دہشتگردوں نے 2025 کو صدی کا خونریز ترین سال کیسے بنایا ؟

عسکریت پسندوں کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجود پاکستان میں 2025 کے دوران دہشتگردانہ کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران دہشت گرد حملوں میں 34 فیصد جبکہ دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں سالانہ بنیادوں پر 21 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ جانی نقصان میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث 2025 کو پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کا سب سے خونریز سال قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک غیر سرکاری تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے ، اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم 1034 افراد جاں بحق اور 1366 زخمی ہوئے جبکہ سال 2025 کے دوران فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ریکارڈ 1313 عسکریت پسند انجام کو پہنچے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسند گروپوں کے خلاف جاری آپریشنز کی وجہ سے پاکستان میں جاری دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے،تاہم 2025 پرتشدد اور دہشتگردانہ کارروائیوں کے حوالے سے گزشتہ ایک دہائی کا سب سے خونریز سال ثابت ہوا ہے، جہاں دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی طور پر ساڑھے تین ہزار کے قریب افراد لقمہ اجل بنے، جن میں نصف سے زائد عسکریت پسند شامل تھے۔
2025 میں دہشتگردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 3,413 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 1,950 تھی۔ رپورٹ کے مطابق مارے جانے والوں میں 2,138 عسکریت پسند شامل تھے،اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں 124 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2025 میں عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف تیز تر کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ٹی ٹی پی افغانستان کی طالبان حکومت کا باضابطہ حصہ نہیں، تاہم حالیہ برسوں میں افغان طالبان کی پشت پناہی کی وجہ سے اس گروہ نے پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
پی آئی سی ایس ایس کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان کے مطابق دہشتگردانہ کارروائیوں میں ہلاکتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ خودکش حملوں میں تیزی اور وہ جدید امریکی فوجی ساز و سامان ہے جو 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد شدت پسند گروپوں کے ہاتھ لگا، جس سے ان کی جنگی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں سب سے زیادہ سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں ایک سال کے دوران 667 سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ اور 2011 کے بعد سب سے زیادہ سالانہ تعداد ہے۔ اسی دوران 580 شہری بھی جان سے گئے، جو 2015 کے بعد شہری ہلاکتوں کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ 2025 کے دوران حکومت نواز امن کمیٹیوں کے 28 ارکان بھی دہشتگردوں کا نشانہ بنے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں کم از کم 1,066 عسکریت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ خودکش حملوں میں 53 فیصد اضافہ ہوا۔ سکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیوں کے دوران تقریباً 500 عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا، جبکہ 2024 میں صرف 272 دہشتگرد شکنجے میں آئے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق 95 فیصد سے زائد دہشت گرد حملے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تشدد کا جغرافیائی ارتکاز بدستور انہی دو صوبوں تک محدود رہا۔ خیبر پختونخوا میں 413 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے جبکہ بلوچستان میں 254 عسکریت پسند حملوں کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے، جو صوبے میں طویل المدت سکیورٹی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ سندھ میں اگرچہ حملوں کی تعداد نسبتاً کم رہی، تاہم کراچی سمیت مختلف شہروں میں ہونے والے 21 حملوں میں 14 افراد جاں بحق ہوئے، پنجاب میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی اور 2025 میں سات واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم دارالحکومت اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر خودکش حملہ اس بات کا ثبوت بنا کہ حساس اور محفوظ سمجھے جانے والے علاقوں بھی محفوظ نہیں رہے۔ خیال رہے کہ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی کے دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔
ماہرین پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردانہ وارداتوں کو بھارت افغان گٹھ جوڑ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق افغان اور بھارتی پراپیگنڈا مشینری کے درمیان منظم گٹھ جوڑ خطے میں عدم استحکام، انتشار اور انتہا پسندی کو فروغ دینے میں سرگرم ہے ، خطے کے مختلف ممالک میں ریاستی دہشت گردی، مداخلت اور بدامنی پھیلانا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی انتہا پسند پالیسیوں کا مستقل حصہ بنتا جا رہا ہے ۔رپورٹس کے مطابق بھارتی پروپیگنڈا مشینری، مودی حکومت کی ایما پر، خطے میں بدامنی پھیلانے کی مذموم سازشوں میں مصروف ہے ،اس کے ساتھ ساتھ بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان شرپسند عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کن اور جھوٹا بیانیہ پھیلانے میں بھی سرگرم نظر آتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہونے والی دہشتگردانہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ملک میں انتشار پھیلانے والے متعدد گھوسٹ اور جعلی اکاؤنٹس کے پیچھے شرپسند بھارتی عناصر کے کردار کے شواہد سامنے آ رہے ہیں،ماہرین نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ بھارتی اور افغانی سوشل میڈیا اکاونٹس سے پھیلایا جانے والا مضحکہ خیز اور اشتعال انگیز مواد پاکستان کے خلاف ایک منظم انفارمیشن وارفیئر کی کڑی ہے ۔ ماہرین کے بقول بنگلہ دیش سے لے کر دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال تک، متعدد واقعات خطے میں عدم استحکام کے لیے مودی حکومت کے انتہا پسند عزائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
