سال 2024 میں 445 دہشت گرد حملے: 685 فوجیوں کی شہادت

سال 2024 پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے لیے دہائی کا بد ترین سال ثابت ہوا جس کے دوران 445 دہشت گرد حملوں میں 685 فوجی شہید ہو گئے۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی سالانہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے 12 مہینوں میں کُل جانی نقصان 2526 رہا، جس میں شہری اور سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔ یاد رہے کہ سال 2023 کے مقابلے میں سال 2024 کے دوران دہشت گرد حملوں میں مارے جانے والوں کی تعداد 66 فیصد زیادہ رہی۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی رپورٹ ک مطابق۔پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کا ہونے والا مجموعی جانی نقصان، دہشت گردوں کے کے مجموعی جانی نقصان سے 73 فیصد زیادہ تھا۔ سال 2024 میں سیکورٹی فورسز نے 934 دہشت گردوں کو جہنم رسید کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2024 میں اوسطاً روزانہ سات افراد حملوں میں مارے گئے، جبکہ نومبر کا مہینہ سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوا۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان خیبر پختونخوا میں ہوا جہاں 1600 سے زیادہ افراد مارے گئے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ جانی نقصان بلوچستان میں ہوا جہاں 782 افراد جان سے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں مجموعی طور پر پرتشدد کارروائیوں میں 2546 اموات ہوئیں اور 2267 افراد زخمی ہوئے۔ یہ 1166 شدت پسند حملوں اور جوابی کارروائیوں کا نتیجہ تھا۔
چنانچہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سال 2024 پاکستان کے سکیورٹی منظرنامے کے لیے ایک سنگین سال تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق شدت پسندوں کے حملے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ رہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں 909 شدت پسند حملے کیے گئے، جب کہ قانون شکن عناصر کے خلاف صرف 257 سکیورٹی آپریشنز کیے گئے۔ یاد رہے کہ سال 2015 سے سال 2020 تک مسلسل چھ سالوں تک دہشت گرد حملوں اور ان سے ہونے والے نقصانات میں کمی دیکھی گئی تھی۔ تاہم، 2021 سے ان حملوں اور نقصانات میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہوا، جو ہر گزرتے سال بڑھتا رہا اور 2024 کو پوری دہائی کا خونی ترین سال بنا گیا۔ دہشت گردی کا بڑھتا ہوا یہ رجحان ملک کے سکیورٹی چیلنجز میں دوبارہ شدت آنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
خیال رہے کہ 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے خونی حملے میں 200 سے زائد طالب علموں کے مارے جانے کے بعد پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کے خلاف ایک منظم آپریشن شروع کیا تھا جس نے میں ملک بھر میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی تھی۔
تاریخی اعداد و شمار کے مطابق، 2015 سے 2020 کے دوران فرقہ وارانہ تشدد نے 467 جانیں لیں۔ تاہم، 2021 سے 2024 کے درمیان یہ تعداد بڑھ کر 487 ہو گئی۔ یہ بھی تشدد میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
سال 2024 میں پاکستانی عوام کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ کونسا ہوا ؟
حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھس کہ دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان تک جاتے ہیں۔ پاکستان کی سرحدوں پر موجود خطرات کے حوالے سے انہوں نے کہا تھس کہ ’پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے کوششیں کیں، پاکستان کی تمام تر کوشش کے باوجود افغان سرزمین سے دہشت گرد پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔‘ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سالوں میں سب سے زیادہ دہشت گرد رواں برس مارے گئے، جن کی تعداد 925 ہے جبکہ سینکڑوں گرفتار ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ اس سال سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عسکریت پسندوں کے خلاف 59 ہزار 755 آپریشنز کیے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں سے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنائے، ان کارروائیوں میں 383 سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جان کی بازی ہار دی۔
انہوں نے مذید بتایا کہ ’59 ہزار سے زائد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر فوجی آپریشنز کیے گئے اور دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کی حتی الامکان کوشش کی جو ابھی جاری ہے۔
