القاعدہ کے سربراہ کمانڈر سیف العدل ایران میں کیا کر رہے ہیں؟

 

 

 

ایران کی جانب سے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کے بعد مغربی میڈیا نے تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے یہ پرانی کہانی اچھالنا شروع کر دی ہے کہ القاعدہ کے موجودہ سربراہ سیف العدل اس وقت ایران میں موجود ہیں۔ سیف العدل سال 2022 میں ڈاکٹر ایمن الظواہری کی افغانستان میں ایک ڈرون حملے میں موت کے بعد القاعدہ کے سربراہ بنے تھے۔

 

تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف شروع کردہ جنگ کے حوالے سے القاعدہ کی مرکزی قیادت بشمول سیف العدل مسلسل خاموش ہے اور اس نے امریکہ اور اسرائیل کی مذمت نہیں کی۔ القاعدہ کی جانب سے اپنائی گئی خاموشی غیر معمولی ہے، کیونکہ اسلامی دنیا میں کوئی بڑا واقعہ ہو تو پر القاعدہ رد عمل ضرور دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، غزہ کے تنازع پر القاعدہ کی جانب سے واضح بیانات دیے گے تھے۔ غزہ کے معاملے پر القاعدہ کے جاری کردہ بیانات کو حماس کی حمایت کے طور پر دیکھا گیا۔ حماس کے رہنماؤں کی اموات پر اظہار تعزیت کے بعد داعش کی طرف سے یہ الزامات لگائے گئے کہ القاعدہ کے پیغام ایران کے زیراثر جاری کیے گے۔

 

بی بی سی نے اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس سال القاعدہ کی مرکزی قیادت کی جانب سے صرف ایک بیان 4 فروری کو سامنے آیا تھا، وہ بھی اُس وقت جب امریکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا تھا۔ اس بیان میں امریکہ اور اسرائیل کے فوجی اڈوں پر حملوں کی اپیل کی گئی تھی، جسے دیگر شدت پسند تنظیموں نے ایران کی بالواسطہ حمایت کے طور پر دیکھا۔

 

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کمانڈر سیف العدل کے حوالے سے متضاد اطلاعات ہیں۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ وہ 10 برس پہلے اپنے خاندان کے ہمراہ ایران منتقل ہو گئے تھے۔ دوسری اطلاع یہ ہے کہ وہ پچھلے کئی برسوں سے ایرانی حراست میں ہیں اور اسی وجہ سے القاعدہ کا تنظیمی ڈھانچہ ٹوٹ چکا ہے۔ تاہم اہم سوال یہ ہے کہ القاعدہ کی نچلی قیادت نے بھی ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر ہونے والے حملے کی مذمت نہیں کی۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں القاعدہ کی خاموشی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہو سکتی ہے۔

 

بی بی سی کے مطابق القاعدہ اس وقت ایک نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ کے سربراہ بننے والے ڈاکٹر ایمن الظواہری چند برس قبل کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کی موت کے بعد کمانڈر سیف العدل القاعدہ کے امیر بنے تھے۔رپورٹ کے مطابق نائن الیون حملوں کے بعد القاعدہ کے کئی اہم رہنما اور ان کے اہل خانہ افغانستان اور پاکستان سے فرار ہو کر ایران چلے گئے تھے۔ امریکی ادارے ایف بی آئی کی ’انتہائی مطلوب دہشت گردوں‘ کی فہرست میں بھی یہی بتایا گیا تھا کہ سیف العدل ’ایران میں موجود‘ ہیں۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف القاعدہ کی قیادت ایران کو ناراض کرنے سے بچنا چاہتی ہے، اسی لیے وہ ان شدت پسند گروہوں کی صف میں کھل کر شامل نہیں ہو رہی جو مسلسل شیعہ اکثریتی آبادی والے ایران کی حمایت کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔ کئی شدت پسند گروہوں نے ہم آواز ہو کر سنی مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کی جنگ میں کسی فریق کا ساتھ نہ دیں، خاص طور پر ایران کے لیے ہمدردی ظاہر کرنے سے اجتناب کریں۔ یاد رہے کہ جون 2025 میں بھی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران القاعدہ اور اس سے منسلک جہادی تنظیمیں خاموش رہی تھیں، تاہم اس بار القاعدہ کی خاموشی زیادہ توجہ حاصل کر رہی ہے۔

 

دوسری طرف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ القاعدہ امریکہ یا اسرائیل کے خلاف بیانات دینے سے جان بوجھ کر گریز کی حکمت عملی اپنا رہی ہو، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں اسے ایران کی حمایت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس سے اس کے اپنے سنی حامیوں میں اس کا تاثر خراب ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ شدت پسند جہادی نظریے میں شیعہ اکثریتی آبادی رکھنے والے ایران کو سنی اسلام کا دشمن تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس القاعدہ کی حریف سمجھی جانے والی تنظیم دولت اسلامیہ یا داعش خاصی سرگرم رہی اور اس نے دونوں فریقوں پر سخت تنقید کی۔ داعش نے 4 فروری 2026 کو القاعدہ کی جانب سے امریکہ کے خلاف کی جانے والی ’جہاد‘ کی اپیل کو اس بات کے ’ثبوت‘ کے طور پر پیش کیا کہ القاعدہ بتدریج ایران کا مہرہ بنتی جا رہی ہے۔

 

یاد رہے کہ القاعدہ طویل عرصے سے اس بات پر بھی خاموش ہے کہ اس کی قیادت کس حال میں ہے، ایران سے متعلق تنازع پر خاموشی کا ایک تعلق اس سے بھی ہے۔ جولائی 2022 سے لے کر اب تک القاعدہ نے جو عوامی بیانات جاری کیے ہیں، ان میں کسی رہنما کا نام نہیں لیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تنظیم کے اُس وقت کے سربراہ ایمن الظواہری کو مارنے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ القاعدہ نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خاموشی اس لیے اختیار کر رکھی ہے تاکہ وہ اپنے اتحادی سمجھے جانے والے طالبان کو کسی مشکل صورتحال میں نہ ڈالے۔

ساتھ ہی وہ اس پیچیدہ سوال سے بھی بچنا چاہتی ہے کہ کیا اس کے نئے رہنما ایران میں رہ رہے ہیں، جسے اہل سنت جہادی حلقے ایک بڑا دشمن تصور کرتے ہیں۔ اسی طرح 2022 کے بعد سے داعش کی قیادت القاعدہ پر ایران کے زیراثر ہونے کا الزام عائد کرتی رہی ہے اور اس کے لیے سیف العدل کی ایران میں موجودگی کو دلیل کے طور پر پیش کرتی ہے۔

 

Back to top button