کیا کرونا سے مرنے والے کی لاش سے وائرس پھیل سکتا ہے؟

کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور نقصانات نے جہاں دنیا کےلیے بہت سے مسائل پیدا کیے وہیں اس سے مرنے والے افراد کی آخری رسومات اور تدفین کے مسائل سرفہرست ہیں۔ چنانچہ یہ سوال بار بار کیا جا رہا ہے کہ کیا کرونا وائرس سے موت کا شکار ہونے والے شخص کی لاش سے کرونا وائرس پھیل سکتا ہے یا نہیں؟
کرونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر بعض ممالک بالخصوص چین کے طبی ماہرین نے مرنے والوں کو جلانے کے عمل کو درست قرار دیا، تاہم مسلمان مردے کی میت کو جلانے کی تجویز پر عالم اسلام میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے چونکہ ایسا عمل ہندومت میں کیا جاتا ہے۔
اس تجویز نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کیونکہ اسلام کے شرعی اصولوں کے مطابق میت کی صرف تدفین ہی کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ جب تک حفاظتی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے تب تک کرونا سے متاثرہ مریض کی لاش سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کے ترجمان کامکہنا یے کہ ’آج کی تاریخ تک متاثرہ افراد کی لاشوں سے وائرس منتقل ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا یہ کہنا کہ متاثرہ شخص کی لاش سے وائرس منتقل نہیں ہوتا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے پیاروں کی میت کو چومنا یا پیار کرنا شروع کر دیں۔ ہمیں ہر صورت میں خود پر قابو پانا ہے اور احتیاطی تدابیر کو اپنانا ہے۔عام طور پر کرونا زیادہ تر متاثرہ فرد کے کھانسنے، چھینکنے اور بولنے سے خارج ہونے والے انسانی تھوک کے چھینٹوں سے پھیلتا ہے۔ تاہم یہ وائرس کسی بھی سطح پر کئی دنوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا سے مرنے والے فرد کے دوست اور اہلخانہ جنازے کے دوران تمام حفاظتی اقدامات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لاش کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان حفاظتی اقدامات کے تحت وہ لاش کو چھوئے اور چومیں مت، اس دوران جنازہ سماجی فاصلے کو برقرار رکھیں، فاصلے سے لاش کو دیکھیں اور اپنے ہاتھ اچھی طرح پانی اور صابن سے دھوئیں۔ ایسے افراد جن میں سانس کی بیماری کی علامات ہوں وہ ان جنازوں میں شرکت مت کریں، یا کم از کم اپنے چہرے کو ماسک سے ڈھانپیں تاکہ وہ یہ انفیکشن دوسروں کو منتقل نہ کر سکیں۔
اس کے علاوہ بچوں اور 60 برس سے زائد عمر والے افراد لاش کو براہ راست ہاتھ مت لگائیں۔ ایسے افراد بھی لاش کے قریب مت جائیں جنہیں پہلے سے کوئی عارضہ لاحق ہو۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کی لاش کو جلانا یا دفنانا دونوں ٹھیک ہیں۔عالمی ادارہ صحت کا مزید کہنا تھا کہ ر ایک غلط تجویز ہے کہ موذی مرض کے باعث مرنے والوں کی لاشوں کو جلایا جانا چاہیے، تاہم وہ افراد جو لاش کی تدفین یا آخری رسومات کا عمل سر انجام دیتے ہیں اور مردے کو لحد میں اتارتے ہیں ان کو لازمی دستانے پہننے چاہیے اور مردہ کو لحد میں اتارنے کے بعد اچھی طرح ہاتھ دھوئیں اور دستانے کو مناسب انداز میں تلف کرنا چاہیئے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا سے مرنے والوں کی میتوں کو دفنانے میں بے احتیاطی اور جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کورونا سے مرنے والے شخص کی ذاتی استعمال کی اشیا کو جلایا جائے، انہیں دستانے پہن کر اچھی طرح جراثیم کش ادویات جن میں بلیچ یا 70 فیصد الکوحل موجود ہو یا ڈیٹرجنٹ سے صاف کیا جا سکتا ہے۔ متاثرہ افراد کے کپڑوں کو بھی مشین میں گرم پانی میں سرف یا ڈیٹرجنٹ ڈال کر دھویا جا سکتا ہے یا پھر گرم پانی میں کسی ڈرم میں بھگو کر چھڑی کی مدد سے دھویا جا سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا سے مرنے والے افراد کے سماجی اور مذہبی وقار کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کی خاندان کی عزت اور شناخت کو اس سارے عمل میں چھپایا جانا چاہیے۔ لیکن جیسا کہ اس وبا کے متعلق خوف پھیل رہا ہے دنیا کے چند حصوں میں اس پر عمل مشکل دکھائی دیا ہے۔
تاہم عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ کرونا کی وبا کے دوران مرنے والوں کو باعزت طور پر آخری بار الوادع نہیں کہا جا رہا کیونکہ ان کے پیاروں اور اپنوں کو ان کی موت کا دکھ میں شامل ہونے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے متعلقہ حکام ہر کیس کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے کی اہلخانہ کے حقوق، ہلاکت کی وجہ کا تعین اور انفیکشن لانے کے خطرے کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button