کیا نواز شریف دوبارہ عملی سیاست میں واپس آ رہے ہیں؟

تین مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف ایک مرتبہ پھر سیاسی طور پر متحرک ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، مگر اس بار ان کی سرگرمیوں کا مرکز روایتی پنجاب یا اسلام آباد نہیں بلکہ گلگت بلتستان ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سیاسی پیش قدمی میں ان کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف اور ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار بھی بھرپور انداز میں نظر آئے، چنانچہ سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا نواز شریف عملی سیاست میں ایک مرتبہ پھر واپسی کی تیاری کر رہے ہیں؟
اگلے روز اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں ہونے والی ایک اہم بیٹھک نے ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی، جہاں نواز شریف نے پارٹی کی سینیئر قیادت کے ہمراہ گلگت بلتستان انتخابات کے لیے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت دیگر مرکزی رہنما بھی موجود تھے، جنہوں نے نواز شریف کا استقبال کیا۔
اجلاس میں گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کے لیے حکمت عملی، امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی مہم کے خدوخال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ نواز شریف نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) اپنی کارکردگی کی بنیاد پر میدان میں اترے گی اور ہر حلقے میں مضبوط امیدوار کھڑے کیے جائیں گے۔
اپنے خطاب میں نواز شریف نے ماضی کی اپنی حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں گلگت بلتستان میں امن قائم ہوا اور بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پارٹی آئندہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ امیدواروں کے انتخاب کے لیے شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ہر حلقے کی صورتحال کا الگ الگ جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد حتمی فہرست نواز شریف کو پیش کی جائے گی۔ گلگت بلتستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شمس میر کے مطابق نواز شریف کی براہ راست دلچسپی پارٹی کارکنان کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں پارٹی وابستگی، کارکردگی اور وژن کو بنیادی اہمیت دی جائے گی، جبکہ فی الحال کسی سیاسی اتحاد پر غور نہیں کیا گیا۔
سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو محض ایک علاقائی سرگرمی نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق نواز شریف کا خود انتخابی عمل کی نگرانی کرنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ وہ پارٹی کو دوبارہ منظم اور مستحکم کرنے کے لیے سرگرم ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر 2024 کے انتخابات کے پس منظر میں اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ ان انتخابات سے قبل عمومی تاثر یہی تھا کہ اگر مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آئی تو نواز شریف خود وزیراعظم بنیں گے، تاہم ایسا نہ ہو سکا اور وزارت عظمیٰ انکے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے حصے میں آئی۔ اس فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا تھا، جو اب دوبارہ زیر بحث آ رہے ہیں۔
نواز شریف کے قریب خیال کیے جانے والے سینیئر صحافی اظہر جاوید کے مطابق نواز شریف نہ صرف سیاسی طور پر باخبر ہیں بلکہ آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھی سوچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اہم حکومتی اور سیاسی معاملات میں مسلسل نواز شریف سے مشاورت کرتے ہیں، جس سے ان کے اثر و رسوخ کا اندازہ ہوتا ہے۔دوسری جانب بعض تجزیہ کار اس سرگرمی کو محتاط انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ سینیئر سیاسی تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق گلگت بلتستان کے اجلاس میں شرکت کو مکمل سیاسی واپسی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے بقول نواز شریف اب بھی فرنٹ لائن سیاست سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔
احمد ولید کا کہنا ہے کہ عملی طور پر مسلم لیگ (ن) کی سیاست اس وقت شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے، جو اتحادی جماعتوں سے روابط اور حکومتی امور سنبھال رہے ہیں، جبکہ نواز شریف نسبتاً پس منظر میں رہ کر محدود مشاورت تک خود کو رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم، گلگت بلتستان کے آئیندہ الیکشن میں نواز شریف کی دلچسپی سے ظاہر ہوتا کہ وہ اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی لے کر میدان میں نکلے ہیں۔ آنے والے مہینے اس حوالے سے زیادہ واضح تصویر پیش کر سکتے ہیں۔
