بڑھتے ہوئے اندرونی اختلافات PTI کی کشتی کیسے ڈبو رہے ہیں؟

عمران خان کے جیل جانے کے بعد سے تحریک انصاف مسلسل شدید اندرونی خلفشار کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ واقعات نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا چیلنج اسوقت بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے اور جب تک قیادت اپنے اندرونی اختلافات پر قابو نہیں پائے گی، وہ بطور ایک موثر اپوزیشن جماعت کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق عمران خان کے جیل جانے کے بعد سے تحریک انصاف کی تنظیمی ساخت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا اختیار منتخب قیادت کے بجائے عمران کی بہنوں کے ہاتھ میں جاتا دکھائی دے رہا ہے، جس کے باعث پے در پے غلط فیصلے سامنے آ رہے ہیں۔
پارٹی کے اندر یہ تاثر بھی زور پکڑ رہا ہے کہ عمران کی بہنوں کا بڑھتا ہوا کردار پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کو کمزور کر رہا ہے۔ کئی رہنما اس بات پر نالاں ہیں کہ تمام اہم فیصلے مشاورت کے بغیر کیے جا رہے ہیں، جس سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
عمران خان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست بھی اب ماضی کا قصہ بنتی جا رہی ہے۔ کبھی ملک گیر مظاہروں کی صلاحیت رکھنے والی جماعت آج سڑکوں پر عوامی طاقت دکھانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ پچھلے دو ڈھائی برس کے دوران پارٹی قیادت کی جانب سے متعدد احتجاجی کالز دی گئیں، مگر وہ کوئی خاطر خواہ عوامی ردعمل حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔
پارٹی میں تازہ تنازعہ 9 اپریل کو اسلام آباد میں اعلان کردہ احتجاج ملتوی کرنے پر کھڑا ہوا۔ یاد رہے کہ امریکی اور ایرانی وفود کی اسلام آباد آمد کے تناظر میں پارٹی قیادت نے یہ احتجاج ملتوی کر دیا تھا۔ اس فیصلے پر علیمہ سیخ پا ہو گئیں اور انہوں نے پارٹی قیادت پر سنگین الزامات عائد کر دیے۔ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ پارٹی قیادت شہباز حکومتی سہولت کار بن چکی ہے اور وہ عمران خان کی رہائی نہیں چاہتی، اسی لئے وہ اس کوئی جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے سے انکاری ہے۔ علیمہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں تحریک انصاف کے ہزاروں عہدیداران ہونے کے باوجود جیل کے باہر صرف چند افراد اکٹھے ہوتے ہیں جو پارٹی قیادت کی کمزوری ظاہر کرتی ہے، انکا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی رہنما عوام کو عمران کیلئے سڑکوں پر نہیں نکال سکتے ان کو پارٹی عہدوں سے فارغ کر دینا چاہیے۔
علیمہ خان کے الزامات پر پارٹی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ پھٹ پڑے۔ انھوں نے نہ صرف علیمہ کے الزامات کو مسترد کیا بلکہ پارٹی عہدہ چھوڑنے کا بھی اعلان کر دیا۔ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے سہولت کاری کا الزام بے بنیاد ہے۔ 9 اپریل کو اسلام آباد جلسے کی منسوخی ایک اجتماعی فیصلہ تھا، جس کی تائید خود عمران خان نے بھی کی تھی۔ اگران کی پارٹی سے وفاداری پر کسی کو شک ہے تو وہ پارٹی عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ہیں۔ یاد رہے جب علیمہ کے خلاف بیرون ملک موجود بے نامی جائیدادوں کا کیس سامنے آیا تو سلمان اکرم راجہ ہی ان کے وکیل بنے تھے۔ تب سے سلمان راجہ علیمہ کے بہت قریب ہو گئے تھے اور خود علیمہ کہہ چکی ہیں کہ سلمان راجہ نہ صرف ان کے وکیل ہیں، بلکہ وہ ان کی فیملی کی طرح ہیں۔ لیکن اب یہ سانجھے کی ہانڈی بیچ چورا ہے پر پھوٹ گئی ہے۔
اگرچہ اسوقت پی ٹی آئی کئی دھڑوں میں تقسیم ہے، تاہم پارٹی میں دو گروپ سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک علیمہ گروپ اور دوسرا عمران کی اہلیہ بشری بی بی کا گروپ ہے۔ بشری کے جیل جانے کے بعد سے ان کا گروپ قدرے کمزور ہوا ہے۔ جبکہ اس دوران علیمہ خان کا گروپ انتہائی طاقتور ہو چکا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ علیمہ کو پارٹی کے انتشار پسند سوشل میڈیا نیٹ ورک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ عمران اور بشریٰ کے جیل میں ہونے کے باعث عملی طور پر علیمہ گروپ پارٹی پر قابض ہو چکا ہے۔ تاہم اسلام آباد جلسہ منسوخ کرنے کا فیصلہ علیمہ خان کی مرضی کے خلاف کیا گیا جس پر وہ سیخ پا ہیں۔
پارٹی کے اندر ایک اور بڑا تنازع اپوزیشن کی پارلیمانی قیادت تحریک انصاف کے رہنماؤں کو سونپنے کی بجائے دیگر پارٹیز کے رہنماؤں کو دینے پر چل رہا ہے۔ یاد رہے کہ عمران نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنی جماعت کے اراکین کے بجائے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈرز مقرر کیا تھا۔ یہ تقرریاں پارٹی کے اندر شدید بددلی کا باعث بنیں۔ تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ یہ دونوں شخصیات اپنی اپنی تانگہ پارٹیاں چلا رہی ہیں اور ان کی تقرری پارٹی کارکنوں کے مینڈیٹ کی نفی ہے۔ اس کے علاوہ ان اپوزیشن لیڈران پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عمران کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی بنانے یا حکومت پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے ہیں۔ نہ کوئی بڑی احتجاجی تحریک سامنے آئی اور نہ ہی پارلیمانی سطح پر کوئی مؤثر مزاحمت دیکھی گئی۔
اسی تناظر میں اب پارٹی کے اندر سے یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ محمود اچکزئی اور علامہ عباس ناصر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے اور ان کی جگہ پارٹی کے اپنے نمائندوں کو لایا جائے۔ دوسری جانب، پارٹی کی اعلیٰ قیادت عجیب مخمصے کا شکار ہے۔ اگر وہ مفاہمت کی راہ اپناتی ہے تو اسے اندرونی حلقوں کی جانب سے غداری قرار دیا جاتا ہے، اور اگر وہ سخت مؤقف اختیار کرتی ہے تو بیرونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال نے پی ٹی آئی میں فیصلہ سازی کے عمل کو مفلوج کر دیا ہے۔
ادھر عمران کی جانب سے بھی بعض مواقع پر پارٹی رہنماؤں پر تنقید، اور انہیں میر جعفر اور میر صادق جیسے القابات دینا، پارٹی اختلافات کو مزید گہرا کر چکا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کی عوامی تنقید پارٹی ڈسپلن کو کمزور کرتی ہے۔
تحریک انصاف واٹر لو سے بڑی شکست کا شکار کیسے ہو گئی؟
اگرچہ تحریک انصاف اب بھی عوامی حمایت رکھتی ہے لیکن اندرونی انتشار نے اسکی بطور مؤثر اپوزیشن جماعت کردار ادا کرنے کی صلاحیت محدود کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا چیلنج اس وقت بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے۔ جب تک پارٹی اپنے اندرونی تضادات کو حل نہیں کرتی، وہ قومی سیاست میں مؤثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں آ سکے گی۔
