‘امپورٹڈ حکومت نامنظور’ کا ٹرینڈ مصنوعی نکلا، بوٹس نے بنایا


معلوم ہوا ہے کہ عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے ‘امپورٹڈ حکومت نامنظور’ کا ٹرینڈ چلانے والے لوگ ہی اس وقت پاکستانی فوجی قیادت کے خلاف بھی مختلف ٹرینڈز چلا رہے ہیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ دونوں ٹرینڈز اورگینگ نہیں بلکہ مصنوعی ہیں اور انہیں بوٹس Bots کی مدد سے بڑھایا جا رہا ہے۔
ہاد رہے کہ عمران خان کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی جانب سے تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے ہی ٹویٹر پر #امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نام سے ایک ٹرینڈ نمودار ہو گیا تھا۔ تحریک انصاف کے اپنے دعوے کے مطابق اب تک یہ ٹرینڈ 80 ملین بار ٹویٹ ہو چکا ہے۔
لیکن بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ خاصہ حیران کن ہے، خصوصاً اگر اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ پاکستان میں ٹوئٹر کے صارفین کی کل تعداد 3 اعشاریہ 4 ملین ہے جن میں بہت سے اکائونٹس معطل اور کچھ صارفین کے ایک سے زائد اکائونٹس ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا غیرمنطقی ہوگا کہ وہ 80 ملین ٹویٹس ‘اورگینک’ یا اصلی اکائونٹس سے آئی ہیں۔ اگر ان اعداد و شمار کو درست مان لیا جائے تو اس کے معانی یہ ہوں گے کہ ہر پاکستانی صارف نے یہ ‘ہیش ٹیگ’ 23 بار ٹوئٹ یا ری ٹوئٹ کیا۔ ایسا ہونا بالکل ناممکن ہے کیونکہ مخالف خیالات رکھنے والے بہت سارے صارفین اسے ٹوئٹ نہیں کر سکتے۔
وفاقی وزیر برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کے مطابق امپوٹڈ حکومت نامنظور کا ٹرینڈ 177 صارفین کی جانب سے بنایا اور چلایا گیا، جب کہ باقی ماندہ ‘بوٹس’ Bots تھے۔ بوٹس سافٹ ویئر سے چلنے والے وہ پروگرامز ہوتے ہیں جو کئی اقسام کے کام سرانجام دے سکتے ہیں جیسا کہ ان پٹ کے نتیجے میں ٹوئٹ، میسج اور ری ٹوئٹ کرنا۔ ان کا کہنا تھا کہ کل 924 اکائونٹس نے اس بھاری بھرکم کام کو سرانجام دیا۔ ٹیکنالوجی کی ماہر رمشا جہانگیر کا کہنا ہے کہ سابق حکمراں جماعت کا تجزیہ ایک بالکل مختلف ہیش ٹیگ کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کی آفیشل ٹیموں نے علیحدہ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرایا،دونوں میں حروف کا فرق ہے۔ اگرچہ دونوں ٹرینڈز کو جانچنے کے حوالے سے مکمل معلومات میسر نہیں لیکن پھر بھی ایک بحث چل پڑی ہے کہ آیا یہ اورگینک ہیں کہ نہیں۔ رمشا کے مطارق ایک ٹرینڈ کے برقرار رہنے کا تعلق اسکے اورگینک اور ان اورگینک دونوں قسم کی ٹوئٹس سے ہوتا ہے، لیکن وہ پروان انِ اورگینک طریقوں سے ہی چڑھتا ہے۔ ان کے مطابق ایک لاکھ ٹوئٹس کے سیمپل سائز میں سے صرف 32 فیصد ٹوئٹس حقیقی صارفین کی جانب سے کی گئیں۔ سیمپل سائز کے دوسرے مرحلے میں 73،000 ٹوئٹس کا جائزہ لیا گیا جن میں سے فقط 13 فیصد درست نکلیں، جس کے معانی یہ ہوئے کہ صرف 108،000 ٹوئٹس حقیقی صارفین کی جانب سے کی گئی تھیں۔ سیمپل سائز کو بڑھانے کی صورت میں یہ شرح 10 فیصد سے بھی نیچے جا سکتی ہے۔
رمشا کے مطابق ایسے کئی اشاریے ہیں جن کی مدد سے کسی ان اورگینک طریقہ کار کا اندازاہ لگایا جا سکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا ٹرینڈ دونوں نوعیت کے طریقوں کا مجموعہ ہے۔ جیسا کہ کچھ اکائوٹس نے ایک ہی ٹوئٹ کو 1000 بار ری پوسٹ کیا، جس میں ٹوئٹس، ری ٹوئٹس اور لائیکس شامل ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب نسبتاً بڑے اکائونٹس کوئی ہیش ٹیگ پوسٹ کرتے ہیں تو زیادہ ٹریفک اور والیوم مرتب ہوتا ہے۔ رمشا نے کہا کہ ‘امپورٹڈ حکومت نامنظور’ ٹرینڈ کے دوران 17 ملین سے زائد ٹویٹس نظر آتی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی صارفین بھی اب گفتگو کا حصہ بن رہے ہیں اور یوں کچھ اورگینک سرگرمی بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مارچ میں بڑی تعداد میں ٹوئٹر اکائونٹس بنائے گئے، اور یکم اپریل سے 11 اپریل تک روزانہ اوسطاً 1300 اکائونٹس بنائے گئے۔ البتہ اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہ اکائونٹس بوٹس یا جعلی تو نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے دعوے کے مطابق کیا امپورٹڈ حکومت نامنظور کا ٹرینڈ دنیا کے بڑے ٹرینڈز میں سے ایک تھا؟ رمشا کے مطابق ٹوئٹر اس بات کے تعین کے لئے کچھ معیارات مقرر کرتا ہے جن کے مطابق مذکورہ ہیش ٹیگ 9 اپریل کو دنیا کے صفِ اول کے ٹرینڈز میں سے تھا، لیکن دلچسپ بات یہ کہ کئی ملین ٹوئٹس کے باوجود بعد میں یہی ٹرینڈ نیچے آ گرا۔ اس کی ممکنہ وجہ اس کے اطراف موجود مشکوک سرگرمی ہے اور یہی امر اس کے مسلسل عروج کی راہ میں رکاوٹ بنا۔ پی ٹی آئی کے دعوے کے مطابق اس ضمن میں 8 ملین سے زائد ٹوئٹس کی گئیں لیکن اس کے باوجود ٹرینڈ دیگر عالمی ٹرینڈز میں جگہ بنانے میں ناکام رہا، اس کی ایک ممکنہ وجہ ٹوئٹس کا جغرافیے کے اعتبار سے مخصوص علاقوں یا موبائل ڈیوائسز سے کیا جانا ہے، جب کہ اورگینک سرگرمی کے ذریعے یہ اب بھی عالمی ٹرینڈز میں جگہ بنا سکتا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق اصل کلید مستقل اور حقیقی ٹوئٹس میں ہے، جس کی ایک مثال سندھ کا ‘بوگس ڈومیسائل’ ٹرینڈ ہے جو صفِ اول کے عالمی ٹرینڈز میں جگہ بنانے میں کامیاب رہا۔

Back to top button