گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے مزید جہادیوں کو سزائیں دینا ہوں گی

حکومت پاکستان کو بتایا گیا ہے کہ اگر ملک کا گرے لسٹ سے نکلنا یقینی بنانا ہے تو دہشت گردوں کی فنانسنگ کے الزام پر جہادی لیڈروں کے خلاف درج مقدمات میں سزائیں سنانے کا تناسب تیزی سے بڑھانا ہوگا۔ یاد رہے کہ حال ہی میں ایک عدالت نے جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردوں کی معاونت اور فنڈنگ کے دو مختلف مقدمات میں گیارہ برس کی مجموعی قید کی سزا سنائی ہے۔
پاکستان کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے بھرپور اقدامات کے باوجود ایف اے ٹی ایف کو اس حوالے سے بڑی شکایت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے بمشکل ایک چوتھائی کیسز میں ہی سزائیں سنائی گئی ہیں جبکہ ایف آئی اے کی کارکردگی صفر ہے اور کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ بھی خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہیں کرسکا۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اکتوبر 2019 کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں پاکستان میں منی لانڈرنگ اور ٹیرر فناسنگ کے مقدمات میں سزاؤں کی شرح کم ہونے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 2015 سے لے کر اکتوبر 2018 تک پاکستان میں ٹیررفنانسنگ کے 228 مقدمات درج ہوئے جن میں 337 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ صرف 58 افراد کو سزائیں سنائیں گئیں، جبکہ ایف آئی اے کی کارکردگی صفر ہے کیونکہ اس اہم تحقیقاتی ادارے کے پاس درج سینکڑوں شکایت ابھی تک محض تحقیقات کی سطح پر ہیں۔
ایف ٹی ایف کی شرائط کی روشنی میں پاکستان میں اب تک 66 ادارے اور 7600 افراد کالعدم قرار دیئے گئے ہیں جن میں جماعت الدعوۃ اور اس کے سربراہ حافظ سیعد بھی شامل ہیں جنہیں گذشتہ دنوں سزا ایک کیس میں سنائی گئی۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم تھارٹی یعنی نیکٹا کے سابق سربراہ خواجہ خالد فاروق اعتراف کرتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کے تحفظات بے جا نہیں، یہ سچ ہے کہ پاکستان میں سزاؤں کی شرح بہت کم ہے۔
خیال رہے کہ صوبائی سطح پر ٹیرر فنانسنگ کی شناخت اور تحقیقات کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ یعنی سی ٹی ڈی کرتا ہے، ایف اے ٹی ایف نے اس کی قابلیت پر بھی سوال اٹھائے ہیں رپورٹ میں پنجاب کی تعریف کی گئی ہے جبکہ بلوچستان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر بیان کی گئی ہے۔ خواجہ خالد فاروق کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف سے پہلے جو چیز نظر انداز ہو رہی تھی وہ مالی جرائم تھے ان کو پولیس محسوس نہیں کرتی تھی لیکن اب کاؤنٹر ٹیررازم محکمے نے ہر صوبے میں اس کے ماہر بٹھا دئیے ہیں اب جب کوئی ملزم پکڑا جاتا ہے تو اس کی اس حوالے سے بھی تفتیش ہوتی ہے۔ تاہم سیکیورٹی ماہرین کے مطابق سی ٹی ڈی کے پاس ٹیرر فنانسنگ روکنے کے لیے مطلوبہ استعداد کی کمی ہے۔
بعض ماہرین کے خیال میں ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ روکنے کے لئے اداروں میں اشتراک کی کمی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان میں بھی ان اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی گئی جس کے بعد موجودہ حکومت کے مجوزہ پلان میں بھی اس بات پر زور دیا گیا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان کا کوئی مرکزی ڈیٹا بیس ہونا چاہیے جس میں مشترکہ اسیسمنٹ فریم ورک ڈیٹا کی چھان بین کی جائے کیونکہ ایک ہی معاملے پر متعدد ایجنسیوں کی اطلاعات کی وجہ سے دوہراپن آجاتا ہے۔
ماہرین کے خیال میں کاؤنٹرٹیررازم میں عدم تعاون ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، نہ صرف ٹیرر فناسنگ بلکہ دہشت گردی کی روک تھام میں جو کوششیں ہیں جو چیلینجز ہیں ان میں اداروں میں تعاون کا فقدان رہتا ہے۔ حکومت نے کوشش کی تھی کہ کوئی میکنزم بنائے اور پاکستان کے جو سیکیورٹی ادارے ہیں ان کی خدمات لی جائیں تا کہ کوئی کوآرڈینشن ہوسکے لیکن اس میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ نیکٹا کے زیر اثر ایک جوائنٹ انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ بنا ہے جو مکمل طور پر فعال نہیں ہے، وزارت داخلہ نے سارا کام نیٹکا کو آؤٹ سورس کیا ہوا ہے جبکہ نیکٹا کی صلاحیت پر کئی آزاد مبصرین تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ کیا اس کے پاس اتنی افراد اور مہارت ہے بھی یا نہیں۔
سیکیورٹی ماہرین کا ماننا ہے کہ بنیادی ذمہ داری محکمہ داخلہ کی ہے جس کو وزارت خزانہ، وزارت تجارت اور وزارت قانون کے ساتھ ایف اے ٹی ایف کے ٹاسک کو لیکر چلنا ہے لیکن وزارت سطح پر ایسا کوئی تعاون نظر نہیں آتا جو ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے فنانشل ٹاسک فورس کے حکام کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور ٹیرر فناسنگ نہ پاکستان میں اندرونی، خطے اور بین الاقوامی سطح پر خطرات سے دوچار ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں 8 سنگین جرائم کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں کرپشن، سمگلنگ، منشیات کی اسمگلنگ، دھوکہ دہی، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، غیر قانونی اسلحے کی فروخت، حوالہ ہنٹڈی شامل ہیں۔
سابق سفیر ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ حافظ سعید کی سزا ایف اے ٹی ایف کے لیے ایک بڑی فتح ہے اور اس سے کافی وزن پڑیگا، پہلے میرا خیال تھا کہ جو اندورنی کوششیں ہیں اور اداروں کی کارکردگی اس سے ہم گرے لسٹ میں رہتے کیونکہ امریکہ اور کچھ دیگر ممالک ہم پر پریشر ڈالنا چاہتے ہیں لیکن اب پورا امکان ہے کہ شاید ہم گرے لسٹ سے نکل ہی جائیں کیونکہ حافظ سعید کی سزا سونے پر سہاگہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button