27ویں آئینی ترمیم: پیپلز پارٹی کا صدر کو تاعمر استثنیٰ اور نیب کے خاتمے کا مطالبہ

27ویں آئینی ترمیم پر مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حالیہ مذاکرات کے دوران، پیپلز پارٹی نے صدرِ مملکت کے لیے تاعمر استثنیٰ اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے خاتمے کا مطالبہ پیش کر دیا۔

آئین کی شق 248 کے مطابق، صدر کو اپنے عہدے کی مدت کے دوران کسی بھی فوجداری کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ اس شق میں درج ہے کہ "کسی بھی عدالت میں صدر یا گورنر کے خلاف ان کے عہدے کے دوران کوئی فوجداری کارروائی شروع یا جاری نہیں کی جا سکتی، خواہ اس کی نوعیت کچھ بھی ہو”۔ تاہم، پیپلز پارٹی نے اس استثنیٰ کو صدارتی مدت کے بعد بھی تاعمر برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے۔

اگر پارلیمنٹ اس ترمیم کی منظوری دے دیتی ہے تو صدر کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجداری کارروائی — نئی یا پرانی — ان کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی ممکن نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی، پیپلز پارٹی نے نیب کے خاتمے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے، جو 2006 کے میثاقِ جمہوریت کا حصہ ہے، جس پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں نے دستخط کیے تھے۔

ذرائع کے مطابق، ترمیمی تجاویز میں وزیرِ اعظم کو بھی فوجداری مقدمات سے استثنیٰ دینے کی شق شامل کی گئی ہے۔ میثاقِ جمہوریت میں یہ تجویز بھی شامل تھی کہ نیب کو ختم کر کے ایک خودمختار اور شفاف احتساب کمیشن قائم کیا جائے جو پارلیمانی نگرانی میں کام کرے۔

ترمیم کا حتمی مسودہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب  جو 27ویں آئینی ترمیم پر مذاکرات کرنے والی پارٹی ٹیم کا حصہ ہیں گفتگو میں کہا کہ پارٹی نے صدر، گورنر، وزیرِ اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزیروں کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت حاصل اصل تحفظات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے، جنہیں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ختم کیا تھا۔

ان کے مطابق، پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ میثاقِ جمہوریت کے غیر نافذ شدہ نکات، خصوصاً نیب کے خاتمے سے متعلق شق، آئینی ترمیم میں شامل کی جائے۔

مرتضیٰ وہاب نے وضاحت کی کہ جن نکات پر حکومتی جماعتوں کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے، وہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں شامل کر لیے گئے ہیں، جبکہ نیب کے خاتمے جیسی تجاویز ابھی زیرِ غور ہیں لیکن انہیں مسترد نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بھی اس مؤقف سے متفق ہے کہ نیب کو آخرکار ختم کر دیا جانا چاہیے، جیسا کہ دونوں جماعتوں نے میثاقِ جمہوریت میں وعدہ کیا تھا۔

Back to top button