کیا اسلام آباد ایک بار پھر ایران امریکہ جنگ ٹال پائے گا؟

 

 

 

امریکہ کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز پر قبضے کے بعد جہاں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی رہی سہی امیدیں بھی دھندلا گئی ہیں وہیں ایک بار پھر خطے میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں، حالات تیزی سے کشیدگی اور ممکنہ تصادم کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عارضی جنگ بندی کے اختتام کا وقت قریب آتے ہی ہر گزرتا لمحہ خدشات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ اب سب کی نظریں پاکستان کی ممکنہ ثالثی پر مرکوز ہیں کہ آیا امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں کامیاب ہونگی یا دنیا ایک نئے اور سنگین بحران کی زد میں آ جائے گی۔

خیال رہے کی پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات خوش اسلوبی سے آگے بڑھ رہے تھے کہ 19اپریل کو امریکی میرینز نے خلیجی پانیوں میں ایرانی جہاز پر قبضی کر لیا جس کے بعد جہاں ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی وہیں امریکہ نے ناکہ بندی مزید سخت کرتے ہوئے ایران کو 22اپریل کی عارضی جنگ بندی کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد بھاری بمباری سے نشانہ بنا کر تباہ و برباد کرنے کی دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ حالیہ کشیدگی کا نقطۂ عروج اس وقت سامنے آیا جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں امریکی میرینز کو خلیجی پانیوں میں ایرانی کارگو جہاز "توسکا” پر اترتے دیکھا گیا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس سپرانس نے جہاز کے انجن کو ناکارہ بنا دیا۔ امریکی مؤقف کے مطابق جہاز کو چھ گھنٹے تک وارننگ دی گئی، مگر اسے نظر انداز کیا گیا، جس کے بعد یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا۔اس کے بعد امریکی میرینز نے جہاز پر قبضہ کر لیا۔

 

دوسری جانب ایران نے اس اقدام کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے "مسلح قزاقی” قراردےدیا اور واضح کیا ہے کہ امریکہ کو اس شرپسندی کا ضرورجواب دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ جہاز چین سے آ رہا تھا اور اسے روکنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے عالمی توانائی منڈی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی تیل کی برآمدات پر دباؤ برقرار رہا تو اس کے اثرات پوری دنیا کو بھگتنا ہوں گے۔

ایران اور امریکہ کے مابین جنگ دوبارہ شروع ہونے کا امکان

مبصرین کے مطابق یہ تمام صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد میں ممکنہ مذاکراتی دور کی تیاریاں جاری تھیں۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف کشیدگی کو ہوا دیتی ہیں بلکہ سفارتی عمل کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے ایرانی کارگو جہاز پر قبضے کے بعد آبنائے ہرمز جیسا حساس علاقہ اب ایک نئی سٹریٹیجک رکاوٹ بن چکا ہے، جہاں کسی بھی چھوٹے واقعے کے بڑے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق ایران کے پاس اب جنگ یا مذاکرات کے دو ہی محدود راستے باقی ہیں۔ بظاہر ایران مذاکرات کا خواہاں ضرور ہے، مگر اپنی شرائط پر، دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے سخت لب و لہجے میں دیا گیا بیان بھی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا رہا ہے۔ ان کا جملہ “NO MORE MR. NICE GUY” اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکہ اب سفارت کاری کے ساتھ ساتھ سخت اقدامات سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی قیادت نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کسی بھی وقت نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق صرف 48 گھنٹے پہلے تک یہ امید کی جا رہی تھی کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کرے گی، مگر خلیج عمان میں پیش آنے والی حالیہ کارروائی، فائرنگ کے واقعات، نیول بلاک ایڈ اور ایرانی کارگو جہاز پر امریکی قبضے نے مشرق وسطیٰ میں قائم امن کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات سے ممکنہ پسپائی اور امریکہ کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا رہی ہیں۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا امریکہ اور ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے یا خطہ ایک وسیع اور تباہ کن تصادم کی طرف بڑھ جائے گا۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر دونوں ممالک میں فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو جنگ بندی کا خاتمہ تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال دنیا کی نظریں ایک بار پھر اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہونا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارت کاری غالب آئے گی یا جنگ ایک نئی حقیقت بن کر سامنے آئے گی۔

 

Back to top button