امریکا-ایران جنگ بندی کی مدت اختتام کے قریب، مذاکرات پر غیر یقینی برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی 14 روزہ جنگ بندی کی مدت اختتام کے قریب ہے، تاہم مذاکرات تاحال غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔
امریکا نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات پاکستان میں آگے بڑھ سکتے ہیں، جب کہ ایران کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق تہران ان مذاکرات میں شرکت پر غور کررہا ہے، کیونکہ اہم رکاوٹیں اور غیریقینی عوامل اب بھی موجود ہیں۔
دو ہفتوں پر مشتمل عارضی جنگ بندی ختم ہونے والی ہے اگرچہ ایران پہلے ہی اسلام آباد میں اس ہفتے متوقع مذاکرات کے دوسرے دور کو مسترد کرچکا ہے، تاہم پاکستان میں موجود ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ بدھ کو مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا امکان ہے۔ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ ’امور آگے بڑھ رہے ہیں اور مذاکرات کل کےلیے شیڈول کے مطابق ہیں۔‘مزید بتایا اگر کسی معاہدے پر دستخط ہوئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی موقع پر موجود ہوسکتے ہیں یا ورچوئل طور پر شرکت کرسکتے ہیں۔
ایک امریکی ویب سائٹ نے تین امریکی ذرائع کا حوالہ دیتےہوئے بتایا تھاکہ نائب صدر جے ڈی وینس کے منگل صبح پاکستان کےلیے روانہ ہونے کی توقع ہے۔
ایک ایرانی عہدیدار کے مطابق کہ تہران ان مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے مثبت طور پر غور کررہا ہے تاہم انہوں نے واضح کیاکہ اب بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیاگیا۔
