27 ویں آئینی ترمیم نے فوج کے سٹرکچر کو کیسے تبدیل کیا؟

27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 243 میں کی جانے والی تبدیلیوں نے فوجی سٹرکچر کو تبدیل کرتے ہوئے ملٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول کے حوالے سے طاقت کا مرکز بھی تبدیل کر دیا ہے۔ آرمی، نیوی اور ایئر فورس ایکٹس میں کی گئی ترامیم نے نئے نظام میں بری فوج کے سربراہ یعنی آرمی چیف کو تمام تر اختیارات کا مرکز بنا دیا ہے۔
ملٹری کی ری سٹرکچرنگ کے نتیجے میں آرمی چیف یعنی فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو چیف آف دی ڈیفنس فورسز کا اضافی عہدہ بھی مل گیا ہے۔ یوں ملک کی تینوں افواج یعنی بری، بحری اور فضائی کے درمیان تعاون، مشترکہ منصوبہ بندی اور کمانڈ کے حوالے سے فیصلہ کن اختیار اب ایک ہی شخص کے پاس ہو گا اور وہ ہیں جنرل عاصم منیر۔ اس تبدیلی سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی 27 نومبر سے ختم ہو جائے گا، یہ عہدہ 1971 کی جنگ کے بعد تینوں فورسز کی ہم آہنگی کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کے خاتمے کے بعد فیصلہ سازی میں مشترکہ نمائندگی کا روایتی ڈھانچہ عملاً ختم ہو جائے گا۔
حکومت اور عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں رفتار، ٹیکنالوجی اور ملٹی ڈومین آپریشنز نے پرانے ڈھانچوں کو غیر مؤثر کر کے رکھ دیا تھا۔ سائبر جنگ، خلا میں مقابلہ، ڈرونز اور معلوماتی جدوجہد ایسے محاذ ہیں جو روایتی فورسز کی حدود کو نہیں مانتے، اسی لیے ایک نئے مربوط نظام کی ضرورت تھی۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ 27ویں ترمیم کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلیاں سے “اختیارات ایک شخص میں مرکوز ہونے کی بجائے مزید واضح ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے جس عہدے کو برسوں سے محض رسمی قرار دیا جا رہا تھا اسے ختم کر کے ایک مضبوط سٹریٹجک ڈھانچہ بنایا گیا ہے۔
تاہم سابق فوجی افسران اور قانونی حلقوں نے ترامیم کے نتیجے میں بنائے گئے ماڈل پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کے مطابق دنیا میں مشترکہ عسکری کمانڈ سسٹم کا مقصد اختیارات کو متوازن بنانا ہوتا ہے، نہ کہ سب کچھ ایک شخص کی کمانڈ میں لانا۔ سابق ائیر چیف مارشل عباس خٹک نے خبردار کیا کہ فضائیہ اور بحریہ جیسے جدید ترین ہتھیاروں پر انحصار کرنے والے ادارے آرمی چیف کے ماتحت ہو کر موئثر انداز میں اپنے فرائض سرانجام نہیں دے سکیں گے۔ انکے مطابق دنیا بھر میں عشروں کی تحقیق اور تجربات کے بعد تینوں افواج کو برابر اور آزاد حیثیت دی گئی ہے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان اس کامیاب عالمی ماڈل سے پیچھے کیوں ہٹ رہا ہے؟
یاد رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ہونے والی نئی قانون سازی سے نیوکلیئر فورسز کی نگرانی کے لیے بنائے گئے ادارے کے سربراہ کی تقرری بھی چیف آف ڈیفنس سٹاف کی سفارش پر ہو گی اور یہ فیصلہ عدالت میں چیلنج بھی نہیں ہو سکے گا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ شق آئینی اصولوں سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ نیوی اور ائیر فورس کے سربراہوں کی تقرری براہِ راست چیف آف دی ڈیفنس سٹاف سے مشروط نہیں کی گئی، لیکن ناقدین کا ماننا ہے کہ فور سٹار لیول کے تمام فیصلوں میں چیف آف ڈیفنس سٹاف کی رائے بالواسطہ طور پر مرکزی حیثیت اختیار کر جائے گی۔ نئے نظام کے تحت آرمی چیف کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ اپنے اختیار کس شخص کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رہے کہ پہلے یہ اختیار وفاقی حکومت کے پاس تھا۔
اس کے علاوہ فیلڈ مارشل کے عہدے کے حوالے سے آئین کی بالادستی برقرار رکھنے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ملٹری ریفارمز کرتے وقت کوشش کی جانی چاہیے تھی کہ کوئی ایک فورس دوسری فورس پر غالب نہ آئے۔ مگر موجودہ نظام میں سب کچھ آرمی چیف کے عہدے میں مرتکز ہونے سے یہ ڈھانچہ شخصیات کے اثر میں آنے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ خاص طور پر تب جب موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت سال 2030 یا اس سے بھی آگے بڑھ جانے کا امکان موجود ہے۔
خدا بن جانے والے سازشی ججز نے کل جو بویا تھا آج وہی کاٹا
نئے ملٹری ماڈل میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی فورسز فضائیہ اور بحریہ ہیں، جن کا کردار دنیا بھر میں بڑھ رہا ہے، خاص کر بڑھتے ہوئے بحری اور فضائی خطرات کے تناظر میں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو مشترکہ دفاعی کمانڈ کی اشد ضرورت ہے، مگر ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جہاں ادارے مضبوط ہوں، افراد نہیں۔
دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان کو ایک فعال اور بااختیار وزارتِ دفاع، مربوط منصوبہ بندی اور ایسی شفاف عسکری نگرانی کی ضرورت ہے جو قومی سلامتی کے فیصلوں کو بہتر بنائے، نہ کہ ایک شخص کو اختیارات کا مرکز بنا دے۔ شاید سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ “ادارے افراد سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، لہذا انہیں افراد پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔
