حکومت نے تحریک لبیک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

حکومت نے تحریک لبیک کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ ایک جانب تو حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے اور پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچانے کےلیے سرگرم ہے لیکن دوسری طرف حکومت چند انتہا پسند مذہبی تنظیموں کے دباؤ میں آکر ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے ریاست کی کمزوری کا تاثر ابھر رہا ہے۔
اس حوالے سے ایک تازہ ترین واقعہ میں حکومت نے علامہ خادم رضوی کی انتہا پسند جماعت تحریک لبیک کے دباؤ میں آکر ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی فلم ’زندگی تماشا ‘ کی ریلیز کو نہ صرف روک دیا ہے بلکہ مضحکہ خیز طور پر اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی فلم کے تنقیدی جائزے کے لیے رجوع کرلیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کے فیصلہ فلم کے خلاف ہی آئے۔
یاد رہے کہ اس فلم کا موضوع پاکستان میں مذہبی انتہا پسندوں کو ایکسپوز کرنا ہے اور اسکا مرکزی کردار ایک مولوی ہے۔ فلمساز سرمد کھوسٹ کا کہنا ہے کہ حکومت کا فلم کو نمائش کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ یہ فلم تو پاکستان کے قومی مفادات کو آگے بڑھاتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ انکی فلم بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا لبرل امیج بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی اور فلم کی نمائش پر پابندی عائد کرنا انتہا پسند قوتوں کے آگے سر نڈر کرنے کے مترادف ہے ۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک نے 22 جنوری کو پاکستان میں فلم کی نمائش روکنے کے لیے مظاہروں کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت نے سرنڈر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے فلم کی نمائش پر پابندی عائد کرتے ہوئے اسے دوبارہ فلم سنسربورڈ اور اسلامی نظریاتی کونسل کو بھئجنے کا فیصلہ کیا تاکہ فلم کے مستقبل کا فیصلہ کیا جا سکے۔
اس حوالے سے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک ٹوئٹ کےذریعےآگاہ کیا کہ مرکزی فلم سنسر بورڈ نے فلم “زندگی تماشہ” کا تنقیدی جائزہ لینے کےلئے فوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پروڈیوسر کو فلم کی ریلیز مؤخر کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نےٹوئٹ میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ فلم سنسر بورڈ اور اسلامی نظریاتی کونسل کب تک ’زندگی تماشا‘ کا تنقیدی جائرہ لیں گے۔ تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ فی الحال سرمد کھوسٹ کی فلم کو ریلیز نہ کرنے کی ہدایات جاری کردی گئیں ہیں۔
خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف سخت شرائط پوری کرنے کےلیے حکومت نے حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر سمیت دیگر کالعدم تنظیموں اور ان کے عہدے داران کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا لیکن فلم ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز کے معاملے پر تحریک لبیک کے ممکنہ احتجاج نے ایف اے ٹی ایف کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کو ہی ’تماشا‘ بنادیا ہے۔ اس سب تماشا گیری میں سماجی حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ ایک طرف ریاست انتہا پسند جتھوں کو کنٹرول کرنے کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف ان ہی جتھوں کے ہاتھوں بلیک میل کیوں ہوجاتی ہے؟
خیال رہے کہ تحریک لبیک پاکستان نے ’زندگی تماشا‘ کی ریلیز سے ایک دن قبل 22 جنوری کو ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ ٹی ایل پی نے ’زندگی تماشا‘ فلم کے خلاف مظاہروں میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کےلیے پمفلٹ بھی تقسیم کیے تھے۔ تاہم اب تحریک لبیک پاکستان نے فلم کی ریلیز روکے جانے کے بعد فلم کے خلاف مظاہروں کی کال واپس لے لی ہے۔
تحریک لبیک کے سربراہ ڈاکٹر آصف اشرف جلالی نے سرمد کھوسٹ کی فلم ’’زندگی تماشا‘‘ کے بارے میں شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلم ’’زندگی تماشا‘‘ لوگوں کو دین اور اہل دین سے متنفر کرنے کی مغربی پلاننگ کا حصہ ہے۔ اس میں بڑی تکنیک سے شعائر اسلام اور مقدساتِ دین پر حملہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف سرمد کھوسٹ نے اپنی فلم کے خلاف تماشے کرنے کا منصوبہ بنانے والے افراد اور تحریک لبیک کے خلاف سول کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ تحریک لبیک نے ان کی فلم زندگی تماشا کو روکنے کے کال دی رکھی ہے جبکہ انہیں فلم ریلیز کرنے کے حوالے سے دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ سرمد کھوسٹ نے موقف اپنایا ہے کہ زندگی تماشا کسی انفرادی گروہ یا شخص سمیت کسی بھی اجتماعی گروہ یا فرقے کے خلاف نہیں بنائی گئی بلکہ اس کو صرف تفریح اور سماج کے اچھے پہلو اجاگر کرنے کےلیے بنایا گیا ہے اور اس سے لوگوں کے ذہنی تناؤ میں کمی آئے گی۔
تاہم اس وقت تو حکومت نے تحریک لبیک کی قیادت کے آگے سر خم کرتے ہوئے سرمد کھوسٹ کی فلم کی نمائش پر پابندی عائد کردی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت وقت بھی اسٹیبلشمنٹ کی طرح تحریک لبیک کے سامنے سرنگوں رہے گی یا پاکستانی معاشرے کو انتہاپسندوں سے پاک کرنے کا ایجنڈا آگے بڑھائے گی۔