کویت میں زہریلی شراب سے 13 تارکین وطن ہلاک، درجنوں کی حالت نازک

خلیجی ریاست کویت میں ملاوٹ شدہ شراب پینے سے ہلاکتوں کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، 31 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں جبکہ 21 افراد بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق کویتی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ شراب میں انتہائی خطرناک کیمیکل "میتھانول” پایا گیا، جو سب سے پہلے متاثرہ شخص کی بصارت کو نشانہ بناتا ہے اور اندھے پن یا نظر کی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق اس واقعے سے متاثرہ افراد کی تعداد 63 سے زائد ہے، جن میں اکثریت جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی ہے جو کویت میں تعمیراتی، گھریلو اور تجارتی شعبوں میں کام کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ کویت میں 1964 سے شراب کی درآمد پر پابندی ہے اور 1980 کی دہائی میں شراب نوشی کو بھی جرم قرار دیا گیا تھا، تاہم غیر قانونی طور پر تیار اور فروخت ہونے والی شراب اب بھی ایک دیرینہ مسئلہ ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان معاشی طور پر کمزور تارکین وطن کو اٹھانا پڑتا ہے۔
صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق میتھانول انسانی جگر، دماغ اور بینائی کے اعصاب پر براہِ راست مہلک اثر ڈالتا ہے۔
