افغان طالبان حکومت نے TTP کے خلاف ایکشن شروع کر دیا

افغانستان میں موجود دہشت گردی کے مراکز پر پاک فضائیہ کی مسلسل بمباری نے بالآخر افغان حکومت کو تحریک طالبان کے دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لینے پر مجبور کر دیا ہے، اور پاکستان میں دہشت گردی کر کے واپس جانے والے عناصر کی گرفتاری کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس کے دور رس اثرات متوقع ہیں۔
اسلام آباد میں باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کی ہدایت پر افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف باضابطہ کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ان ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو پاکستان میں واردات ڈال کر افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کے پاکستان جانے پر بھی سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے چین کی جانب سے دی گئی تجاویز پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ چین میں ایک ہفتہ طویل سہ فریقی مذاکرات ہوئے تھے، جن میں ٹی ٹی پی، پاکستانی حکام اور چینی نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ ان امن مذاکرات کے دوران پاکستانی فضائیہ نے افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر بمباری کا سلسلہ روک دیا تھا۔ چین میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس کے بعد حال ہی میں کابل میں وزارت داخلہ کے ہیڈکوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں افغان طالبان کی سینئر قیادت بشمول وزیر داخلہ کمانڈر جلال الدین حقانی نے شرکت کی۔ اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، جن کے مطابق افغان طالبان کے جنگجوؤں اور عام افغان شہریوں کو صرف علاج اور تجارت کی غرض سے پاکستان جانے کی اجازت ہوگی۔ اس کے علاوہ واضح ہدایت دی گئی کہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اس اجلاس کے بعد پاکستان کے ضلع باجوڑ سے افغانستان میں داخل ہونے والے ٹی ٹی پی کے درجنوں جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا گیا اور انہیں کنڑ کے راستے کابل منتقل کر دیا گیا۔ جب ٹی ٹی پی کی قیادت نے اس صورت حال پر افغان حکام سے رابطہ کیا تو انہیں دو ٹوک جواب دیا گیا کہ افغانستان اب کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے افغانستان میں موجود رہنماؤں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں فوری طور پر بند کریں اور یہ کہ اگر کوئی جنگجو پاکستان گیا تو اسے واپس آنے کی اجازت نہیں ہو گی اور اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔
ان سخت اقدامات کے باعث ٹی ٹی پی کے اندر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا کہ پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اس تناظر میں ایک ہفتہ قبل ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو خصوصی ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کریں، کیونکہ سرحدی علاقوں کے عوام مسلسل بدامنی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جلاس سے قبل ملا ہیبت اللہ اخونزادہ اور سراج الدین حقانی نے ہلمند کا مشترکہ دورہ بھی کیا، جہاں اس معاملے پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور قطر کی جانب سے بھی افغان قیادت پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اس مسئلے کے حل میں کردار ادا کریں۔ اس سے پہلے چین نے بھی واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ ٹی ٹی پی کا مسئلہ افغان حکومت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے، لہٰذا اس کے جنگجوؤں کو پاکستان میں میں داخلے سے روکا جائے۔ اسی پالیسی کے تحت ٹی ٹی پی کے کارندوں کو گرفتار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ابتدائی مرحلے مین ہیں اور مستقبل قریب میں افغانستان کے طالبان حکمران ٹی ٹی پی کے حوالے سے مزید سخت فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔
القاعدہ کے سربراہ کمانڈر سیف العدل ایران میں کیا کر رہے ہیں؟
دوسری جانب پاکستان نے بھی اپنی حکمت عملی واضح کرتے ہوئے تجارتی گزرگاہوں کو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے مشروط کر دیا ہے۔ علاقائی سطح پر بدلتی ہوئی صورت حال، ایران اور امریکہ کے درمیان امن کی کوششوں اور دیگر سفارتی عوامل کے باعث فی الحال پاک فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائیاں محدود کر دی گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں ایک نئے سیکیورٹی فریم ورک کی بنیاد رکھ سکتی ہے، بشرطیکہ تمام فریقین اپنے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
