سال 2024 میں پاکستانی عوام کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ کونسا ہوا ؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ سال 2024 میں گمراہی کا شکار پاکستانیوں کو جو سب سے بڑا دھوکہ دیا گیا وہ انہیں یہ یقین دلانا تھا کہ اس سال کے اختتام سے پہلے عمران خان رہا ہو جائیں گے۔ جتنا ذیادہ جھوٹ اس موضوع پر بولا گیا اس کی مثال شاید پہلے کبھی نہیں ملتی۔ معصوم یوتھیوں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ بھی کہانیاں بنائی گئیں کہ حکومت عمران خان کے قدموں میں گر پڑی ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ گڑگڑا کر خان سے معافی کی طلب گار ہے۔ ایوان اقتدار خان کا منتظر ہے۔ یوتھیے یو ٹیوبرز نے تو رہائی کا دن، تاریخ اور وقت تک اپنے وی لاگز میں بتا دیے لیکن خان نے نہ تو رہا ہونا تھا اور نہ ہی ہو پایا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے معصوم سپورٹرز کو یو ٹیوبرز نے اپنے ڈالروں کی خاطر مسلسل دھوکے میں رکھا۔ ہر وی لاگر نے جانتے بوجھتے انصافیوں کو یہ نوید سنائی کہ خان باہر آ رہا ہے۔ ٹرمپ جیت گیا ہے اب کوئی خان کو جیل میں نہیں رکھ سکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ سال 2024 ختم ہو گیا ہے۔ نئے سال کا سورج طلوع ہو چکا ہے اور عمران خان جیل میں ہی ہیں۔ بس اتنا سمجھ لیجیے کہ  اگر انہوں نے اپنی طرز سیاست کو نہ بدلا تو اگلے کے اختتام پر بھی وہ جیل میں ہی ہوں گے۔

عمار مسعود کہتے ہیں کہ گزشتہ برس کو یاد کرنے کا ہر کسی کا اپنا طریقہ ہے۔ کوئی سال کے اہم کارنامے گنوا رہا ہے۔ کوئی اہم فیصلوں پر توجہ مبذول کروا رہا ہے۔ کسی نے گزشتہ برس کی اہم عالمی تبدیلیوں کی فہرست بنائی۔ اور کوئی گزشتہ برس میں ہونے والی معاشی تبدیلیوں کی نشاندہی کروا رہا ہے۔ میں نے بھی ایک فہرست بنائی ہے لیکن یہ نہ گزشتہ برس کے اہم کارناموں کی ہے نہ ہی اس فہرست میں اہم فیصلوں کا ذکر ہے۔ یہ فہرست ان پانچ بڑے دھوکوں اور فریبوں کی ہے جو اس ملک کی اشرافیہ اور میڈیا نے گزشتہ برس اس ملک کے معصوم عوام کو دیے۔

پاکستان کے عوام کو سب سے بڑا دھوکہ الیکشن کے موقع پر دیا گیا، جب موجودہ حکمران جماعت نے اپنی انتخابی مہم میں یہ نعرہ لگایا ’نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم‘۔ یہ نعرے نہ صرف جلسوں میں لگائے گئے بلکہ ووٹنگ سے ایک دن پہلے پورے ملک کے اخبارات میں اس کی تشہیر بھی کروائی گئی۔ آج نئے سال میں داخل ہوتے ہوئے ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ووٹروں کو شاید اس سے زیادہ بڑا دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔ نواز شریف نے چوتھی بار وزیر اعظم نہیں بننا تھا، اس بات کا اظہار بعد میں بہت سے لیگی لیڈران کرام نے کیا لیکن انتخابات میں یہی فریب دیا گیا۔ اس کے بعد نواز شریف پارٹی، سیاست اور حکومت سے بیزار نظر آئے اور ہر وہ شخص جس کو نواز شریف سے قربت تھی اس کو دھیرے دھیرے سسٹم سے الگ کر دیا گیا۔  المیہ یہ ہے کہ اس دھوکے میں ملوث جماعت پر آج کل حکمرانی کی تہمت لگائی جا رہی ہے۔

عمار مسعود کے مطابق اس ملک کے معصوم عوام کو دوسرا بڑا دھوکہ یہ دیا گیا کہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  ایکسٹنشن لے رہے ہیں۔ یہ غلغلہ چند صحافیوں اور یو ٹیوبرز کے گینگ کی جانب سے شروع ہوا اور پھر یہ پروپیگنڈا اتنا پھیلا کہ قاضی فائز عیسیٰ کے ہر فیصلے کو ایکسٹنشن کی دوربین سے دیکھا جانے لگا۔ قاضی فائز عیسیٰ جیسے فائق اور اصول پرست آدمی نے نہ ایکسٹنشن لینا تھی نہ ان کا ارادہ تھا۔ لیکن پاکستان کے چند صحافیوں نے اس بات پر پاکستان کے عوام کو خوب دھوکہ دے کر بے انتہا ڈالر کمائے۔ المیہ یہ ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ ریٹائر ہو کر اس سے بڑے بین الاقوامی منصب پر جا چکے ہیں۔ جبکہ ان سے متعلق فریب دینے والے صحافی اور یو ٹیوبرز اب بھی ناسور کی طرح اس معاشرے کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی کا موقع کیسے گنوا دیا؟

عمار کا کہنا ہے کہ اس ملک کے معصوم عوام کو ملنے والا تیسرا بڑا  دھوکہ بین الاقوامی نوعیت کا ہے۔ یہ دھوکہ کئی برسوں سے بلکہ دہائیوں سے چل رہا ہے۔ اس فریب میں مزید رنگ عمران خان اور ان کے دور کی اسٹیبلشمنٹ نے بھرا۔ لوگوں کو باور کروایا گیا کہ افغان طالبان ہمارے بھائی ہیں، اور ہم ان سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، مکالمے سے ان مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ جنرل فیض حمید اور عمران خان نے چالیس ہزار طالبان جنگجوؤں کو امن کی خاطر ملک میں واپس لا بسایا لیکن یہ سب سے بڑا دھوکہ ثابت ہوا۔ افغان طالبان سے بڑا احسان فراموش اور حرام خور کوئی ثابت نہیں ہوا۔ ہم نے اپنے دروازے انکے لیے ضیاالحق کے دور میں کھولے۔ ہم نے انہیں اپنے شہروں میں بسایا۔ انہیں پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دیے لیکن انہوں نے پاکستان کے خلاف نفرت کا بازار گرم کیا۔ دہشت گردی کی کاروائیاں کیں۔ سرحد پار سے دراندازی کی کوشش کی۔ اس سال یہ واضح ہو گیا کہ  یہ دوست نہیں، پاکستان کے دشمن ہیں اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ  اب مزید کوئی شخص اس فریب میں ہے تو وہ اس ریاست سے مخلص نہیں ہے۔

عمار مسعود کے مطابق چوتھا بڑا دھوکہ یو ٹیوبرز، صحافیوں اور لابنگ فرم والوں نے اس ملک کے عوام کو دیا، وہ یہ تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو ان عالمی طاقتوں کے سامنے جھکنا پڑے گا، نو مئی کے مجرمان کو معاف کرنا پڑے گا۔ اس مقصد کے لیے یورپی یونین سے خط لکھوائے گئے، برطانیہ سے کمک حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ امریکا سے کانگریس مینوں کے رقعے ارسال ہوئے۔ ہر موقعے پر یوٹیوبرز اور تحریک انصاف کے صحافیوں نے اسے نادیدہ  انقلاب کی نشانی قرار دیا۔ بتایا گیا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ امریکا سے آئے رقعوں سے تھر تھر کانپنے لگے گی۔ برطانیہ اور یورپی یونین کی دھمکیوں سے مرعوب ہو کر گھٹنے ٹیکنے والی ہے۔ اس سب کچھ کا نتیجہ عمران خان کی رہائی کی صورت میں نکلے گا۔ جلد ہی خان کے سر پر پھر ہما بیٹھے گا۔ وہ تخت اقتدار پر براجمان ہوں گے۔ اور پھر راج کرے گی خلق خدا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔

عمار مسعود یاد دلاتے ہیں کہ نشانہ 9 مئی 2023 کے مجرموں کو ملٹری کورٹس سے سزائیں ہوئیں۔ پہلی کھیپ میں پچیس مجرم پکڑے گئے۔ بین الاقوامی طور پر لابسٹ حرکت میں آئے لیکن کسی نے ان کی رتی بھر پرواہ نہیں کی۔ اس کے بعد ساٹھ اور لوگ بھی سزا وار قرار پائے۔ فوج کے ادارے نے پورا انصاف کرتے ہوئے اپنے لوگوں کی بھی پرواہ نہیں کی۔ اس سے بین الااقومی دباؤ والے دھوکے کا دردناک انجام ہوا۔ لیکن سب بڑا دھوکہ یو ٹیوبرز  اور تحریک انصاف کے صحافیوں نے جو عوام کو دیا، وہ یہ تھا کہ اس سال کے اختتام سے پہلے پہلے عمران خان رہا ہو جائیں گے۔ اب اگلے سال کا سورج طلوع ہو چکا ہے اور عمران خان جیل میں ہی ہیں۔ لہٰذا بس اتنا سمجھ لیجیے کہ  اگر انہوں نے اپنی طرز سیاست کو نہ بدلا تو اگلے کے اختتام پر بھی وہ جیل میں ہی ہوں گے۔

Back to top button