ایران نے امریکہ کیساتھ دوبارہ مذاکرات سے انکار کیوں کیا؟

ایرانی قیادت نے صدر ٹرمپ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات سے صاف انکار کر دیا جس کے بعد امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان اور مذاکرات کا دوسرا راونڈ ملتوی کر دیے گے ہیں۔ صدر ٹرمپ جس شدت کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ کرنا چاہتے تھے اس کا اندازہ انکی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے یکطرفہ اعلان سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔
اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے نائب صدر کی قیادت میں مذاکراتی وفد پاکستان بھیج رہے ہیں، جو بدھ کو اسلام آباد پہنچ سکتا ہے۔ تاہم ایران نے اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت سے صاف انکار کر دیا تھا۔ ایرانی قیادت کا کہنا تھا کہ امریکہ نے مذاکرات کے لیے جو بے ہودہ شرائط عائد کی ہیں وہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے اور ویسے بھی ٹرمپ ناقابل اعتبار ہیں۔
ایرانی قیادت کے انکار سے پہلے ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعوی کیا تھا کہ ایران کے پاس امریکہ کیساتھ مذاکرات کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں لہٰذا جلد ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ اسکے ساتھ ہی انہوں نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ تاہم جب ایران نے امریکہ کیساتھ مذاکرات سے انکار کر دیا تو صدر ٹرمپ کو یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنا پڑا۔
مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری نے واضح کیا کہ تہران کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات نہیں کرے گا اور یہ مؤقف ایران کا اصولی اور نظریاتی مؤقف ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف نے بھی دو ٹوک انداز میں کہا کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں امریکی شرائط پر کسی قسم کے مذاکرات قبول نہیں کرے گا اور یہ بات مذاکرات کے پہلے راؤنڈ میں بھی واضح کر دی گئی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت کے مذاکرات سے انکار کی ایک بڑی وجہ امریکی کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق امریکہ کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز اقدامات، ایران کی بحری ناکہ بندی، تجارتی جہازوں پر حملے اور ٹرمپ کے متضاد بیانات سفارتی عمل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
خلیج عمان میں ایرانی پرچم بردار جہاز کے خلاف امریکی حملے نے صورتحال کو بگاڑنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ایران نے اس واقعے کو نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی بلکہ بحری قزاقی قرار دیتے ہوئے اس کا بھر پور جواب دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک سنگین تنازع بن چکا ہے۔ ایران اس اہم تجارتی گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ نے معاہدہ ہونے تک اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے، اس سے اعتماد کی فضا مزید متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی مطالبات میں اس کے اربوں ڈالرز کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اس پر عائد معاشی پابندیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ اگرچہ لبنان میں جنگ بندی کی شرط پوری ہو چکی ہے، تاہم دیگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کے باعث ایرانی قیادت ابھی تک مطمئن نہیں ہو پائی اور پاکستان آنے سے انکاری ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی داخلی سیاست بھی اس کی حکمت عملی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت کسی صورت یہ تاثر نہیں دینا چاہتی کہ وہ امریکہ کیساتھ مذاکرات کے لیے بے تاب ہے، کیونکہ اس سے داخلی سطح پر کمزوری کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز لب و لہجے اور بیک وقت دباؤ اور مذاکرات کی حکمت عملی نے ایرانی قیادت کو نالاں کر دیا ہے جسکے بعد وہ امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات کرنے سے انکاری ہے۔
ادھر ایرانی انکار کے بعد صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے جسکے بعد نائب امریکی صدر جےڈی وینس مذاکرات کیلئے پاکستان نہیں آئیں گے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے رابطوں کا جواب نہ دینے پر وائٹ ہاؤس نے امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس حوالے سے امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر جنگ بندی میں تب تک توسیع کررہے ہیں جب تک بات چیت کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا اور ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کرتا۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھے اور دوبارہ جنگ کے لیے بھی تیار رہے۔ ادھر جنگ بندی کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے سپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ یکطرفہ اعلان ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ شکست خوردہ امریکا کسی صورت ایران پر شرائط عائد نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحری ناکہ بندی بھی امریکی بمباری کے مترادف ہے جس کا جواب فوجی کارروائی کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی میں توسیع ایک چال بھی ہو سکتی ہے تاکہ ایران پر اچانک دوبارہ حملے کے لیے وقت حاصل کیا جا سکے، اس لیے ایران چوکنا رہے گا۔
تاہم اسلام آباد میں باخبر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام تر کشیدگی کے باوجود پاکستان کے ذریعے امریکی اور ایرانی قیادت کے مابین رابطے جاری ہیں اور یہ امکان موجود ہے کہ دونوں فریقین اگلے چند دنوں میں دوبارہ مذاکرات پر آمادہ ہو جائیں۔
