کے پی صوبہ غیر قانونی افغانیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کیسے بن گیا؟

وفاقی حکومت کی مخاصمت میں غیر قانونی مقیم افغانیوں کو پشاور سمیت مختلف شہروں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر کے گنڈاپور سرکار ملک دشمنی پر اتر آئی۔ افغانستان بارے امريکی پاليسی واضح ہونے کے بعد اب پاکستان نے بھی افغان مہاجرین کو تین مراحل میں ہر صورت ان کے ملک واپس بھيجنے کا منصوبہ تیار کر ليا ہے۔ تاہم افغان باشندوں نے ملک بدری اور کسی قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں پناہ لے لی ہے جہاں حکومتی سطح پر نہ تو ان کیخلاف کوئی قانونی کارروائی کی جا رہی بلکہ انھیں مکمل تحفظ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اس نازک مسئلہ پر بھی سیاست سیاست کھیل رہی ہے جس کا آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کو خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے تاہم دوسری جانب مبصرین کے مطابق افغان پناہ گزینوں کی ملک بدری سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ افغان طالبان کی ٹی ٹی پی کے دہشتگرد عناصر کی پشت پناہی کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان میں پہلے سے تعلقات بہت زیادہ پیچیدہ ہیں تاہم پاکستان کے اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ جبکہ بھارت بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر فتنہ خوارج کے شرپسندوں کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں کی تعداد میں افغان باشندے قانونی اور غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہيں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قيام کے بعد اس تعداد ميں مزيد اضافہ ہوا۔ جبکہ کئی افغان باشندے ديگر ممالک جيسا کہ یورپ اور امریکہ میں پناہ کے ليے پشاور اور اسلام آباد میں مقیم تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سال رواں کے شروع میں حکومت پاکستان نے افغان باشندوں کو سیکورٹی و معاشی وجوہات کی بنا پر واپس ان کے ملک بیجھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فیصلے کے تحت دستاویزات کے بغیر اور موجود دستاویزات میں درج مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں سمیت غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افغان باشندوں کو واپس ان کے ملک بھیجھا جائے گا۔  حکومتی فیصلے کے بعد اب گرفتاری اور جبری طور پر افغانستان منتقلی کے ڈر سے ايک بڑی تعداد میں افغان باشندے مغربی صوبے خيبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں رہائش اختيار کر رہے ہیں۔

افغان مہاجرین کے مطابق’اسلام آباد اور پنجاب کے کئی شہروں میں افغان مہاجرين کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی خاندان خيبر پختونخوا آ چکے ہیں کیونکہ یہاں دستاویزات رکھنے والوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ کئی افغانی دہائیوں سے پاکستان میں کاروبار کر رہے ہيں اتنا بڑا کاروبار چھوڑ کر ان کیلئے افغانستان واپس جانا ناممکن ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کے بچے پاکستان ميں پیدا ہوئے اور پھر اسی ماحول میں تعليم و تربيت کے بعد ان کے کاروبار میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ ”کاروباری مجبوری اپنی جگہ ہے لیکن خاندان میں کوئی بھی واپس افغانستان جانے کے ليے تیار نہیں ہے۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ حالات بہتر ہوں، تو پھر جائیں گے، تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی تو خواہش ہے کہ وہ چلے جائيں لیکن بچے تو پاکستان کو اپنا ملک کہتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان میں مختلف ادوار ميں دو سے آٹھ ملین افغان مہاجرين رہائش پذیر رہے ہيں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے رضاکارانہ واپسی کے پروگرام کے تحت 2002ء سے 31 اکتوبر 2024ء تک چار ملین افغان واپس اپنے ملک جا چکے ہیں۔ البتہ طالبان کے حکومت ميں آنے کے بعد بڑی تعداد میں افغان مختلف راستوں سے واپس پاکستان پہنچ چکے ہيں۔ ان افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد اور پشاور میں اس اُمید سے رہائش پذیر ہیں کہ انہیں کسی تیسرے ملک میں پناہ مل جائے گی۔

تاہم اب امریکہ میں پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی سامنے آنے کے بعد پاکستان نے بھی غیر قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سینکڑوں افغان باشندوں کو افغانستان بھیجنے کے ليے حراست میں لیا گیا ہے۔ زیادہ تر ان افغان باشندوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے، جن کے پاس دستاويزات نہيں ہيں۔اس کریک ڈاؤن کی وجہ سے افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد خیبر پختونخوا کے مختلف شہر پہنچ رہی ہے۔ صوبائی صدر مقام پشاور میں سب سے زیادہ افغان رہائش پذیر ہیں، جن میں بعض کاروباری لوگ بھی شامل ہیں۔ان افغانوں نے خیبر پختونخوا کے شہری اور دیہی علاقوں میں رہائش پذیر اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لے رکھی ہے۔ پشاور پہنچنے والے زیادہ افغان باشندےمالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں 69 فیصد افغان باشندے مہاجر کیمپوں سے باہر رہائش پذیر ہیں، جن میں زیادہ تر یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ پاکستانی اور غير ملکی امدادی اداروں نے ان کی مالی معاونت بند کی ہے جس کی وجہ سے انہیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہیں افغانستان جانے سے ڈر لگتا ہے ليکن پاکستان میں گرفتاری کا خطرہ بھی ہے۔غیر یقینی صورتحال کی وجہ سےافغان مہاجرین کے بچےکسی بھی تعلیمی ادارے میں نہیں پڑھ سکتے۔ خيبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں بڑی تعداد میں افغان بچے زیر تعلیم ہیں لیکن کسی کالج یا یونیورسٹی میں انہیں حصول علم میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق زمینی حقائق یہ ہیں کہ خیبرپختونخوا میں حکومتی آشیر باد کی وجہ سے نہ صرف افغانی سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج سے مستفید ہو رہے ہیں بلکہ کئی افغان بچے سرکاری سکولوں اور کالجز میں بھی زیر تعلیم ہیں۔

Back to top button