کیا پاکستان کو واقعی انڈیا سے ‘فالس فلیگ آپریشن’ کا خطرہ ہے؟

حال ہی میں ایک مرتبہ پھر پاکستان نے بھارت پر اپنی اندرونی مسائل بالخصوص کسانوں کے احتجاج سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک فالس فلیگ آپریشن کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے، دوسری طرف بھارتی ماہرین پاکستان کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان سے اس قسم کی وارننگ آنا انڈیا اور دنیا کے لیے اس چرواہے کی ‘شیر آیا، شیر آیا کی صدائیں ہیں جن میں کوئی سچ نہیں‘۔
یاد رہے کہ فالس فلیگ آپریشن جنگی حکمت عملی کا ایک حصہ ہوتا ہے اور اس سے مراد ایک ایسا دہشتگردانہ حملہ ہے جو کوئی ملک یا ایجنسی اپنے ہی عوام یا سرزمین کے خلاف کرتی ہے تاکہ دشمن ملک یا ایجنسی کو اس کےلیے مورد الزام ٹھہرا سکے اور اس حملے کو بنیاد بناتے ہوئے دشمن ملک کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اپنا سکے۔ ایک فالس فلیگ آپریشن جس کا بہت ذکر کیا جاتا ہے وہ ہے ‘آپریشن نارتھ وڈز‘ جو کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے کیوبا کے صدر کاسترو کو حکومت سے ہٹانے کےلیے بنایا کیا گیا تھا۔ اس پلان میں اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو امریکی سرزمین پر دہشتگردی کے حملے، امریکی جنگی جہاز کو کیوبا کے قریب نشانہ بنائے جانے اور امریکی طیارے کو ہائی جیک کرنے جیسے آپشنز پیش کیے گئے جس کےلیے امریکہ کیوبا کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے اس پر حملہ آور ہو سکتا تھا۔ تاہم امریکی صدر نے اس پلان کو رد کر دیا تھا۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک بار پھر عالمی برادری کو انڈیا کی جانب سے ممکنہ فالس فلیگ آپریشن سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘جوں جوں انڈیا کے اندرونی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے جیسا کہ معاشی بدحالی، کسانوں کا احتجاج، کورونا کی بد انتظامی، مودی سرکار ان سے توجہ ہٹانے کےلیے پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔’ لیکن یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے یہ وارننگ جاری کی گئی ہو۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم عمران خان کے علاوہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پاکستان قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار بھی گزشتہ ایک سال میں متعدد بار انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف کبھی فالس فلیگ آپریشن تو کبھی سرجیکل اسٹرائیک سے متعلق خبردار کرتے آئے ہیں۔ البتہ انڈیا ایسا کیوں کرنا چاہتا ہے اس کی وجوہات پاکستانی حکام کی جانب سے ہر بار مختلف بیان کی گئیں۔
وزیر اعظم نے پہلی مرتبہ ایک فالس آپریش کی وارننگ اگست 2019 میں انڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد دی تھی۔ اس وقت وزیر اعظم نے وجہ یہ بتائی تھی کہ انڈیا مقبوضۃ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف وزیوں سے توجہ بٹانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد دسمبر 2019 میں انڈین شہریت سے متعلق مجوزہ قانون کے خلاف جب ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشن کی وارننگ جاری کی گئی اور وجہ بتائی گئی کہ انڈیا مجوزہ قانون کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج سے توجہ ہٹانے کےلیے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی کر سکتا ہے۔ مئی اور جون 2020 میں جب چین اور انڈیا میں گلوان کے مقام پر سخت کشیدگی جاری تھی تو وزیراعظم عمران خان نے یہ وارننگ ایک بار بھر جاری کی اور کہا کہ چین اور نیپال کے ساتھ بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی کے باعث انڈیا پاکستان کے خلاف فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔ اور اب حالیہ وارننگ میں وزیر اعظم نے انڈیا کے ان مبینہ عزائم کی وجہ کسانوں کا احتجاج اور بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال بتائی ہے۔
دوسری جانب انڈیا کے تھنک ٹینک ‘کونسل فار ڈیفنس اینڈ اسٹرٹیجک ریسرچ’ کے بانی ہیپیمون جیکب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جاری کی جانے والی اس وارننگ کو انڈیا اور نہ ہی دنیا سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ انڈیا کو اس وقت متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن ایک ایسے وقت میں کہ جب انڈیا کے چین کے ساتھ سرحدی تعلقات کشیدہ ہیں تو انڈیا پاکستان کے ساتھ ایک نیا تنازعہ شروع کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ہیپیمون جیکب کا کہنا ہے کہ 2016 اور 2019 میں انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف مبینہ سرجیکل اسٹرائیک کی وجہ اوڑی اور پلوامہ میں انڈین فوج پر ہونے والے دہشگرانہ حملے تھے نہ کہ انڈیا کے کوئی اندرونی مسائل۔
پروفیسر جیکب کا کہنا ہے کہ اس وقت کے سکیورٹی حالات میں پاکستان پر ممکنہ حملہ میڈیا، عوام، تجزیہ کار سب میں ہی موضوع بحث تھا اس لیے انڈیا کے اعلیٰ سطح کی قیادت کی جانب سے بھی اس آپشن پر غور کیا گیا بات چیت کی گئی اور پھر اس کا فیصلہ کیا گیا۔ ‘جب کہ اس وقت اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس وقت ایسے پلان، آپشنز اور پاکستان کی وارننگز پر انڈیا میں کوئی بھی بات نہیں کر رہا اور اعلیٰ فوجی اور حکومتی حکام تو دور کی بات ہے۔’ پروفیسر جیکب کا کہنا ہے پاکستان کی جانب سے اس قسم کی وارننگ آنا انڈیا اور دنیا کےلیے اس چرواہے کی ‘شیر آیا، شیر آیا کی صدائیں ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں‘۔
پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلسل دنیا کو انڈیا کے متوقع فالس فلیگ آپریشن کے خلاف خبردار کرتا آ رہا ہے۔ ‘پاکستان کو دوسرے ممالک سے بھی ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ انڈیا ایسا کرنے کا سوچ رہا ہے اور انڈیا نے ان ممالک سے اس سے متعلق تبادلہ خیال بھی کیا۔ ان اطلاعات کے بعد ہی پاکستان نے اس بار دنیا کو انڈیا کے مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے متعلق خبردار کیا ہے۔’ معید یوسف کا کہنا کہ انڈیا کی جانب سے اس قسم کی کارروائی کی صورت میں پاکستان کے پاس دو ہی آپشنز ہیں: ایک یہ کہ وہ اس قسم کی جارحانہ کارروائی کے بعد دنیا کو اس بارے میں آگاہ کرے یا ایسی کوئی کارروائی ہونے سے قبل ایسا کرے تاکہ انڈیا کو ایسا کرنے سے روکا جا سکے اور یہی ہم اس وقت کر رہے ہیں۔’ معید یوسف کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان کی ایسی وارننگز سے شاید کچھ لوگوں کو یہ لگے کہ ’ہم صرف شیر آیا شیر آیا کی صدائیں لگا رہے ہیں لیکن اگر ایسا کرنا انڈیا کے عزائم کو ناکام بناتا ہے تو ہم تو اپنی بات دنیا کے سامنے ضرور رکھیں گے‘۔
