لاپتہ ہونے والے علی سدپارہ K2 کو سر کر پائے تھے یا نہیں؟


سردیوں میں کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتہ ہونے والے محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ انکے والدہ لاپتہ ہونے سے قبل کے ٹو کی باٹل نیک تک پہنچ چکے تھے جہاں سے کے ٹو سر کرنے کا مرحلہ آسان تر ہو جاتا ہے۔ ساجد کا کہنا تھا کہ ان کے والد اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ جو بھی حادثہ رونما ہوا ہو گا وہ چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے سفر کے دوران کے ٹو کی بوٹل نیک میں یا اس سے نیچے کہیں پیش آیا ہو گا۔ اس دعوے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر وہ کون سے پیرا میٹرز ہیں جنکی بنیاد پر کسی کوہ پیما کے چوٹی سر کرنے کے دعوے کو سند قبولیت دی جاتی ہے۔
کوہ پیمائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ علی سدپارہ اور ان کے تین لاپتہ ساتھیوں کا معاملہ اس لیے مختلف یے کہ اس مشن پر جانے والے سب ہی کوہ پیما ابھی تک لاپتہ ہیں اور کے ٹو سر کرنے کی گواہی نہیں دے سکتے۔ دوسرا کوئی تصاویر یا ویڈیوز بھی موجود نہیں جن سے عموما چوٹی سر کرنے کے دعوے کو ثابت کیا جاتا یے۔ تیسرا یہ کہ ان تینوں کوہ پیماوں کے ٹریکرز کیمپ فور سے پیچھے ہی خرابی کے باعث بند ہو چکے تھے اور انکا باٹل نیک سے آگے جانے کا بھی کوئی ریکارڈ فی الحال موجود نہیں ہے۔ اگرچہ ساجد سدپارہ نے 100 فیصد یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا لیکن جو انسان جہاں موجود ہوتا ہے اس سے بہتر اس مقام کے بارے میں کوئی نہیں بتا سکتا لہٰذا اس صورت میں اگرچہ ساجد کے دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت میسر نہیں ہے، لیکن چونکہ وہ اپنے والد کے ساتھ مشن پر موجود تھا اس لیے اگر اسکی بات پر اعتبار کر لیا جائے
تو پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ علی سدپارہ اور انکے ساتھیوں نے کے ٹو کو سر کر لیا تھا۔ اس دعوے کی مذید تصدیق کے لیے تب تک انتظار کیا جا سکتا یے جب لاپتہ کو پیماوں کا کچھ سراغ ملے گا۔ تب لازمی ان کے ساتھ موجود آلات بھی ملیں گے جن میں موجود ڈیٹا سے ثابت ہو سکے گا کہ آیا انہیں پیش آنے والا حادثہ چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے سفر میں پیش آیا اس سے پہلے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں نیپال کی حکومت نے دو انڈین کوہ پیماؤں اور ان کے ٹیم لیڈر پر چھ سال تک ملک میں کوہ پیمائی کرنے پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کی ہے کہ انہوں نے 2016 میں ماونٹ ایورسٹ سر کرنے کی جو تصاویر دکھائیں تھیں وہ جعلی تھیں اور دراصل یہ دونوں چوٹی تک پہنچے ہی نہیں تھے۔
اگرچہ اس وقت نیپالی حکام نے نریندر سنگھ یادو اور سیما رانی گوسوامی نامی انڈین کوہ پیماؤں کو ایورسٹ سر کرنے کے سرٹیفکیٹ جاری کیے تھے تاہم کئی تجربہ کار کوہ پیماؤں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’فیک‘ تصاویر جمع کروایئں کیوں کہ ایک تو ان کے آکسیجن ماسک کی ٹیوبز آکسیجن ٹینک سے منسلک نہیں تھیں، دوسرا ان کی پہنے گئے چشمے میں نہ کوئی برف نظر آئی نہ دھوپ اور نہ ہی کوئی جھنڈا اڑ رہا ہے جو وہاں لی گئی اکثر تصاویر میں نظر آتا ہے۔ نیپال کی وزارت سیاحت کے مطابق دوسرے کوہ پیماؤں کے ساتھ کی گئی تحقیقات کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ یہ دونوں چوٹی تک پہنچ ہی نہیں پائے تھے اور وہ کوئی قابل اعتماد تصاویر اور شواہد فراہم کرنے میں بھی ناکام رہے۔
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کن شواہد کی بنیاد پر کوہ پیماؤں کے چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق کی جاتی ہے؟ دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی ایورسٹ پر پہلی مرتبہ پاکستان کا جھنڈا گاڑنے والے نذیر صابر کے نام سے کون واقف نہیں۔ نذیر کو ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ دنیا کی بلند ترین 14 چوٹیوں میں سے پاکستان میں واقع چار چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔
نذیر کا کہنا ہے کہ آج سے 20-25 سال پہلے حالات مختلف تھے اور کوہ پیما کی زبان کا اعتبار کیا جاتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کوہ پیما کو زبردستی کوئی چوٹی سر کرنے کےلیے نہیں بھیجا جاتا اور دوسری یہ کہ کوہ پیمائی میں جھوٹ کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن کئی لوگوں نے جھوٹ بولا ہے۔ کسی نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا تو کسی نے غلط فہمی کی بنا پر۔ اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ بروڈ پیک جو کہ8051 میٹر بلندی پر ہے، اس کی چار چوٹیاں ہیں: پہلے آپ ایک چوٹی پر پہنچتے ہیں، پھر دوسری آتی ہے، اس کے بعد تیسری اور آخر میں چوتھی یعنی سمٹ۔ وہ بتاتے ہیں کہ بہت سارے ایسے کوہ پیما بھی تھے جو دوسری چوٹی سے ہی لوٹ گئے ہیں اور انہوں نے کئی مہمات کی ایسی تصاویر بھی دیکھی ہیں جن کے متعلق وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ چوٹی پر پہنچ کر نہیں لی گئیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ کوہ پیما جان بوجھ کر دوسرے یا تیسرے چوٹی سے ہی لوٹ گئے ہوں، بلکہ اس کی وجہ مکمل معلومات کی کمی ہوتی ہے۔
عمران حیدر تھہیم کوہ پیمائی کے شوقین اور گزشتہ 10 برس سے کوہ پیمائی کےلیے پاکستان آنے والی مہمات پر تحقیق کرتے آ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس زمانے میں انسان کے پاس اسٹیمپ پیپر نہیں ہوتا تھا تب بھی تو زمینوں کے سودے زبانی کیے جاتے تھے۔ اصل بات ہے کوہ پیمائی کی اخلاقیات کی۔ 1953 میں آسٹرین کوہ پیما ہرمن بُل نے جب آ کر بتایا کہ انہوں نے نانگا پربت کو سر کر لیا ہے تو لوگوں نے ان کا اعتبار کیا۔ اس سوال پر کہ کوہ پیما کیسے ثابت کرتے تھے کہ وہ چوٹی تک پہنچے ہیں، نذیر کہتے ہیں کہ کوہ پیماؤں کے پاس سمٹ ثابت کرنے کےلیے کئی ثبوت ہوتے تھے جن میں چشم دید گواہی سے لے کر چوٹی سے لی گئی تصاویر، آلات اور راستے کی تفصیلات وغیرہ شامل ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سنہ 1981 میں جب وہ کے ٹو سر کرنے کےلیے گئے تو ان کے پاس اولمپس کیمرا اور ٹرانسیور دونوں موجود تھے۔ عموماً کوہ پیما اس ٹرانسیور کو جسم کے ساتھ باندھ کر رکھتا ہے اور یہ مسلسل آپ کے مقام کی نشاندہی کر رہا ہوتا ہے۔
نذیر کے مطابق، کسی کوہ پیما نے چوٹی سر کی ہے، یہ ثابت کرنے کا سب سے پہلا اور اہم طریقہ بھی تصاویر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ 1981 میں کے ٹو سر کرنے کے مشن کے دوران انہوں نے چوٹی پر پہنچتے ہی سب سے پہلے سجدہ کیا اور پھر مختلف زایوں سے ہر سمت سے اپنی تصاویر بنائیں، ان کے مطابق اس موقع پر کوہ پیما کو پینوراما تصاویر لینا ہوتی ہیں یا ایسی تصاویر جن میں ویسٹ چوٹی وغیرہ کی تصویر نظر آئے۔ اور ظاہر ہے چوٹی سر کیے بغیر ایسی تصاویر لینا ممکن نہیں لیکن ان کے مطابق ان پینوراما تصاویر کےلیے موسم کا اچھا ہونا بےحد ضروری ہے۔ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ کوہ پیماؤں کو اوپر پہنچنے پر اچھا موسم نہیں ملا۔ لیکن ہم خوش قسمت تھے کہ شمال کی سمت میں موسم بالکل صاف تھا۔ اگرچہ پاکستانی سائیڈ تھوڑے بادل تھے اور ہمیں کنکورڈیا وغیرہ نظر نہیں آیا لیکن چین والی سائیڈ ہم اچھی طرح سے دیکھ سکتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس وقت ناصرف تصاویر بنائیں بلکہ پتھر کے ٹکڑے بھی ساتھ لائے۔ چونکہ چوٹی پر کوئی پتھر نہیں صرف سخت قسم کی برف ہی برف ہے لہٰذا انہوں نے چار میٹر نیچے جا کر یہ پتھر اکھٹے کیے۔
33 سالہ پاکستانی کوہ پیما سرباز خان نے اب تک پاکستان تین بلند ترین چوٹیاں کے ٹو، نانگا پرت اور بروڈ پیک جب کہ دو نیپالی چوٹیاں بھی سر کی ہیں۔ سرباز خان اور پاکستان میں موجود چوٹیاں سر کرنے کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی کمپنی الپائن ٹورز کے سیکرٹری کرار حیدری، دونوں کے مطابق آج کل کی مہمات میں ایک لیڈر یا فوج کا لائیزن آفیسر موجود ہوتا ہے اور تمام معاملات اس کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔ سرباز کے مطابق ’ہم اکثر ٹیم کی شکل میں جاتے ہیں لہٰذا ایک رکن تصاویر اور ویڈیوز بنا لیتا ہے اور بعد میں لائیزین آفیسر یا لیڈر یہی تصویریں اور ویڈیوز دیکھ کر اور ان کا مختلف اینگلز سے جائزہ لے کر فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا اس کوہ پیما نے چوٹی سر کی ہے یا نہیں، اور اسی بنیاد پر وہ کاؤنٹر سائن کرتا ہے۔‘
اس سوال پر کہ کیا چوٹیوں پر کچھ ایسی خاص نشانیاں بھی لگی ہوتی ہیں جنکے ساتھ تصویر لینا لازم ہوتا ہے، کرار حیدری نے بتایا کہ ایورسٹ پر بدھا کا ایک مجسمہ لگا ہوا ہے جس کے ساتھ تصویر بنائی جاتی ہے اور اسے دیکھ کر نیپالی حکام سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔ اس بارے میں سرباز بتاتے ہیں کہ تقریباً ہر چوٹی پر کچھ نہ کچھ ایسا موجود ہے جس کے ساتھ آپ کو تصویر لینی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نانگا پربت پر ایک آئس بار یا راک چٹان اتنی مضبوطی سے لگی ہے کہ یہ وہاں سے ہلتی نہیں اور جب تک آپ اس کے تصویر نہ لیں، یقین نہیں کیا جاتا کہ آپ نے چوٹی سر کی ہے۔ ایسی خطرناک مہمات میں حصہ لینے والے کوہ پیما اپنے ساتھ کئی قسم کے آلات رکھتے ہیں جن کی مدد سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے چوٹی کو سر کیا ہے یا نہیں۔
کرار حیدری کے مطابق آج کل گارمین کے جی پی ایس ٹریکرز وغیرہ آ گئے ہیں جن سے ان کے کام میں کافی آسانی پیدا ہوئی ہے۔
اس بارے میں عمران حیدر تھہیم کہتے ہیں کہ کوہ پیما جو سیٹلائٹ فون یا ٹریکر استعمال کر رہا ہوتا یے اس پر لونگیٹیوڈ اور لیٹیٹیوڈ سے اس کے مقام کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔ نذیر کہتے ہیں کہ اکثر کئی کوہ پیما مل کر چوٹی سر کرتے ہیں اور ان کے ساتھیوں کو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے چوٹی سر کی ہے یا چوٹی سر کرنے کے دوران کسی نہ کسی مقام پر آپ کا آمنا سامنا کسی دوسری مہم جو ٹیم کے اراکین سے ہو ہی جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب 1981 میں انہوں نے کے ٹو کو سر کیا اس وقت ابروزی پر فرانسیسی ٹیم بھی موجود تھی۔ ان کے مطابق ایورسٹ جیسے پہاڑ پر سیزن کے دوران چوٹی سر کرنے والے کوہ پیماؤں کی تعداد 100 تک بھی پہنچی ہے اور جب وہ چوٹی سر کرنے گئے اس وقت کم از کم بیس کیمپ پر 300 افراد موجود تھے۔ لیکن مسئلہ صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب کوئی اکیلے مہم جوئی کر رہا ہو۔
تو سوال یہ یے کہ اگر کوئی اکیلے مہم جوئی کرنے نکلا ہے جسے کسی نے نہیں دیکھا، اس کے آلات کی بیٹری ختم ہو جائے یا کسی حادثے کے باعث وہ تباہ ہو جائیں یا کام کرنا چھوڑ دیں یا کیمرہ کہیں گر جائے یا موسم خراب ہو اور کوہ پیما تصاویر نہ لے پائے تو اس صورت میں وہ کیسے ثابت کرے گا کہ وہ چوٹی تک پہنچا ہے؟ نذیر کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی ایسا پہاڑ نہیں بچا جسے کسی نے سر نہ کیا ہو، لہٰذا اگر کوہ پیما اس معاملے پر جھوٹ بولتا ہے تو اسی چوٹی کو پہلے سے سر کرنے والے کوہ پیما دو منٹ کے اندر صرف دو سوال کرکے ہی اس کا جھوٹ پکڑ سکتے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے نذیر کہتے ہیں کہ 1993 میں ایک مہم جو امریکی ٹیم کے ٹو سر کرنے پہنچی جس میں ایک برطانوی جوناتھن پرات بھی شامل تھا۔ لیکن 16 کوہ پیماؤں کی اس ٹیم میں ایک ایک کر کے سب بیمار پڑتے چلے گئے اور آخر میں صرف چند لوگ ہی رہ گئے۔ پھر اس مہم میں شامل جوناتھن پرات اور ڈین مزور نے دعویٰ کیا کہ ہم نے کے ٹو کو سر کر لیا ہے لیکن چونکہ ہم رات کو 11 بجے پہنچے تھے لہٰذا ہمارے پاس کوئی تصاویر نہیں۔ نذیر بتاتے ہیں کہ بہت سے کوہ پیماؤں نے ان سے کئی طرح کے سوالات کیے اور ان کے جوابات کی بنیاد پر کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے کے ٹو کو سر نہیں کیا تھا تاہم زیادہ تر افراد نے ان کی زبان کا ہی اعتبار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button