو۔ تاہم اپوزیشن حلقے اس امکان کو اس لئے مسترد کرتے ہیں کہ عبدالحفیظ شیخ کوئی لاوارث شخص نہیں ہے جسکو نیب رگڑ دے۔ وہ ایک امپورٹڈ وزیر خزانہ ہے جسے آئی ایم ایف نے ہماری اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کیا تھا۔
یاد ریے کہ نیب کراچی نے وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو کسٹمز کے آن لائن کلیئرنس پروجیکٹ میں گھپلوں کے معاملے میں دوسرا نوٹس جاری کردیا ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق بطور وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے پاس اس انکوائری سے متعلق خاصے ثبوت اور معلومات ہیں جو وہ نیب کے سامنے پیش کریں اور ساتھ ہی اپنے اثاثوں کی تفصیلات بھی جمع کروائیں۔ نیب کراچی نے کسٹمز کے پیکس سسٹم میں مبینہ کرپشن پر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے علاوہ سابق چیئرمین ایف بی آر سلمان صدیق اور سابق ایڈیشنل کلیکٹر کسٹم و معروف اداکار عاشر عظیم کو بھی تحقیقات کے لیے طلبی کے نوٹس جاری کئے ہیں۔ اس ضمن میں نیب ذرائع نے بتایا کہ کیئر پروجیکٹ کے تحت سسٹم کبھی نہیں لگایا گیا جبکہ غیر ملکی کمپنی ایجیلیٹی کو ادائیگی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ پر ایک کروڑ 12 لاکھ ڈالرز کی بدعنوانی کا الزام ہے جس کی نیب تحقیقات کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس انکوائری کے باعث عاشر عظیم کی ترقی رکی رہی اور وہ استعفیٰ دے کر پاکستان کسٹم کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان سے کینیڈا منتقل ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مرتبہ کیس کھول کر بند کیا گیا جبکہ عاشر عظیم کئی مرتبہ نیب میں بھی پیش ہوتے رہے۔
ذرائع کے مطابق نیب انکوائری بند ہونے کے بعد تیسری مرتبہ یہ کیس کھولا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر حفیظ شیخ پر سابقہ ادوار میں قومی خزانے سے غیر قانونی ادائیگی کا الزام ہے۔واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ 2010 سے 2013 تک وفاقی وزیر خزانہ کے فرائض انجام دیتے رہے۔ رواں برس اپریل میں صدر مملکت نے عبدالحفیظ شیخ کو وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ، ریونیو اور معاشی امور تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔
دوسری جانب فنانس ڈویژن کی طرف سے وضاحت کی گئی ہے کہ مشیرخزانہ کوابھی تک کوئی نوٹس نہیں ملا۔ تاہم وہ کسی بھی معاملے میں نیب سے بھر پورتعاون کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیرخزانہ کو پرانے کیس میں نیب کی جانب سے بلوانا محض ایک بیلنسنگ ایکٹ ہے کیونکہ اگر ان پر بدعنوانی ثابت بھی ہوئی تو یہ پیپلزپارٹی کے کھاتے میں جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button