ہمارا مقابلہ عمران سے نہیں اس کے لانے والوں سے ہے

مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہمارا مقابلہ عمران سے نہیں اس کے لانے والوں سے ہے۔انتخابات ہائی جیک کرکے اقتدار چند افراد کو منتقل کر دینا بڑی بدیانتی اور آئین شکنی ہے، انتخابی نتائج تبدیل نہ کیے جاتے تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کبھی عمل میں نہیں آسکتی تھی۔جولوگ بھی دھاندلی کےذمہ دار ہیں انہیں حساب دینا ہو گا۔
اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے چیئر مین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کی کمپنیوں سے متعلق سکینڈل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ کے خلاف اتنا بڑا سکینڈل سامنے آیا ، عاصم باجوہ اور ان کے خاندان کے پاس انتے زیادہ اثاثے کہاں سے آگئے؟ اربوں روپے کے اثاثے کیسے بن گئے؟ یہ پوچھنے کی کسی کی مجال نہیں. ان کا مزید کہنا تھا کہ سکینڈل بارے میڈیا پر خاموشی چھاگئی ، نہ نیب حرکت میں آئی ، نہ کسی عدالت نے نوٹس لیا ، نہ کوئی جے آئی ٹی بنی ، اور نہ کوئی ریفرنس دائر ہوا ، نہ کوئی جے آئی ٹی بنی نہ کوئی مانیٹرنگ جج بیٹھا ، نہ کوئی پیشی ہوئی اور وزیراعظم کہتے ہیں وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے ۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اے پی سے جو بھی لائحہ عمل طے کرے گی مسلم لیگ ن اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ روایت سے ہٹ کر حقیقی تبدیلی کے لیے لائحہ عمل طے کریں۔
کانفرنس سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کے آغاز میں آصف زرداری سمیت تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا ایک روز قبل میری بلاول بھٹو سے بات ہوئی اور انہوں نے جس پیار، محبت سے مجھ سے بات کی، میں اسے کبھی نہیں بھلا پاؤں گا.سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘میں وطن سے دور ہوتے ہوئے بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وطن عزیز کن حالات سے گزر رہا ہے اور عوام کن مشکلات کا شکار ہیں، یہ کانفرنس نہایت اہم موقع پر منعقد ہورہی ہے بلکہ میں تو اسے ایک فیصلہ کن موڑ سمجھتا ہوں کیونکہ پاکستان کی خوشحالی اور صحیح جمہوری ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر طرح کی مصلحت چھوڑ کر اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں اور بے باک فیصلے کریں’۔انہوں نے کہا کہ ‘اگر ہم آج فیصلے نہیں کریں گے تو کب کریں گے، میں مولانا فضل الرحمٰن کی سوچ سے پوری طرح متفق ہوں کہ ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر اس کانفرنس کو بامقصد بنانا ہوگا ورنہ قوم کو بہت مایوسی ہوگی’۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ابھی آصف زرداری نے جو ٹرینڈ سیٹ کیا ہے اسی کو آگے لیکر چلنا ہے، آپ سب جانتے ہیں 73 برس سے پاکستان کو کن مسائل کا سامنا ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وجہ صرف یہ ہے کہ پاکستان کو جمہوری نظام سے مسلسل محروم رکھا گیا ہے، جمہوریت کی روح عوام کی رائے ہوتی ہے، یعنی ملک انتظام وہ لوگ چلائیں جنہیں عوام اپنے ووٹوں کی اکثریت سے یہ حق دیں جبکہ ہمارے آئین کی ابتدا بھی انہیں الفاظ سے ہوتی ہے۔دوران خطاب انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ہمارے جمہوری نظام کی بنیاد عوام کی رائے پر ہے لیکن جب جمہوریت کی اس بنیاد پر ضرب لگتی ہے اور ووٹ کی عزت کو پامال کردیا جاتا ہے تو سارا جمہوری عمل بالکل بےمعنیٰ اور جعلی ہوکر رہ جاتا ہے، جب عوام کی مقدس امانت میں خیانت کی جاتی اور انتخابی عمل سے پہلے یہ طے کرلیا جاتا کہ کسے جتانا اور ہرانا ہے اور انتخابات میں دھاندلی سے مطلوبہ نتائج حاصل کرلیے جاتے ہیں جبکہ رہی سہی کسر حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ میں نکال دی جاتی ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس کس طرح سے عوام کو دھوکا دیا جاتا ہے اور عوام کا مینڈیٹ کس طرح چوری کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان کو اس طرح کے تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا ہے، کبھی کوئی نمائندہ حکومت بن بھی جائے تو اسے ہر طرح کی سازش کے ذریعے سے پہلے بے اثر اور پھر فارغ کردیا جاتا ہے، اس سے یہ بھی پروا نہیں کی جاتی کہ اس سے ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوگا، اقوام عالم میں جگ ہنسائی ہوئی اور عوام کا ریاستی اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ بات پاکستان کے بچے بچے کہ زبان پر ہے کہ 73 سال کی تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو اپنی 5 سال کی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، ہر آمر نے ملک میں اوسطاً 9 سال غیرآئینی طور پر حکومت کی جبکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیراعظم کو اوسطاً 2سال سے بھی زیادہ کا عرصہ شاید ہی ملا ہو۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی مہم جوئی کو روکنے کے لیے 1973 کے آئین میں آرٹیکل 6 ڈالا گیا لیکن اس کے باوجود بھی 20 سال جرنیلی آمریت کی نذر ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ ‘جب ایک آمر کو آئین شکنی کے جرم میں پہلی بار عدالت میں لایا گیا تو آپ سب نے دیکھا کہ کیا ہوا، مجھے یہ کہنے میں دکھ ہوتا ہے کہ جس طرح ہرمارشل لا کو عدالتوں نے جائز قرار دیا، آمروں کو آئین سے کھلواڑ کرنے کا اختیار دیا، اسی طرح 2 مرتبہ آئین توڑنے والوں کو بریت کا سرٹیکیٹ بھی عدالتوں نے دیا’۔انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس آئین پر عمل کرنے والے کٹہروں میں کھڑے ہیں یا جیلوں میں پڑے ہیں، ہماری تاریخ میں 33 سال کا عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہوگیا، یہاں صرف ایک آمر پر مقدمہ چلا، خصوصی عدالت بنی، کارروائی ہوئی، اسے آئین و قانون کے تحت سزا سنائی گئی لیکن ہوا کیا؟ کیا وہ ملک میں آگیا اور اسے سز ملی؟ بلکہ ہوا تو یہ کہ وہ عدالت ہی غیر آئینی قرار دے دی گئی۔
نواز شریف کے مطابق پاکستان میں یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ کسی آمر کے بڑے سے بڑے جرم پر کوئی کارروائی نہ ہو، اگر کارروائی ہو بھی جائے تو کوئی اسے چھو بھی نہ سکے اور اگر کوئی فیصلہ آ بھی جائے تو صرف سزا ہی نہیں بلکہ عدالت کو بھی ہوا میں اڑا دیا جائے لیکن یہ سب آخر کب تک ؟انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ان سیاست دانوں کو دیکھیے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوئے، تو اس میں کوئی قتل ہوگیا، کوئی پھانسی چڑ گیا، کوئی ہائیجیکر بن گیا، کسی کو چور اور غدار قرار دیا گیا تو کسی کو جلا وطن کردیا گیا اور کوئی عمر بھر کے لیے نااہل ہوگیا، ان کے گناہ اور سزائیں ختم ہونے میں آ ہی نہیں رہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘وہ جھوٹے مقدمات میں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ پیشیاں بھگت رہے ہیں، دراصل یہ سلوک پاکستان کے عوام کے ساتھ کیا جارہا ہے اور سزا بھی انہیں مل رہی ہے، اگر عوام کی حمایت سے کوئی جمہوری حکومت بن جائے تو کس طرح اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں، کس طرح عوامی نمائندوں کی تزلیل ہوتی ہے، کس طرح کردار کشی کا ایک منظم سلسلہ شروع ہوجاتا، کس طرح قومی مفاد کے خلاف کسی سرگرمی کی نشاندہی کرنے پر انہیں ملک دشمن اور غدار قرار دے دیا جاتا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘خلاصہ یہ ہے کہ یہاں یا تو مارشل لا ہوتا ہے یا پھر منتخب جمہوری حکومت سے کہیں زیادہ طاقت ور متوازی حکومت قائم ہوجاتی ہے اور ایک متوازی نظام چلتا ہے، ایک مرتبہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ یہاں ریاست کے اندر ریاست ہے جسے برداشت نہیں کیا جاستا، تاہم دکھ کی بات یہ ہے کہ اب معاملہ ریاست کے اوپر ریاست تک جاپہنچا ہے’۔
اپنے طویل خطاب میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم نہ کرنے اور نتیجاً متوازی حکومت کا مرض ہی ہماری مشکلات اور مسائل کی اصل جڑ ہے’۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری میں ہماری ساکھ ختم ہوکر رہ گئی ہے، 2018 کے انتخابات کے بعد متعدد ملکی اور غیر ملی اداروں کی طرف سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے، میں جیل میں تھا لیکن مجھے سب خبریں ملتی رہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان حلقے جہاں نتائج تبدیل کیے گئے ان کی تعداد اتنی ہے کہ اگر وہاں نتائج نہ تبدیل ہوتے تو بیساکھیوں پر کھڑی یہ حکومت کبھی وجود میں نہیں آسکتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘آج قوم جن حالات سے دوچار ہے اس کی وجہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کی رائے کے خلاف نااہل حکمرانوں کو قوم پر مسلط کیا، انتخابات ہائی جیک کرکے انتخابات چند لوگوں کو منتقل کردینا بہت بڑی بددیانتی اور آئین شکنی ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم چند روپے کی خاطر ڈاکا ڈالنے والوں کے لیے بڑی سے بڑی سزا کا تقاضہ کرتے ہیں لیکن عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا کتنا سنگین جرم ہے کیا کبھی کسی نے سوچا ہے’۔ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ 2018 کے انتخابات میں آر ٹی ایس گھنٹوں کیوں بند رکھا گیا، گتنی کے دوران پولنگ ایجنٹس کو کیوں باہر نکال دیا گیا، انتخابات میں دھاندلی کیوں اور کس کے کہنے پر کس کے لیے کی گئی اور کونسی مفادات کے لیے کی گئی، اس پر سابق چیف الیکشن کمشنر اور سیکریٹری الیکشن کمشنر کو بھی جواب دینا ہوگا اور جو لوگ بھی دھاندلی کے ذمہ دار ہیں ان سب کو حساب دینا ہوگا۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس نااہل حکومت نے 2 برسوں میں ملک کو کہاں سے کہاں پہنچادیا ہے، اس کا کوئی اندازہ لگاسکتا ہے، پاکستان کی معیشت بالکل تباہ ہوچکی ہے، 5.8 کی شرح ترقی سے بڑھتا ہوا پاکستان آج صفر سے بھی نیچے جاچکا ہے، پاکستانی روپیہ بھارت اور بنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ افغانستان اور نیپال سے بھی زیادہ نیچے گرچکا ہے، جس مہنگائی پر ہم نے مکمل قابو پالیا تھا وہ آج کئی گنا بڑھ گئی ہے، غریب اور متوسط گھرانوں کے لیے 2 وقت کی روٹی محال ہوگئی ہے، بجلی اور گیس کے بل عام آدمی پر بم بن کر گرتے ہیں، گزشتہ 2 سال میں ڈیڑھ کروڑ لوگ غربت کی سطح سے نیچے جاچکے ہیں، ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والے ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں کا روزگار چھین چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ‘اس نالائق حکومت نے ہر معاملے پر یوٹرن لیا ہے، آج سرمایہ کاری بالکل ختم ہوچکی ہے، سی پیک سخت الجھن کا شکار ہے، قرضے ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے 2 سال کی قلیل مدت میں قرضوں میں اتنا اضافہ کردیا ہے جس سے گزشتہ سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں جبکہ 2 سال میں کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جاسکا’۔ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان جس کے بارے میں بین الاقوامی ادارے یہ پیش گوئی کر رہے تھے یہ 20 بڑی معیشتوں میں شامل ہوجائے گا آج معاشی طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ یاد رکھیں پاکستان میں اگر ‘ووٹ کو عزت نہ ملی اور قانون کی حکمرانی نہ آئی تو یہ ملک معاشی طور پر مفلوج ہی رہے گا’، ساتھ ہی میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ایسے ممالک اپنے دفاع کے قابل بھی نہیں رہتے خاص طور پر اس وقت جب آپ کے دشمن آپ کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہے ہوں۔
لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر پیش آئے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل دہلا دیتا ہے، اس سانحے کے بعد مزید تکلیف کا باعث اس ‘سنگ دل’ پولیس افسر کا ہے جو بنیادی انسانی اقدار سے بھی محروم ہے، اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکومت کی ہمدردیاں قومی کی بیٹی کے بجائے انے چہیتے پولیس افسر کے ساتھ ہیں۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے کے نقصان اور ہزاروں جانیں قربان کرنے کے باوجود ہم کبھی ایف اے ٹی ایف اور کبھی کسی اور کٹہرے میں کھڑے شرمناک صفائیاں پیش کر رہے ہوتے ہیں۔
کشمیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ کشمیر کا نام جب سامنے آتا ہے تو 73 سال سے دی جانے والی قربانیاں آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں، کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ کئی سال سے جاری ہے لیکن اسے ہڑپنے کا سلسلہ کبھی نہیں ہوا لیکن اب بھارت نے غیرنمائندہ، غیرمقبول اور کٹھ پتلی پاکستانی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا اور ہم احتجاج بھی نہیں کرسکے، دنیا تو کیا ہم اپنے دوستوں کی حمایت بھی حاصل نہ کرسکے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیوں ہم عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے، کیوں دنیا ہماری بات سننے کو تیار نہیں ہے، کیوں ہمارے درینہ اور شانہ بشانہ کھڑے ہونے والے ممالک دور ہوگئے، شاہ محمود قریشی نے کس منصوبے کے تحت وہ بیانات دیے جس سے ہماری درینہ دوست سعودی عرب کی دل شکنی ہوئی، پاکستان کو اپنے دوست ممالک کی دل آزاری کا اعتراف کرنا چاہیے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ان تمام سوالوں کے جواب لیا جائے، ملک میں خارجہ پالیسی جو بچوں کا کھیل بنا دیا گیا ہے، یہاں موجود سابق وزرائے اعظم جانتے ہیں کہ سول حکومت کے گرد کس طرح کے شکنجے کس لیے جاتے ہیں، کس طرح ایسی کارروائیاں ہوجاتی ہیں جس کا وزیراعظم، صدر کو علم ہی نہیں ہوتا اور پھر ان کارروائیوں کی بھاری قیمت ریاست کو ادا کرنا پڑتی ہے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘ایجنسیوں کے اہلکاروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنی، ثبوت کسی کے خلاف کچھ نہیں تھا لیکن پروپیگینڈہ مشینوں کے ہاتھوں مجھے بھی غدار اور ملک دشمن ٹھہرادیا گیا’، وزیراعظم کے احکامات کو ایک ماتحت ادارے کی طرف سے کی گئی ٹوئٹ میں ‘مسترد’ کا عنوان دے دیا گیا۔
سی پیک سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو ناکام بنانے کا سلسلہ2014 میں اس وقت شروع ہوا جب دھرنوں کے ذریعے چین کے صدر کا دورہ ملتوی کروا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اب سی پیک کے ساتھ پشاور بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا، جہاں کئی سال گزر گئے، منصوبے سے کئی گنا زیادہ رقم خرچ ہوچکی مگر نتیجہ آج بھی آنکھوں سے اوجھل ہے، آئے دن بسوں میں آگ لگ جاتی اور بارش ناقص تعمیر کا پول کھول کر رکھ دیتی۔قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک آمر کے بنائے ہوئے اس ادارے کو برقرار رکھنا ہماری غلطی تھی لیکن یہ سچ ہے کہ ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ادارہ اس حد تک گرسکتا ہے، یہ ادارہ نہیں بلکہ اندھے حکومتی اقدامات کا آلہ کار بن چکا ہے، اس کے کئی سینئر اہلکاروں کے گھناؤنے کردار فاش ہوچکے ہیں، اس ادارے کا چیئرمین جاوید اقبال اپنے عہدے اور اختیارات کا انتہائی نازیبا اور مذموم استعمال کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے مگر نہ تو کوئی انکوائری ہوتی اور نہ ہی کوئی ایکشن لیا جاتا ہے جبکہ نہ ہی شفافیت کے دعویدار عمران خان پر کوئی جوں رینگتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود یہ شخص ڈھٹائی سے اپنے عہدے پر براجمان، انتقام کے ایجنڈے پر عمل کرتا ہے لیکن بہت جلد ان سب کا یوم حساب آئے گا، بین الاقوامی ادارے اور ہماری اعلیٰ عدالتی نیب کے منفی کردار پر واضح رائے دے چکی ہیں، یہ ادارہ انتہائی بدبودار ہوچکا ہے، اپوزیشن کے لوگ اس کا نشانہ بنے ہوئے ہیں جو اپنے گھر کی خواتین کے سامنے عدالتوں میں رُل رہے ہیں، جو نیب سے بچے وہ ایف آئی اے کے حوالے کردیا جاتا اور جو وہاں سے بچتا ہے اسے انسداد منشیات فورس کے ہتھے چڑ جاتا جبکہ جو وہاں سے بچتا ہے اسے کسی بھی جھوٹے مقدمے میں پکڑ لیا جاتا ہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2018 میں سینیٹ انتخابات سے کچھ عرصے قبل ایک مذموم سازش کی گئی، ‘اس مذموم سازش کے ذریعے بلوچستان کی صوبائی حکومت گرادی گئی، جس کا اصل مقصد سینیٹ کے انتخابات میں سامنے آیا’۔انہوں نے کہا کہ اس سازش کے کرداروں میں ‘لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، جو اس وقت کے کمانڈر سدرن کمانڈ تھے ان کا نام بھی آتا ہے’، یہ وہی ‘عاصم سلیم باجوہ ہیں جن کے خاندان کی بے پناہ دولت اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اثاثوں کی تفصیلات پوری قوم کے سامنے آچکی ہے’۔
اپنے خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘ان حقائق کو نہ صرف چھپایا گیا بلکہ مبینہ طور پر ایس ای سی پی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی ردوبدل بھی کی گئی، 15 سے 20 سال کے عرصے میں اربوں روپے کے یہ اثاثے کہاں سے بن گئے، یہ پوچھنے کی کسی کی مجال نہیں، میڈیا پر خاموشی چھا گئی، نہ نیب حرکت میں آئی نہ کسی عدالت نے نوٹس لیا اور نہ ہی کوئی جے آئی ٹی بنی اور نہ ہی کوئی ریفرنس دائر ہوا’۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘نہ کوئی نگران جج بیٹھا، نہ کوئی پیشی ہوئی اور نہ ہی کوئی سزا، احتساب کا نعرہ لگانے اور این آر او نہ دینے کے بڑے دعوے کرنے والے عمران خان نے بھی ان اثاثوں کے ذرائع پوچھنے کی جرات تک نہیں کی بلکہ ایک پل میں انہیں ایمانداری کا سرٹیکفیٹ جاری کردیا گیا، یہ سب آپ کے سامنے ہوا’۔انہوں نے کہا کہ ‘میڈیا پر پہلی بار اس اسکینڈل کا ذکر تب ہوا جب عاصم سلیم باجوہ خود ٹی وی پر آئے’۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس حکومت کے 2 برس میں یہ کوئی پہلا مالی بدعنوانی کا اسکینڈل نہیں، یہاں کئی انتہائی سنگین اسکینڈل سامنے آچکے ہیں، جن کا نقصان براہ راست غریب عوام کو پہنچا، حکومت میں بیٹھے لوگ باقاعدہ منصوبہ بندی سے آٹے، چینی اور ادویات کی قیمتیں آسمان پر لے گئے، عوام کے کھربوں روپے لوٹ لیے گئے، ملک حکمران اگرچہ کرپشن مافیاز اور این آر او کو ڈھنڈورا پیٹتا ہے لیکن چینی کی قیمتیں بڑھانے میں خود ان کی ذات ملوث ہے۔انہوں نے سوالات کیے کہ نیب انہیں تحقیقات کے لیے گرفتار نہیں کرے گا؟، کیا ان پر کوئی ریفرنس دائر نہیں ہوگا؟، علیمہ خان کے بیرون ملک اثاثوں کی تحقیقات کی کوئی جانچ پڑتال نہیں کرے گا؟، بنی گالا میں عمران خان کے ذاتی گھر اور ان کے غیرقانونی تعمیرات کی فائل کیا ایسے ہی بند رہے گی؟، غیرملکی فنڈنگ کیس میں کیا الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ نہیں کرے گی؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب آج تک سامنے نہیں آیا، ہم کب تک انتظار کریں، کیا ان تمام لوگوں پر کوئی فوجداری مقدمہ قائم نہیں ہوگا؟، کیا بنی گالا میں زمین کی خرید کی منی ٹریل پر کوئی جے آئی ٹی نہیں بنے گی؟ کہ اتنی بڑی جائیداد کہاں سے اور کیسے بنی؟ اس میں بہت کرپشن اور شکوک و شبہات ہیں۔
دوران خطاب ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اربوں کے جائیداد کے باوجود 2 لاکھ 83 ہزار روپے کا ٹیکس دیا، سوال یہ ہے کہ جب آمدنی اتنی قلیل ہے تو آپ کے لاہور کے زمان پارک کے گھر پر خرچ ہونے والے کروڑوں روپے کہاں سے آئے، یہ بتانا ہوگا، کیا نیب ان آمدن سے زیادہ اثاثوں پر کوئی ایکشن نہیں لے گا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ احتساب کے اداروں کو اپوزیشن کے سوا کسی کے اثاثے اور آمدنی کے ذرائع نظر نہیں آتے، ریاست مدینہ تو بہت بلند و برتر مثال ہے، قانون و انصاف کا ادنیٰ کا معیار رکھنے والی ریاست میں بھی ایسا نہیں ہوتا، ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ کیا کچھ لوگ اس دہرے معیار کی وجہ سے کسی جرم کے بغیر سزائیں پاتیں رہیں گے اور کیا کچھ لوگ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی بے گناہی کے سرٹیفکیٹ حاصل کرتے رہیں گے، قوم کب تک یہ سب دیکھتی رہے گی؟
انہوں نے کہا کہ فیصلہ کرلیں آج کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں؟، میرا جواب تو ہوگا نہیں، ہرگز نہیں کبھی بھی نہیں۔ذرائع ابلاغ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے اور اظہار کی آزادی بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک ہے، افسوس دیگر حقوق کی طرح پاکستان کے عوام سے یہ حقوق بھی چھین لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ‘ریاستی طاقت سے میڈیا کی زبان بندی کہاں کا انصاف ہے، صحافیوں بالخصوص خواتین صحافیوں کو سرکاری ایجنسیز کا اٹھا کر لے جانا اور تشدد کا نشانہ بنانا، بزدلانہ اور انتہائی قابل مذمت ہے، سینئر صحافیوں کو چینلز یا اخبارات کی کی ملازمت سے برخاست کرادینا، بےبنیاد مقدمات میں الجھا دینا اور قید میں ڈال دینا کیا ایک جمہوری ریاست کا طریقہ ہے’۔کانفرنس کے شرکا سے درخواست کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب یہ عہد کریں کہ ہم میڈیا اور ذرائع ابلاغ کی حفاظت کریں گے اور اس کے آزادی پر کوئی قدغن قبول نہیں کریں گے۔
اپنے طویل خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے اور اپنا مخصوص ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے ‘تقسیم کرو’ کی پالیسی معمول بن چکی ہے، ‘کچھ عرصے قبل تک یہ تقسیم سیاست دانوں تک محدود تھی، جنہیں مختلف مخصوص حلقوں کی طرف سے بلایا، ڈرایا اور دھمکایا جاتا تھا، یہ طریقہ سیاسی جماعتیں توڑنے، فارورڈ بلاک بنانے یا پھر مرضی کی جماتیں بنانے کے لیے استعمال ہوتا رہا اور آج بھی ہوتا ہے، محکمہ زراعت کو تو آپ سمجھتے ہی ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک ہیں اور قومی مفاد کی خاطر تقسیم ہونے سے انکار کرتے ہیں، اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پھر یہ کانفرنس کامیاب ہے، اگر ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ کانفرنس ہماری تاریخ کا سنگ میل بن سکتی ہے، اب ‘تقسیم کرو’ کا یہ ہتھیار نہ صرف وکلا، دانشوروں، تاجروں، صنعتکاروں اور میڈیا کے لیے استعمال ہورہا بلکہ اب عدلیہ بھی اس کا ہدف ہے، جو جج انصاف اور قانون کی راہ پر چلتا ہے اور دباؤ میں آنے سے ہٹتا ہے اسے عہدے سے ہٹانے کی سازش ہوجاتی ہے۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، یہ دونوں جج دیانت داری، امانت داری کی شہرت کے حامل ہیں، آج تک کسی فورم نے یہ تحقیق ضروری ہی نہیں سمجھی کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جو کچھ حلفیہ کہا اس کا بھی جائزہ لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ‘یہاں انصاف پسند اور امانت دار نہیں بلکہ ایسے منصف تلاش کیے جاتے ہیں جو ان کے ہر جائز اور ناجائز مطالبات تسلیم کریں، نظریہ ضرورت بنائیں اور پروان چڑھائیں، آئین کو سبوتاژ کرنے والے آمروں کے اقدامات کو قانون کا جامع عطا کریں، ان کے گلے میں ہار پہنائیں اور انہیں خوش آمدید نہیں کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے، یہ کام تو پہلے ہوجانا چاہیے تھا آپ نے تو مارشل لا دیر سے لگایا ہے’۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘اس کانفرنس کو آئین کی حکمرانی اور ووٹ کے عزت کے تحفظ کے لیے آج ایک جامع لائحمہ تجویز کرنا چاہیے، اگر میثاق جمہوریت کی بنیاد پر کسی نئے میثاق کی تشکیل ضروری ہو تو اس پر غور کیا جانا چاہیے، متوازی حکومت کے بنیادی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے، عوام کی رائے پر اپنی رائے مسلط کرنے کا نتیجہ سقوط ڈھاکا کی شکل میں سامنے آیا تھا لیکن اس عظیم سانحے کو بھی بڑی سرد مہری سے فراموش کردیا گیا، میری تجویز ہے کہ یہ کانفرنس حمودالرحمٰن کمیشن کی سفارشات کو عوام کے سامنے لائے’۔انہوں نے کہا کہ ‘اس وقت ہماری اولین ترجیح اس غیرنمائندہ، نااہل اور سلیکٹڈ حکومت اور اس سے کئی زیادہ اہم اس نظام سے نجات حاصل کرنا ہے، عمران خان ہمارا اس طرح کا ہدف نہیں ہے، ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے، ہماری جدوجہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے اور ان کے خلاف ہے جنہوں نے الیکشن چوری کرکے نااہل بندے کو اس جگہ لاکر بٹھایا اور ملک کو برباد کردیا’۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ ملک ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے، یہ تبدیلی عمل میں نہ آئی تو یہ نااہل اور ظالمانہ نظام ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دے گا، ہمیں ملک کے دشمنوں کے عزائم بھی نہیں بھولنے چاہیے، ہماری قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی معیشت کے ساتھ ساتھ اپنی مسلح افواج کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں، ہم نے اس کام میں ماضی میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور آئندہ بھی ہماری یہی ترجیح رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے دفاع کی مضبوطی اور قومی سلامتی کے لیے سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج آئین پاکستان، اپنے دستوری حلف اور قائد اعظم تلقین کے مطابق خود کو سیاست سے دور رکھیں اور عوام کے حق حکمرانی میں مداخلت نہ کریں، کسی کے کہنے پر وزیراعظم ہاؤس کے دروازے پھلانگ کر اس میں داخل ہوکر بندوق کی نوک پت وزیراعظم کو گرفتار نہ کریں’۔
نواز شریف کے مطابق ہم نے اپنے ملک کو اپنے اور دنیا کی نظروں میں تماشہ بنا دیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے یقین دلایا کہ اے پی سی جو بھی لائحہ عمل ترتیب دے گی مسلم لیگ (ن) اس کا بھرپور ساتھ دے گی اور پیچھے نہیں ہٹے گی۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ اے پی سی اپنی روایت سے ہٹ کر حقیقی تبدیلی کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات تجویز کرے۔
