کیا 1971 میں گنگا طیارے کی ہائی جیکنگ پاکستان توڑنے کی بنیاد بنی؟


1971 سقوط پاکستان کے حوالے سے تاریخی اہمیت کا سال ہے، اسی سال کی ابتدا میں مقبوضہ کشمیر کے تعلق رکھنے والے دو ٹین ایجرز نے بھارتی مسافر طیارہ ہائی جیک کرکے لاہور میں اتار لیا۔ اب اسے بھارتی فالس فلیگ آپریشن کہیں یا کچھ اور کیوں کہ اس جہاز کا ہائی کرنے والوں کو دونوں ممالک ایک دوسرے کا جاسوس گردانتے رہے۔ اس واقعے کو بعض مبصرین سقوط ڈھاکہ کی بنیاد بھی قرار دیتے ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 1971 کی ایک سرد صبح دو کم عمر نوجوان ایک بریف کیس ہاتھ میں لیے 26 دیگر مسافروں سمیت ایک چھوٹے فوکر طیارے میں سوار ہوتے ہیں اور کچھ ہی دیر میں یہ طیارہ فضا میں بلند ہوکے جانب منزل گامزن ہو جاتا ہے۔ اپنی منزل کے انتہائی قریب اور لینڈنگ سے چند ہی لمحے قبل ان میں سے ایک نوجوان دوڑتا ہوا کاک پٹ میں داخل ہوتا ہے اور کپتان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر طیارے کا رُخ کسی اور ملک کی طرف موڑنے کو کہتا ہے۔ اسی دوران دوسرا نوجوان ہینڈ گرنیڈ ہاتھ میں تھام کر مسافروں کی جانب متوجہ ہو جاتا ہے اور انہیں تنبیہہ کرتا ہے اگر کسی نے چالاکی دکھانے کی کوشش کی تو وہ ہینڈ گرنیڈ چلانے سے گریز نہیں کرے گا۔ بظاہر یہ دونوں نوجوان ایک کھلونا پستول اور لکڑی سے بنے ہینڈ گرنیڈ کی مدد سے طیارے کو ہائی جیک کر لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اسے زبردستی ایک پڑوسی ملک پاکستان لے جاتے ہیں جہاں وہ جیلوں میں قید اپنے کچھ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے یہ مناظر ہالی ووڈ کی کسی ایکشن تھرلر فلم کے ہیں لیکن ایسا نہیں کیوں کہ یہ مناظر آج سے 50 برس قبل پیش آنے والے طیارہ ہائی جیکنگ کی اُس واردات کے ہیں جس کے متعلق بہت سے سوالات اور ابہام کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی جواب طلب ہیں۔50 سال قبل یعنی 30 جنوری 1971 کو دو کشمیری نوجوانوں، چیئرمین جموں کشمیر ڈیموکریٹک لبریشن پارٹی محمد ہاشم قریشی اور ان کے دور کے رشتہ دار اشرف قریشی، نے ایک انڈین فرینڈشپ فوکر طیارہ ‘گنگا’ کو سرینگر ایئرپورٹ سے جموں جاتے ہوئے ہائی جیک کر لیا اور بعد میں اسے زبردستی پاکستان کے شہر لاہور لے گئے۔ ہاشم قریشی کی عمر اس وقت صرف ساڑھے 17 سال جب کہ اشرف قریشی کی عمر 19 سال تھی۔
طیارہ ہائی جیکنگ کی اس واردات کے پیچھے ممکنہ عوامل اور اس ہائی جیکنگ کے مستقبل پر اثرات کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہائی جیکنگ کا یہ منصوبہ کب اور کیسے بنا؟ سنہ 1968 میں جب جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور کشمیر کی آزادی کےلیے چلائی جانے والی مسلح تحریک کے روح رواں مقبول بٹ کو انڈیا کے ایک افسر امر چند کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تو وہ جیل توڑ کر آزاد کشمیر بھاگ آئے۔ اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد 16سال کا ایک نوجوان ہاشم قریشی بھی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ملنے پاکستان آیا۔ پشاور میں اپنے قیام کے دوران ہاشم قریشی کی ملاقات مقبول بٹ سے ہوئی۔ مقبول بٹ سے متاثر ہو کر ہاشم نے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی۔ اس تنظیم کا مقصد کشمیر کو پاکستان اور انڈیا دونوں سے آزاد کروانا تھا۔ اس جماعت کے پیغام کو عام کرنے کےلیے یہ نوجوان مقبوضہ کشمیر کے علاقے سرینگر واپس چلا گیا۔ کچھ ماہ بعد یہ نوجوان سیالکوٹ کے راستے دوبارہ پاکستان آیا لیکن اس مرتبہ پاکستان میں داخل ہونے کا جو اس نے طریقہ اپنایا وہ غیر قانونی تھا جس میں معاونت خود انڈیا کی بارڈر سکیورٹی فورس یعنی بی ایس ایف کے ایک اہلکار نے کی، جو ہاشم قریشی کو لال چوک سرینگر میں ملا اور بارڈر پار کروانے کے بدلے میں مقبول بٹ کے متعلق معلومات لینا چاہتا تھا۔ بی ایس ایف کی مدد سے بارڈر عبور کرنے کے بعد ہاشم قریشی مقبول بٹ سے ملے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے ہونے لگا۔18 جون 1969 کو مقبول بٹ، ہاشم قریشی اور امان ﷲ خان ڈاکٹر فاروق حیدر کے گھر راولپنڈی میں کھانے کی میز پر جمع تھے کہ اچانک ریڈیو پر خبر نشر ہوئی کہ اریٹریا کی آزادی کی جنگ لڑنے والے تین نوجوانوں نے ایتھوپیا کے مسافر طیارے پر ہینڈ گرنیڈ اور ٹائم بموں سے حملہ کر دیا ہے کیوں کہ ایتھوپیا نے اس وقت اریٹریا پر قبضہ کیا ہوا تھا اور وہاں آزادی کی مسلح تحریک چل رہی تھی۔ وہیں بیٹھے بیٹھے مقبول بٹ کے ذہن میں بھی یہ خیال آیا کہ انہیں بھی اپنی ‘آزادی’ کی آواز پوری دنیا میں پہنچانے کےلیے کچھ ایسا ہی منصوبہ بنانا چاہیے اور ایک طیارہ اغوا کرنا چاہیے۔ سرینگر میں موجود ہاشم قریشی نے برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا چونکہ اُس مجلس میں موجود چار لوگوں میں سب سے کم عمر اور نوجوان وہ تھے اس لیے مقبول بٹ نے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا کہ ہاشم کیا تم یہ کر لو گے؟، ہاشم نے جواب دیا ‘کیوں نہیں، میں کشمیر کی آزادی کےلیے اپنی جان تک قربان کر سکتا ہوں’ ہاشم قریشی کے اس جواب پر اسے خوب داد ملی جس کے بعد طیارہ ہائی جیک کرنے کا منصوبہ ترتیب پانے لگا۔
ابھی ایک اور مشکل تھی کہ اسلحے کا انتظام کیسے کیا جائے. اس کے لیے ہاشم قریشی نے ایک اور منصوبہ بنایا۔ ان دنوں سرینگر میں اخبارات میں ایک اشتہار آتا تھا کہ چور اور ڈاکوؤں سے بچنے کےلیے اصل جیسی نظر آنے والی پستول خریدیں۔ ہاشم قریشی بتاتے ہیں کہ اخبار میں اشتہار پر دیے گئے پتہ پر انہوں نے ایک پستول کا آرڈر دے دیا اور قریبی ایک دکان کا پتہ لکھوا کر وہاں منگوا لیا۔ دس بارہ دن بعد وہ نقلی پستول موصول ہوگئی جس پر جب کالا رنگ کیا گیا تو وہ ایسے ہی نظر آنے لگی جیسے اصلی ریوالور ہو۔ اب ہینڈ گرنیڈ کا کیا کیا جائے۔ اس کےلیے ہاشم قریشی نے کاغذ پر اشرف قریشی کو ہینڈ گرنیڈ کی تصاویر بنا کر دکھائیں کہ وہ کس طرح کا دکھائی دیتا ہے جس پر اشرف قریشی کہنے لگے کہ یہ تو لکڑی کے ‘بیئر مگ’ جیسا ہے، اسے ہم خود بنا لیں گے، ذرا بھی مشکل نہیں ہوگی۔ چند دنوں میں ہی لکڑی کا ہینڈ گرنیڈ بھی بن گیا اور تین سے چار مختلف رنگ ملا کر لوہے کا رنگ بن گیا جسے اس کے اوپر چڑھایا گیا تووہ بالکل اصلی ہینڈ گرنیڈ نظر آنے لگا۔ ان دنوں انڈیا کی اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے صاحبزادے راجیو گاندھی بھی بطور پائلٹ سرینگر آتے جاتے رہتے تھے اور کچھ ایسی اطلاعات تھیں کہ راجیو گاندھی بطور پائلٹ 30 جنوری کو سرینگر آ رہے ہیں۔ بقول ہاشم قریشی انہوں نے بھی 30 جنوری کا دن ہی ہائی جیکنگ کےلیے مختص کر لیا تاکہ اسی جہاز کو وہ ہائی جیک کریں جس کے پائلٹ راجیو گاندھی ہوں۔ وہ مزید بتاتے ہیں چونکہ بی ایس ایف ان پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھی اس لیے انہیں چکما دینے کےلیے جہاز میں سوار ہونے کا طریقہ یہ نکالا کہ ان کےلیے ٹکٹ اشرف نے محمد حسین کے نام سے جب کہ اشرف کےلیے ٹکٹ خود انہوں نے خریدا۔30 جنوری 1971 کو ہفتہ کا دن تھا اور یہ دونوں نوجوان تیار ہو کر ایئرپورٹ آ گئے لیکن انہیں یہ جان کر مایوسی ہوئی کہ راجیو گاندھی کسی وجہ سے نہیں آ سکے لیکن منصوبے کے مطابق وہ دستیاب جہاز میں سوار ہوگئے۔ اشرف کے پاس ایک بریف کیس تھا جس میں نقلی ہینڈ گرنیڈ اور پستول تھی اور وہ ان چیزوں کے ساتھ بھی باآسانی جہاز میں سوار ہوگیا کیوں کہ ہاشم قریشی پہلے ہی یہ ریکی کر چکے تھے کہ مسافروں کی جہاز میں سوار ہوتے وقت کوئی خاص چیکنگ نہیں ہوتی۔ جہاز تقریباً ساڑھے گیارہ بجے سرینگر ایئر پورٹ سے جموں کےلیے اڑان بھر گیا۔ چونکہ ان دنوں سرینگر اور جموں کے درمیان آدھے، پونے گھنٹے کی فلائٹ تھی اور جیسے ہی ایئرہوسٹس نے یہ اعلان کیا کہ مسافر سیٹ بیلٹ باندھ لیں جہاز تھوڑی دیر میں جموں اترنے والا ہے تو ہاشم قریشی تیزی سے سیٹ سے اٹھ کر کاک پٹ میں چلے گئے اور جا کر نقلی پستول بائیں طرف بیٹھے ہوئے جہاز کے کپتان کیپٹن ایم کے کاچرو کے سر پر رکھ دی اور اسے کہا کہ جہاز کو پاکستان لے چلے۔ پائلٹ اوبرائے دائیں طرف بیٹھے تھے اور وہ بالکل بھی دیکھ نہ سکے کہ پستول اصلی ہے یا نقلی۔ہاشم قریشی کے مطابق اشرف نے ہاتھ میں گرنیڈ تھامے سب مسافروں کو کہہ دیا کہ وہ ہاتھ اوپر کر لیں ورنہ وہ اسے چلا دیں گے۔
ہاشم قریشی بتاتے ہیں کہ میں جہاز کو جہلم کے اوپر سے راولپنڈی لے جانا چاہتا تھا لیکن انتہائی سرد موسم اور برف باری کی وجہ سے دریا دیکھ نہ سکا۔ میں نے پائلٹ کو کہا کہ جہاز راولپنڈی لے چلے جس پر اس نے کہا کہ فیول کم ہے اسے ہم لاہور تک لے جا سکتے ہیں کیوں کہ وہ نزدیک ہے۔ ہاشم قریشی کے مطابق وہ جہاز کو لاہور لے جانے پر مان گئے۔کچھ دیر بعد کو پائلٹ اوبرائے نے وائرلیس پر کوڈ ورڈ کے ذریعے ایئر ٹریفک کنٹرولر کو پیغام بھیجا کہ لاہور، لاہور۔ لیکن دوسری طرف سے ایک سردار صاحب کی آواز آئی کہ نہیں یہ لاہور نہیں امرتسر ہے۔ ہاشم قریشی کہتے ہیں کہ اس چالاکی پر انہوں نے ایک زور دار تھپٹر اوبرائے کو جڑ دیا کیوں کہ وہ جہاز کو دھوکے سے امرتسر لے جانا چاہ رہا تھا۔ اس کے بعد میں نے اس سے واکی ٹاکی بھی چھین لی۔ ہاشم قریشی کے بقول پھر جیسے ہی لاہور اترنے کےلیے پاکستان کے کنٹرول ٹاور سے رابطہ ہوا تو انہیں بتایا کہ ہم دو ‘کشمیری مجاہدین’ ہیں اور ہم نے انڈین جہاز کو ہائی جیک کر لیا ہے اور اس میں عملے کے علاوہ مسافر بھی ہیں اور ہمیں اترنے کی اجازت دی جائے۔ کنٹرول ٹاور نے متعلقہ حکام سے رابطے کے بعد اترنے کی اجازت دی اور جہاز تقریباً ڈیڑھ بجے دوپہر لاہور ایئر پورٹ پر اُتر گیا جہاں ہر طرف سکیورٹی کے لوگ تھے جنہوں نے جہاز کو گھیرے میں لے لیا۔ لاہور پولیس کے اس وقت کے ایس ایس پی عبدالوکیل خان اور ڈی ایس پی ناصر شاہ کے علاوہ سکیورٹی اور انتظامیہ کے دیگر لوگ بھی موقع پر پہنچ چکے تھے۔
ہائی جیکروں سے مطالبات پوچھے گئے تو جواب ملا کہ انہوں نے یہ سب ‘کشمیر کی آزادی’ کےلیے کیا ہے اور ان کے کچھ ساتھی جو انڈیا کی قید میں ہیں انہیں مسافروں اور جہاز کو چھوڑنے کے بدلے رہا کروانا ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ ان کی بات مقبول بٹ سے کروائی جائے۔ اشرف قریشی کہتے ہیں کہ سکیورٹی والے مجھے لاؤنج میں لے گئے مگر مقبول بٹ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا جس کے بعد میری بات ڈاکٹر فاروق حیدر سے کروائی گئی جو اس وقت راولپنڈی میں تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ‘فیروز’ ہوں اور ہم ‘پرندہ’ لے آئے ہیں آپ لاہور آ جائیں۔’ یاد رہے کہ اشرف قریشی کا کوڈ نام فیروز تھا اور آپریشن کا کوڈ نام پرندہ تھا۔ طیارے کے اندر عورتیں ڈر جب کہ بچے بھوک اور پیاس کی وجہ سے رو رہے تھے۔ ہائی جیکروں کی درخواست پر انتظامیہ نے فوری پانی مہیا کیا جو مسافروں کو دیا گیا۔ ہاشم اور اشرف نے آپس میں مشورہ کرکے لینڈنگ کے دو گھنٹے کے اندر اندر عورتوں اور بچوں کو چھوڑ دیا۔ اشرف قریشی بتاتے ہیں کہ کوئی گھنٹے، ڈیڑھ گھنٹے بعد سکیورٹی کے لوگ دوبارہ آئے اور کہا کہ ڈاکٹر فاروق حیدرنے پیغام بھیجا ہے کہ باقی مسافروں کو بھی چھوڑ دیں اور جہاز پر قبضہ جمائے رکھیں۔ اشرف قریشی نے بتایا کہ ہم نے اُن کی بات مان لی کہ یہ تو ہم سے دھوکہ نہیں کریں گے اور شام تک سب مسافروں کو چھوڑ دیا، اب ہمارے قبضے میں صرف گنگا جہاز رہ گیا تھا۔ ہاشم قریشی کے بقول تمام مسافروں کو رہا کرکے صرف جہاز پر قبضہ رکھنا یقیناً ایک بچگانہ بات تھی جس سے ہماری سودے بازی کی پوزیشن کمزور ہوئی لیکن تب ہم بھی تو بچے ہی تھے نا۔ تمام مسافروں کو سخت سکیورٹی کے حصار میں لاہور کے ایک ہوٹل میں لے جایا گیا جہاں وہ چند دن ٹھہرے اور پھر انہیں انڈیا بھیج دیا گیا۔ رات نو بجے کے آس پاس مقبول بٹ، جاوید ساغر، کے خورشید اور دیگر بھی لاہور پہنچ گئے۔ ہاشم قریشی بتاتے ہیں کہ ایئر پورٹ پر اس قدر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو چکا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دو، تین مرتبہ لاٹھی چارج کرنا پڑا تاکہ لوگوں کو جہاز سے دور دھکیلا جا سکے۔
دو فروری کو بانی پاکستان کے سابق پرنسپل سیکریٹری کے ایچ خورشید، جو بعد میں آزاد کشمیر کے صدر بھی بنے، کو لاہور ایئرپورٹ بلایا گیا جہاں مقبول بٹ سمیت وہ ہاشم قریشی سے ملے جنہوں نے بتایا کہ انہیں کہا جا رہا ہے کہ طیارے کو آگ لگا دیں۔ اشرف قریشی کے بقول مقبول بٹ نے انہیں مشورہ دیا کہ جہاز کے شیشے توڑ کر نیچے آ جائیں کیوں کہ اس کی مرمت کو چار، پانچ روز لگ جائیں گے اور اتنے دنوں تک اس واردات کے ذریعے پبلیسٹی ملتی رہے گی۔ جیسے ہی وہ ملاقات ختم ہوئی اور وہ لوگ باہر نکلے ایس ایس پی لاہور عبد الوکیل اور دوسرے سکیورٹی اہلکار ہاشم قریشی کے پاس دوبارہ گئے اور کہا مقبول بٹ نے پیٹرول بھیجا ہے تاکہ طیارے کو آگ لگا دیں۔ ہاشم قریشی کے مطابق انہوں نے ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ لوگ ان سے جھوٹ بول رہے تھے اور یوں 80 گھنٹے جہاز پر قبضہ رکھنے کے بعد انہوں نے جہاز کو آگ لگا دی۔ آگ لگانے کے عمل کے دوران اشرف قریشی کے ہاتھ جل گئے کیوں کہ باہر نکلنے کا دروازہ وقت پر نہیں کھلا جب کہ ہاشم قریشی نے آگ سے بچنے کےلیے حہاز سے چھلانگ لگا دی۔ دونوں زخمی ہوئے اور اسپتال میں داخل بھی رہے۔ پھر جیسے ہی یہ نوجوان ایئر پورٹ سے باہر نکلے ایک جم غفیر ان کے استقبال کےلیے لاہور کی سڑکوں پر تھا۔ ہر طرف خیر مقدمی بینرز لگے ہوئے تھے اور ان نوجوانوں کا جگہ جگہ استقبال پھولوں کی پتیوں اور ان کے حق میں نعروں سے کیا گیا ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اس روز سارا لاہور باہر نکل آیا تھا۔ جب یہ کشمیری ہائی جیکرز مقبول بٹ سمیت دیگر قائدین کے ساتھ مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے آزاد کشمیر کے ضلع میر پور کےلیے روانہ ہوئے تو راستے میں گوجرانوالہ اور راولپنڈی میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے جلوسوں کی شکل میں ان کا استقبال کیا۔ لیکن جشن کے یہ مناظر زیادہ دیر تک چلنے والے نہیں تھے۔جس وقت ہر طرف ان ہائی جیکروں کی ‘شجاعت’ کے گن گائے جا رہے تھے عین اسی دوران چار فروری 1971 کو انڈیا نے گنگاہائی جیکنگ کو بنیاد بناتے ہوئے پاکستان پر مشرقی پاکستان جانے کےلیے اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی لگا دی جو 1976 تک برقرار رہی۔ یہ پابندی ایک ایسے وقت میں لگی جب الیکشن کے بعد حصول اقتدار مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان نہ صرف آپس میں گتھم گتھا تھے بلکہ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک بھی زور پکڑتی جا رہی تھی۔
بہرحال اس وقت کی مارشل لا حکومت نے گنگا ہائی جیکنگ کے پیچھے چھپے محرکات کا پتہ چلانے کےلیے ایک یک رکنی کمیشن تشکیل دے دیا جس کی سربراہی سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور العارفین کو سونپی گئی۔ کمیشن نے چند دنوں کی انکوائری کے بعد رپورٹ میں لکھا کہ گنگا ہائی جیکنگ بنیادی طور پر انڈیا کی سازش تھی اور ہاشم قریشی انڈین ایجنٹ تھے جنہیں اس واردات کو انجام دینے کےلیے بی ایس ایف میں بھرتی بھی کیا گیا۔ کمیشن کے مطابق یہ سارا کچھ پاکستان پر پابندی لگوانے کےلیے کیا گیا تاکہ مشرقی پاکستان میں جاری شورش پر قابو پانے میں مشکلات رہیں۔ اس کمیشن کی رپورٹ کے نتیجے میں ہاشم قریشی اور اشرف قریشی جنہیں پاکستان میں چند ہفتے قبل تک ہر طرف سے داد شجاعت مل رہی تھی وہ اچانک ریاست اور ریاستی اداروں کےلیے ناپسندیدہ چہرے بن گئے جنہیں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مقبول بٹ، ڈاکٹر فاروق حیدر، امان ﷲ خان، جاوید ساغر اور دیگر قائدین سمیت اس سازش کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔ بقول اشرف قریشی انہیں فروری کے آخری ہفتے میں حراست میں لیا گیا اور اہلکار انہیں ٹانڈا ڈیم یہ کہہ کرلے گئے کہ تھوڑی پوچھ گچھ کرنی ہے۔ اس کے بعد ہاشم قریشی کےلیے قید و بند کا وہ سلسلہ شروع ہوا جسے تھمتے تھمتے تقریباً نو سال لگے۔ ہاشم قریشی اور اشرف قریشی سمیت دیگر قائدین پر طیارہ ہائی جیک کرنے، اسے جلانے سمیت مختلف الزامات کے تحت کارروائی کا آغاز ہوا اور کیس کے ٹرائل کےلیے ایک مخصوص عدالت تشکیل دی گئی۔ اشرف قریشی کے مطابق شاہی قلعے میں دوران حراست ان پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے، ان پر تشدد کیا گیا اور ایک لکھے ہوئے بیان کہ انہوں نے گنگا ہائی جیکنگ انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی کے کہنے پر کی تھی پر دستخط کرنے کےلیے مجبور کیا گیا۔ اشرف قریشی کے بقول تشدد کی وجہ سے انہوں نے دستخط تو کر دیے لیکن ٹرائل کورٹ میں جا کر بتا دیا کہ ان سے یہ بیان زبردستی لیا گیا۔
دسمبر 1971 سے مئی 1973 تک کیس کا ٹرائل چلا جہاں ٹرائل کورٹ نے تمام شہادتیں ریکارڈ کرنے کے بعد ہاشم قریشی کو ہائی جیکنگ کا مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے انہیں جاسوسی سمیت مختلف الزام ثابت ہونے پر مجموعی طور پر 19 سال قید کی سزا دی گئی جب کہ ان کے شریک ملزم اشرف قریشی کے علاوہ مقبول بٹ اور دیگر کو عدالت برخاست ہونے تک کی سزا دی گئی۔ کیس کے ایک ملزم ڈاکٹر فاروق حیدر وعدہ معاف گواہ بن جانے کی وجہ سے سزا سے بچ نکلے۔ ہاشم قریشی اس فیصلے پر آج بھی حیران ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک جرم جو اشرف اور ان دونوں نے مل کر انجام دیا ان میں سزائیں مختلف کیسے؟۔ اشرف قریشی رہائی کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد وہیں شعبہ شعبہ کشمیریات میں درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے جس کے بعد 2012 میں ان کی وفات ہوگئی۔
ہاشم قریشی کو مئی 1980 میں سپریم کورٹ کے تین رکنی فل بینچ کے فیصلےکے بعد رہائی ملی جس کے بعد وہ کچھ سال مزید پاکستان میں رہے لیکن پھر ہالینڈ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ وہ سنہ 2000 میں سرینگر واپس آتے ہوئے نئی دہلی میں گرفتار کر لیے گئے۔ گرفتاری کے بعد انڈین حکام نے بھی ان پر پاکستانی ایجنٹ ہونے اور گنگا ہائی جیکنگ کا مقدمہ دائر کر دیا جس کا فیصلہ گزشتہ 20 سال گزرنے کے باوجود بھی نہیں ہو پایا جب کہ وہ اس کیس میں اب بھی ضمانت پر ہیں۔ ہاشم قریشی کے بقول ایجنٹ یا ڈبل ایجنٹ ہونے کے الزامات بڑا مضخکہ خیز ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ انہوں نے گنگا ہائی جیکنگ خالصتاً کشمیر کی دونوں ممالک سے آزادی کی تحریک کےلیے کی تھی اور وہ کسی بھی ملک کے ایجنٹ نہیں رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button